کورونا، یکساں پالیسی بنانے کا حکم، ہم آہنگی کے فقدان کی وجہ وفاق میں بیٹھے لوگوں کا ذاتی عناد ہے، لگتا ہے تمام ایگزیکٹو ناکام ہوگئے، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ آف پاکستان نے کورونا وائرس از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران وفاقی و صوبائی رپورٹس پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کورونا سے نمٹنے کیلئے وفاق اور صوبوں کو ایک ہفتے میں یکساں پالیسی بنانے کا حکم دیا ہے، عدالت نے خبر دار کیا کہ یکساں پالیسی نہ بنائی گئی تو عبوری حکم نامہ جاری کردینگے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کہیں شفافیت نہیں، لگتا ہے سارے کام کاغذوں میں ہو رہے ہیں، وفاق اور صوبائی حکومتوں کی رپورٹ میں کچھ بھی نہیں، کورونا اخراجات کے آڈٹ سے اصل بات سامنے آئیگی، صوبائی حکومتیں مرکز کو ٹیکس دینے والے کاروبار کیسے روک سکتیں ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ صدر،وزیر اعظم کے ارادے نیک ہونگے لیکن کچھ ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا،کوئی یکساں حکمت عملی نہیں ہے، ایک وزیر کچھ کہہ رہا ہوتا ہے تو دوسرا کچھ کہتا ہے۔صوبائی وزیر کا دماغ بالکل آئوٹ ہے، کہتا ہے وزیراعظم کیخلاف پرچہ درج کرائینگے ،وفاقی حکومت کی پالیسی صرف 25 کلومیٹر تک محدود ہے، ڈاکٹر اسرار احمد کی باتیں آج سچ ثابت ہو رہی ہیں، انہوں نے 20 سال پہلے آج کے حالات بتا دیئے تھے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ بظاہر لگتا ہے کہ تمام ایگزیکٹیو ناکام ہوگئے، وفاقی حکومت اور صوبوں کے درمیان تعاون نہ ہونے کی وجہ غرور اور انا ہے، ہم آہنگی کے فقدان کی وجہ وفاق میں بیٹھے لوگوں کی ذاتی عناد ہے، اس سے وفاق کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کوئی صوبہ پالیسی کیساتھ نہیں آیا، جس شعبہ سے ڈرتے ہیں اسے کھول دیتے ہیں، تاجروں کو کاروبار کی اجازت نہیں، مساجد کھول دی گئیں، 90 ؍ فیصد مساجد میں ریگولیشنز پرعمل نہیں ہو رہا،کیا اس سے کورونا نہیں پھیلے گا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیاسی معاملات سیاستدانوں کو حل کرنے دیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی معاملے میں نہیں پڑینگے، جبکہ جسٹس قاضی امین نے کہا کہ اموات پر سوال پوچھنا آئینی ذمہ داری، باہر کون کیا کہے لینا دینا نہیں۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے کورونا وائرس از خود نوٹس کیس کی سماعت کی تووفاق کی جانب سے اٹارنی جنرل، صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز، این ڈی ایم اے، وزارت صحت اور دیگرمتعلقہ محکموں کے حکام بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

اس موقع پر ریمارکس میں چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ٹیسٹنگ کٹس اور ای پی پیز پر اربوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں، ماسک اور دستانوں کیلئے کتنے پیسے چاہئیں، اگر تھوک میں خریدا جائے تو 2 روپے کا ماسک ملتا ہے، پتہ نہیں یہ چیزیں کیسے خریدی جارہی ہیں، لگتا ہے کہ سارے کام کاغذوں میں ہی ہورہے ہیں۔

جتنی سرکاری رپورٹس آئی ہیں ان میں کچھ بھی نہیں، یہ ادارے کر کیا رہے ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان کے استفسار پر ڈی سی اسلام آباد نے بتایا کہ حاجی کیمپ قرنطینہ مرکز این ڈی ایم اے نے بنایا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پاک چائنہ فرینڈ شپ سینٹر کا حال بھی حاجی کیمپ جیسا ہی ہے، پورے ملک میں حالات ابتر ہوتے جا رہے ہیں۔

سندھ حکومت کہتی ہے 150 فیکٹریوں کو کام کی اجازت دینگے، سمجھ نہیں آتی ایک درخواست پر کیا اجازت دی جائیگی، لاکھوں دکانیں ہیں ہر کوئی کام کیلئے الگ الگ درخواست کیسے دیگا؟ اجازت دینے والوں سے پولیس والے تک سب کو ہی کچھ دینا پڑتا ہے، جامع پالیسی بنا کر تمام فیکٹریوں کو کام کی اجازت ملنی چاہیے۔

وفاقی سیکرٹری صحت نے بتایا کہ ملک میں روزانہ ایک ہزار کورونا کیسز سامنے آ رہے ہیں، کورونا کیسز مثبت آنے کی شرح 10 فیصد ہے۔ صوبائی ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ پنجاب میں 37صنعتیں کھولی گئی ہیں۔

چیف جسٹس نے سوال اٹھایاکہ 37صنعتیں کھول دیں باقی صنعتوں کے ساتھ کیا مسئلہ ہے ؟ جسٹس قاضی امین نے پنجاب حکومت کے اقدامات سے متعلق رپورٹ پرایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے استفسار کیا کہ پنجاب سے متعلق جو آپ کاغذ پڑھ رہے ہیں حقیقت اس سے مختلف ہے، میں خود پنجاب کا ہوں، مجھے علم ہے وہاں صورتحال کیسی ہے۔پنجاب میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ الارمنگ ہے، صوبے میں کورونا وائرس کی مریضوں کے ساتھ اموات بھی بڑھ رہی ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ صوبائی حکومت کا اختیار اسی حد تک ہے جو آئین دیتا ہے، صوبائی حکومتوں نے کاروباری مصروفیات روک دیں، صوبوں کو ایسے کاروبار روکنے کا کوئی اختیار نہیں جو مرکز کو ٹیکس دیتے ہیں۔

امپورٹ، ایکسپورٹ، لمیٹڈ کمپنیز ،ہائی ویز اور ٹیکس کے معاملات وفاقی ہیں، صوبائی حکومت وفاق کے معاملات پر اثر انداز نہیں ہو سکتی، وفاقی حکومت کے ریونیو کا راستہ صوبائی حکومتیں کیسے بند کرسکتی ہیں؟ صوبائی حکومتیں پیسے مانگ رہی ہیں، اگر وفاق کے پاس فنڈز ہیں تو اسے دینے چاہئیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھاکہ چاروں صوبے اور آئی سی ٹی اپنی پالیسی سازی میں مکمل آزادہیں،کام کچھ نہیں کیا لیکن ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ صوبائی حکومت نے جو اقدامات اٹھائے ہیں وفاق سے تصدیق ضروری ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ سندھ حکومت نے لاک ڈاون کا فیصلہ 2014 کے قانون کے تحت کیا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ مسافر ایک صوبے سے دوسرے صوبے میں سفر کرنے کیلئے مال بردار ٹرک میں سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کورونا کی روک تھام سے متعلق اقدامات میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی ہو رہی ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سفید پوش افراد کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ یکساں پالیسی کیلئے ایک ہفتے کا وقت دیتے ہیں۔ اٹارنی جنرل کاکہنا تھا کہ وفاقی حکومت چاہتی ہے معاملات افہام و تفہیم سے حل ہوں، کورونا وائرس اس وقت اپنی پیک پر ہے۔

چیف جسٹس نے کہاکہ جس قیمت پر عوام کو سہولیات مل رہی ہیں وہ بھی دیکھیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ صدر مملکت اور وزیراعظم کے ارادے نیک ہونگے، لیکن کچھ ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا

Courtesy jang urdu