آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی منافع خوری

قومی آزمائشوں کے دوران گروہی مفادات کو قومی مفاد کے تابع رکھنا معاشرے کے ہر طبقے کا فرض ہوتا ہے لیکن انہیں ناجائز فائدہ اٹھانے کا سنہری موقع سمجھنے والے بدترین حالات میں بھی دوسروں کے نقصان کی قیمت پر ناجائز فوائد سمیٹنے سے باز نہیں آتے۔ ایسی ہی ایک مثال مبینہ طور پر ناجائز منافع کے حصول کے لیے ملک کی بعض آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے اقدامات کی شکل میں سامنے آئی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق عین گندم کی کٹائی کے موسم میں ملک بھر میں اہم پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کا نظام بری طرح متاثر ہوا کیونکہ حکومت نے تیس اپریل کو تیل کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ سرکاری ٹیکسوں کی شرح میں اضافے کا جو اعلان کیا تھا، اس کی وجہ سے ان کمپنیوں نے اپنا منافع بڑھانے کے حربے کے طور پر سپلائی چین میں خلل ڈالا۔ ماہِ رواں کے پہلے تین دنوں میں صارفین کو تیل کی قلت کا سامنا رہا جبکہ قیمتوں میں کمی، لاک ڈاؤن میں نرمی اور زرعی شعبے کے لیے تیل کی ضرورت میں اضافے کے باعث تیل کی مجموعی طلب معمول سے بہت زیادہ رہی۔ بعض آئل کمپنیوں نے اپریل کے آخری دنوں میں درآمد شدہ تیل پر ٹیکس سابقہ شرح سے ادا کیا لیکن یکم مئی سے تیل کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ ٹیکسوں میں اضافے کے حکومتی فیصلے کا پتا سرکاری مشینری میں موجود اپنے مخبروں کے توسط سے پہلے ہی چل جانے کے سبب اپنا بیشتر اسٹاک مارکیٹ میں لانے سے گریز کیا اور سپلائی چین میں تین ہفتے کا اسٹاک رکھنے کی پابندی پر عمل کے بجائے اسے دو تین دن تک محدود کردیا۔ پاکستان اسٹیٹ آئل نے حکومت سے متعلقہ کمپنیوں کی اس بظاہر دانستہ کوتاہی پر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کا جواز بالکل واضح ہے لہٰذا حکومت کو نہ صرف پورے معاملے کی تحقیقات کرکے متعلقہ کمپنیوں کے خلاف قرار واقعی اقدام کرنا چاہئے بلکہ ان کے سہولت کار سرکاری اہلکاروں کو بھی مناسب سبق سکھانا چاہئے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو
Jang-editorial