سندھ حکومت گندم خریداری کے حوالے سے جو کچھ کرتی آئی ہے، اس کا کچا چٹھا نیب کی رپورٹ نے کھول دیا ہے۔

برس ہا برس سے سندھی کاشتکاروں کے ساتھ گزشتہ ایک دہائی سے سے پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت گندم خریداری کے حوالے سے جو کچھ کرتی آئی ہے، اس کا کچا چٹھا نیب کی رپورٹ نے کھول دیا ہے۔

ہر سال سندھ کا فوڈ ڈیپارٹمنٹ سرکاری ریکارڈ کے مطابق کاشتکاروں سے 1300 روپے فی 40 کلو بوری کے حساب سے گندم خریدتا ہے۔

خریداری کا پراسیس باردانہ بوری سے شروع ہوتا ہے۔ 100 کلو گندم سٹور کرنے والی بوری کی سرکاری قیمت 125 روپے مقرر کی جاتی ہے۔

محکمہ فوڈ صرف سرکاری طور پر جاری کردہ باردانہ بوریوں میں ہی گندم خریدتا ہے، اس لئے کاشتکاروں کیلئے یہ بوری خریدنا لازمی ہوتا ہے۔

ہر سال پیپلزپارٹی کی حکومت لاکھوں بوریاں تیار کرواتی ہے اور اپنے ہر ایک رکن اسمبلی کو مفت پانچ ہزار بوریاں بطور سیاسی رشوت کے دے دیتی ہے۔

اس کے بعد باقی بچنے والی بوریوں کو بجائے کاشتکاروں کو بیچنے کے، اپنے مڈل مین اور ایجنٹوں کو بیچ دی جاتی ہیں۔

یہ مڈل مین کاشتکاروں سے بارگین کرتے ہیں اور بلیک میل کرکے بجائے 1300 روپے کے سرکاری نرخ پر گندم خریدنے کے، کسانوں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان سے 1050 روپے فی بوری گندم خرید لیتے ہیں۔

خریداری اس شرط پر کی جاتی ہے کہ یہ بوریاں محکمہ خوراک کے پروکیورمنٹ سنٹر ڈیلیور کرنے کی بجائے ان کی بتائی ہوئی فلور ملوں میں براہ راست ڈیلیور کی جائیں اور اس کیلئے کاشتکاروں کو اضافی ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات بھی ادا نہیں کرتے۔

پھر یہ مڈل مین کاشتکار کے روپ میں سندھ محکمہ خوراک کو فی بوری 1300 روپے کے حساب سے بیچ دیتے ہیں، یعنی فی بوری ڈھائی سو روپے کمیشن۔ یہ رقم سندھ حکومت، محکمہ خوراک اور مڈل مین کے درمیان تقسیم ہوجاتی ہے۔

صرف یہی نہیں، مڈل مین گندم کی ان بوریوں کو فلور ملوں میں ڈیلیور کرنے کے اضافی سو روپے فی بوری محکمہ خوراک کو چارج کرتے ہیں اور محکمہ خوراک والے سرکاری خزانے سے ٹرانسپورٹیشن کے چارجز ادا کردیتے ہیں جو کہ ایک مرتبہ پھر آپس میں تقسیم ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ یہ بوریوں تو پہلے ہی کسانوں کی جیب سے فلور ملوں میں پہنچ چکی ہوتی ہیں۔

سندھ کے دس اضلاع میں کی گئی تحقیقات کے مطابق کم و بیش دس ارب روپے کا چونا پیپلزپارٹی کی حکومت نے گندم سکینڈل میں لگایا۔

اس سارے کھیل میں سندھی کاشتکار نقصان میں رہا جو نہ صرف ڈھائی سو روپے کم قیمت میں فی بوری بیچنے پر مجبور ہوا، بلکہ اضافی ٹرانسپورٹیشن کا خرچہ بھی اٹھانے پر مجبور ہوا۔

عوام کے ٹیکسوں کی کمائی سے ٹرانسپورٹیشن کے نام پر سرکاری خزانے سے مزید رقم نکال کر اپنی جیبوں میں ڈالی گئی۔

یہ ابھی اس دیگ کا صرف ایک دانہ ہے جو پیپلزپارٹی پچھلے بارہ برسوں سے مسلسل تیسری حکومت میں پکا رہی ہے۔

یہ سکینڈل آپ کو نہ تو اردو اخبارات میں ہائی لائٹ ہوا ملے گا، نہ ہی اس پر لفافے اینکروں کے پروگرام ہوں گے، نہ ہی پٹواری، جموتی، فضلانڈو اور نیوٹرل اس پر کوئی آواز اٹھائیں گے۔

یہ چو مکھی جنگ صرف اور صرف ہمیں ہی لڑنی ہے۔ ہمیں بیک وقت ان تمام کرپٹ جماعتوں کے خلاف جدوجہد کرنی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے حرامزادے سپورٹروں کو بھی سوشل میڈیا پر جواب دینا ہے۔

ہمارے پاس یہ جنگ ہارنے کی گنجائش نہیں۔ ہمیں یہ جنگ ہر حال میں جیتنی ہے ورنہ باردانے کی یہ بوریاں آپ کی آئیندہ آنے والے نسلوں کا کفن بن جائیں گی!!!