غزلیں اور نظمیں فراہم کرنے والا ادارہ!

”جناب والا! میں بچپن ہی سے اس نظریہ کا قائل ہوں کہ شعرا تین قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک پیدائشی شاعر، دوسرا موروثی شاعر اور تیسرا نمائشی شاعر۔

ان دنوں ہر طرف نمائشی شعرا کی بھر مار ہے جو کہیں سے غزلیں، سہ غزلیں لکھوا کر لاتے ہیں، انہیں مشاعروں میں پڑھ کر نام کماتے ہیں۔ چوں کہ میں ابتدا ہی سے پیدائشی شاعر رہا ہوں اس لیے میں نے یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ بڑا ہو کر ایک ایسی کمپنی قائم کروں گا جہاں سے نمائشی شعرا کو سستے داموں پر غزلیں اور نظمیں فراہم کی جائیں۔

چناں چہ میں نے نہایت قلیل سرمائے سے کمپنی کا آغاز کیا۔ میں نے ایک سیکنڈ ہینڈ قلم اور ایک سیکنڈ ہینڈ دوات خریدی اور مستقبل کی طرف روانہ ہوگیا۔

ابتدا میں میرا طریقہ کار یہ تھا کہ میں اپنے ہاتھ میں قلم پکڑ کر گلی گلی، آوازیں لگاتا پھرتا کہ ’غزل لکھوائیے، نظم کی اصلاح کروائیے۔ وہ دن میرے لیے سخت آزمائش کے تھے۔ جب ہر طرف پیدائشی شاعر نظر آیا کرتے تھے، لیکن رفتہ رفتہ نمائشی شعرا بھی نمودار ہونے لگے اور میرا کاروبار چل پڑا۔

آج اس کمپنی کا پروپرائٹر ہوں۔ اب چار پیدائشی شعرا کے علاوہ ایک میوزک ڈائریکٹر کی خدمات بھی حاصل کرلی ہیں۔ پھر میں نے اپنی کمپنی میں ایک نیا شعبہ بھی قائم کیا ہے جسے شعبہ سامعین کا نام دیا گیا ہے۔ اس شعبے کے ذمہ یہ کام ہے کہ وہ مشاعروں میں سامعین کو روانہ کرے اور کمپنی کی فراہم کردہ غزلوں پر کچھ ایسی داد دے کہ اچھے خاصے نمائشی شاعر پر ”پیدائشی شاعر“ کا گمان ہونے لگ جائے۔

چناں چہ میں فی سامع سواری خرچ کے علاوہ دو روپے چارج کرتا ہوں۔ میرا یہ شعبہ بھی دن دونی رات چوگنی ترقی کررہا ہے کیوں کہ مشاعرے زیادہ تر راتوں ہی میں منعقد ہوتے ہی