صدا ئےبلوچستان

صدا ئےبلوچستان !

بلوچستان میں محکمہ صحت کورونا وائرس کے حوالے کتنا الرٹ ہے،، اس کا اندازہ اس سے لگائیں کہ مریض کے ٹیسٹ کے دس روز بعد اسے بتایا جاتا ہے کہ آپ کا رزلٹ پازیٹو ہے اور آپ فوراً آئسولیشن میں چلے جائیں ،،،

دس روز میں کیا اس نے اپنے اہل خانہ، دوست، احباب اور باہر چلتے پھرتے لوگوں کو ایفکٹ نہیں کیا ہوگا ؟؟؟؟لاک ڈاؤن کی انتظامیہ اور ہماری حکومت کتنی پابندی کر رہی ہے وہ سب کے سامنے ہے ،،، صوبے میں ہیلتھ مشینریز کی سخت قلت ہے ،،،، کورونا وائرس کے دوران ڈیڑھ ارب روپے کے فنڈز صرف پی ڈی ایم کو دئے گئے ،،،اس کو اتنی خطیر رقم دینے کی کیا ضرورت تھی،،،،

اس کے بجائے حکومت لیبارٹریز کی استعداد بڑھاتی ہسپتالوں میں تو بہتر نہ ہوتا؟؟؟ ،،،اس وقت پورے شہر میں لوگ زہنی ازیت سے دوچار ہیں کیا حکومت نے پی ڈی ایم کی جانب سے غیر معیاری ماسک اور دیگر سامان خریدنے کا نوٹس لیا؟؟؟؟ ۔۔حالت تو یہ کہ ہسپتالوں میں ہمارے پاس ابھی تک وینٹی لیٹرز نہیں پہنچے،،، پرانے وینٹی لیٹرز چلنے کے قابل نہیں۔ دو ماہ سے زائد کا عرصہ ہوگیا ہے کورونا وائرس سے بچاؤ اور اس کی تیاریوں کے دعووں کو صرف سوشل میڈیا اور پریس بریفنگ میں” آل از ویل” کے ساتھ ہمارے کرتادھرتا دیکھائی دے رہے ہیں البتہ زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں ،،، محکمہ صحت کی کارکردگی پر صوبے کے عوام پہلے ہی “نوحہ کناں “تھے رہی سہی کسر اس وبائی مرض کے بعد پوری ہوگی محکمہ صحت مریضوں کے لئے کیا وینٹی لیٹرز فراہم کرے گا ,,,اسے تو خود وینٹی لیٹر کی ضرورت ہمارے حکمرانوں نے ان حالات میں بھی کوئی سبق نہ سیکھا تو پھر ہم سب کا اللہ ہی نگہبان !