اَشوری کون تھے؟

اقوام اور تہذیبوں کے ہزاروں برس پر پھیلے سلسلے کو قدیم آثاروں کی دریافت کے بعد جب جاننے کی کوشش کی گئی تو ماہرین نے اپنے علم اور دورِ جدید کے آلات کی مدد سے ان کے دور کے سیاسی، سماجی حالات، رہن سہن اور طور طریقوں کے بارے میں‌ اندازہ لگایا اور قیاس کر کے تاریخ مرتب کی جس میں سے ایک اشوریہ تہذیب بھی ہے۔

آثار و تاریخ کے ماہرین کے مطابق اشوریہ کا زمانہ تقریباً دو ہزار برس قبل مسیح کا ہے۔ یہ شمالی عراق کے دریا دجلہ اور فرات کے وسط میں پھلنے پھولنے والی ایک تہذیب تھی جسے اس زمانے کے اشوریہ حکم رانوں اور سورماؤں نے عظیم سلطنت کے طور پر منوایا۔

اشوریہ کا دورِ عروج آیا تو یہ مصر، شام، لبنان، آرمینیا اور بابل تک پھیل گئی۔ ماہرین کے مطابق اس تہذیب نے شہر اشور کو اپنا مرکز بنایا ہوا تھا اور اسی نسبت سے بعد میں یہ اشوریہ سلطنت مشہور ہوئی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یہ تہذیب خاصی زرخیز اور تمدن سے آشنا تھی۔ اپنے مذہبی عقائد کے مطابق اشوریوں نے معبد اور دیگر عمارتیں بھی تعمیر کی تھیں۔

شاہِ اشور بنی پال کے اس دنیا سے جانے کے بعد یہ سلطنت زوال کی طرف بڑھی اور کہتے ہیں کہ اہلِ بابل نے انھیں نینوا سے نکال کر خود اس پر قبضہ کرلیا اور پھر اشوری سلطنت کا خاتمہ بھی کر دیا۔

ماہرین نے قدیم آثار اور اشیا کی مدد سے جانا کہ اشوری علوم و فنون کے دل دادہ تھے۔ ان میں‌ غاروں کی دیوارں، چٹانوں پر مختلف جانوروں، جنگجوؤں اور اشیا کی تصاویر، مجسمے وغیرہ شامل ہیں۔ اس تہذیب کے کھنڈرات بتاتے ہیں کہ اس زمانے میں‌ شاہِ اشور کے کہنے پر کتب خانے بھی بنائے گئے جن میں مذہب، تاریخ، جغرافیہ اور دیگر موضوعات پر کتابیں موجود تھیں۔

ہزاروں برس پہلے کے کتب خانوں میں کاغذی کتابیں‌ نہیں‌ تھیں بلکہ اس زمانے میں عالم اور قابل شخصیات اپنی تحقیق، مشاہدات اور تجربات کو کچی مٹی سے بڑی بڑی تختیوں پر تصویری شکل میں محفوظ کرواتے تھے۔ ان تختیوں یا لوحوں پر قدیم سومیری دور کی طرح علامتوں، مختلف اجسام کی اشکال اور اشاروں کے ساتھ ان لکیروں سے مختلف معلومات محفوظ کی جاتی تھیں، جنھیں اس دور میں آج کی طرح الفاظ اور زبان کا درجہ حاصل تھا اور وہ سمجھی اور پڑھی جاسکتی تھی