نئے وزیر اطلاعات شبلی فراز کے ساتھ بھی ہاتھ ہوگیا ؟

ابھی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد اپنے اوپر اشتہارات میں کمیشن لینے کے الزامات کی صفائی ہی دے رہی تھیں کہ وزارت اطلاعات میں نئے وزیر اطلاعات شبلی فراز کے ساتھ بھی ہاتھ ہونا شروع ہوگیا ہے

۔دلچسپ بات ہے کہ نئے وزیراطلاعات شبلی فراز نے قومی اخبارات کو اشتہارات دینے کی پالیسی کے ساتھ ساتھ ریجنل اخبارات کو سرکاری اشتہارات دینے کے 25 فیصد کوٹہ طے کرنے کے معاملے پر ایک اجلاس بلایا لیکن اس سے پہلے ہی ان کی وزارت کے باکمال لوگوں نے اپنا کام دکھا دیا گزشتہ رات جو اشتہارات جاری کئے گئے ان کی تفصیلات کا جائزہ لیا جائے

تو یہ بات خود بہت سامنے آجاتی ہے کہ قومی اخبارات اوریجنل اخبارات کے ساتھ حکومت پاکستان کی وزارت اطلاعات کا رویہ کیسا ہے ریجنل اخبارات کو حکومت پاکستان کی وزارت اطلاعات کے افسران نے سوتیلے اخبارات کی حیثیت دے رکھی ہے اور ان کو اشتہارات دینے کی مد میں مسلسل نظر انداز کیا جاتا ہے جبکہ چند من پسند اخبارات پر ساری نوازشات کی جاتی ہیں یہی وہ صورتحال ہے جو ماضی میں بھی مختلف وزرہ اطلاعات کے سامنے پیش کی جاتی رہی ایک طرف بڑے اخبارات اپنے ساتھ ہونے والے مسائل پیش کرتے ہیں تو دوسری طرف ریجنل اخبارات کا برا حال ہے اور ان کے جائز مطالبات کی شنوائی نہیں ہوتی اور ہر مرتبہ انہیں تسلی دی جاتی ہے لیکن ان کے آنسو بھی نہیں پونچھے جاتے ۔ریجنل اخبارات انتظار کر رہے ہیں کہ شبلی فراز کے دور میں ان کے ساتھ حالات بہتر ہونگے اور ماضی کی زیادتیوں اور ناانصافیوں کا ازالہ کیا جائے گا ۔دیکھنا یہ ہے کہ نئے وزیر اطلاعات شبلی فراز اپنے دعووں کا کتنا پاس رکھتے ہیں ۔