نئے ورلڈ آرڈر کے کنگ میکر ؟

    نئے ورلڈ آرڈر کے کنگ میکر ؟  قادر خان یوسف زئی
 11ستمبر2011کے واقعے، سارس وائرس اور عراق جنگ کے بعد دنیا کو کرونا وائرس سے شدید تباہ کاری کا سامنا ہے۔ کرونا وائرس توقعات کے برعکس موسم کی تبدیلی کے باوجود ختم نہیں ہوسکا۔کرونا وبا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں کمی نہ آنے سے نادیدہ خوف میں اضافہ ہورہا ہے۔ بالخصوص خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ کرونا وائرس کی تباہ کاریوں کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہ سکتا ہے جب تک ویکسین تیار نہیں کرلی جاتی، ویکسین کی تیاری و کامیابی میں طویل وقت کی دقت نے دنیا بھر کی معیشت کو تباہی سے دوچار کردیا ہے۔ اس وقت کرونا وبا سے ہونے والے نقصانات کا حتمی تخمینہ نہیں لگاجاسکتا کیونکہ کرونا کے خاتمے کے آثار ابھی تک سامنے نہیں آئے۔تاہم ایک اجمالی جائزے کے تحت آئل انڈسٹری تباہی کے دھانے پر پہنچ چکی ہے، زیر زمین قدرتی خزانے اب ان کے لئے پریشانی کا سبب بن گئے ہیں، تیل پیدا کرنے والے ممالک کے پاس آئل ذخیرہ کرنے کی گنجائش ختم ہونے کے علاوہ خریدار بھی نہیں ہیں، امریکا سمیت تیل نکالنے والے ممالک بدترین بحران کا شکار ہیں، بالخصوص جن ممالک کا انحصار تیل مصنوعات پر ہے، انہیں مستقبل میں اپنی معاشی پیداوار کو بحال کرنے کی طویل جنگ سے گذرنا ہوگا۔ آئل انڈسٹری اس وقت مکمل طور پر خاتمے کے قریب ہے کیونکہ دنیا میں کرونا وائرس سے متاثرہ ممالک کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے معاشی و سیاحتی سرگرمیاں بند ہوچکی ہیں، جزوی لاک ڈاؤن کا آغاز شروع ہوچکا ہے، لیکن اس خطرے کا اندیشہ ہے کہ جزوی لاک ڈاؤن اُس وقت تک کارگر ہوگا جب تک دوسرے ممالک سے افراد نہ آئیں، کیونکہ تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے کہ کرونا وائرس اپنی ہیت تبدیل کرکے مزید شدت سے دوبارہ حملہ آور ہوسکتا ہے۔ آئل انڈسٹری کے تقریباََ خاتمے کے ساتھ سیاحت کو سب سے زیادہ نقصان کا سامنا ہے، کرونا وبا کے پیش نظر سیاحت کے لحاظ سے اہم ممالک کو سیاحوں کی کمی کا بدترین سامنا رہے گا،۔عالمی جریدے بلوم برگ کے مطابق ائیرلائنز ٹکٹوں کی فروخت میں اربوں ڈالر کی کمی آئی ہے۔ اس کے علاوہ سیاحت میں کمی سے 14 ممالک کو نقصان کا سامنا ہے۔ ان ممالک میں فلپائن، تھائی لینڈ، یونان، پرتگال، نیوزی لینڈ، ترکی، مصر، ہانک کانگ، میکسیکو اور آسٹریا، اسپین، اٹلی، ملیشیا، اور چین شامل ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کرونا وائرس سے چین میں 85 فیصد ہوٹل خالی پڑے ہیں، اس کے علاہ ہانگ کانگ میں 74 فیصد، سنگاپور میں 49 فیصد، ساوتھ کوریا میں 34 اور تھائی لینڈ میں 31 فیصد ہوٹلز خالی ہیں۔ مستقبل میں کرونا وبا کے خاتمے کے بعد بھی کرونا کے خوف کے پیش نظر سیاحوں کی کمی سے سیاحت انڈسٹری کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے، جس کی بحالی کا کوئی ٹائم فریم نہیں ہے، جس سبب تحفظات ہیں کہ سیاحت پر انحصار کرنے والے ممالک کو بدترین مالی خسارے کا سامنا رہے گا اور بڑے پیمانے پر بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہوگا۔ مستقبل کے منظر نامے میں ایوسی ایشن انڈسٹری کو بدترین بحران کا سامنا ہے، کیونکہ نقل حرکت کی کمی و حفاظتی اقدامات کی وجہ سے ہوابازی کی صنعت کی بحالی کا بھی جلد امکان نظر نہیں آتا۔ کرونا وبا کے خاتمے کے باوجود بھی سیاحوں و عوام کے سفری منصوبے کب تک بحال ہوسکیں گے اس پر بھی کوئی حتمی اندازہ نہیں لگایا جارہا، ٹریول ایجنسیوں، ہوٹل انڈسٹری و مقامی سیاحت کی قدرتی بندش کی باعث دنیا کا نیا منظر نامہ سامنے آرہا ہے جس میں آنے والے دنوں میں دنیا کرونا کو احتیاطی تدابیر کے ساتھ رہن سہن کو اپنانے کے لئے تیار کرنا ہوگا۔ دنیاکوکرونا وبا کے اثرات سے نکلنے میں دشواریوں کا سامنا رہے گا۔ کرونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر بے روزگاری نے سر اٹھایا ہے، لاکھوں کی تعداد میں محنت کش تیزی سے بے روزگار ہو رہے ہیں، متبادل روزگار کے مواقع نہ ملنے کے سبب ایک ایسا انسانی بحران بھی جنم لے سکتا ہے جس کے باعث ترقی پزیر ممالک کو بدترین دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے۔تاہم ترقی یافتہ ممالک کو بھی بے روزگاری و مہنگائی کا سامنا ہے، صرف امریکا میں مجموعی طور پر کرونا لاک ڈاؤن کے دوران بے روزگار ہونے والوں کی تعداد 2 کروڑ 65 لاکھ سے زائد ہو چکی ہے۔امریکی محکمہ لیبر کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے جب ہنگامی حالت کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد سے ہر ہفتے لاکھوں افراد ملازمتوں سے محروم ہو رہے ہیں۔ لاک ڈاؤن کے پہلے ہفتے میں 33 لاکھ، دوسرے میں 69 لاکھ، تیسرے میں 66 لاکھ اور چوتھے میں 52 لاکھ افراد بیروزگار ہوئے تھے۔ امریکہ میں 2008 کے معاشی بحران کے بعد 10 سال میں روزگار کے دو کروڑ 28 لاکھ مواقع پیدا ہوئے تھے۔ لیکن اب چند ہفتوں میں بیروزگار ہوجانے والوں کی تعداد ان سے زیادہ ہوگئی ہے اور برسوں کی معاشی ترقی صفر ہو گئی ہے۔امریکہ میں لاک ڈاؤن کے دوران بے روزگاری کے حوالہ سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیروزگار ہونے والوں کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہے کیونکہ محکمہ محنت کے اعداد و شمار میں وہ لاکھوں لوگ شامل نہیں جو مختلف وجوہ سے بیروزگاری الاونس کے اہل نہیں ہیں ہیں،امریکہ میں لاکھوں تارکین وطن ایسے ہیں جن کے پاس قانونی دستاویزات نہیں۔ بنگلہ دیش میں کپڑوں کی صنعت کورونا وائرس کی وبا کے باعث بحران کا شکار ہے اور خدشات ہیں کہ اس شعبے سے منسلک 40 لاکھ ملازمتوں میں سے نصف ختم ہو سکتی ہیں۔کپڑوں کی صنعت بنگلہ دیشی معیشت میں ریڑھ کی حیثیت رکھتی ہے۔ 40 لاکھ لوگوں کی ملازمتیں اس سے وابستہ ہیں جن میں اکثریت خواتین کی ہے۔تحقیق میں کہا گیا کہ جب آرڈر منسوخ کیے گئے تو 72.1 فیصد خریداروں نے خام مال (کپڑے وغیرہ) کی ادائیگی کرنے سے انکار کر دیا جو کہ فراہم کنندہ ادارہ خرید چکا تھا، اور 91.3 خریداروں نے تیاری پر ہونے والے اخراجات ادا کرنے سے انکار کر دیا۔بنگلہ دیش کی حکومت اپنے ملازمین کو تین ماہ کی تنخواہ اڈوانس دینے جارہی ہے، اپریل، مئی اور جون مہینے کی تنخواہ دی جائے گی۔ رقم براہ راست ملازم کے بینک اکاؤنٹ میں چلی جائے گی۔قرض کی شکل میں تقسیم کی گئی پوری رقم ملازمین کو دی جائے گی۔ ایڈوانس تنخواہ 2 فیصد سود کیساتھ قرض کی صورت دی جائے گی جس کی دو سال کے اندر واپسی ہوگی جو کہ 6 ماہ کی مہلت سے شروع ہوگی.واضح رہے کہ اس اقدام کو اپنے شہریوں کے حوالے بہت اہم سمجھا رہا ہے۔دنیا بھر میں اس وقت معاشی بحران کا سا سماں ہے جہاں بعض حکومتیں اپنے شہریوں کو بہتریں سہولیات دے کر بحران سے واپس نکالنے کیلیے کوشاں ہے۔ کرونا وبا کے باعث پاکستان بھی متعدد بحرانوں کا شکار ہے، پاکستان سٹاک ایکس چینج میں رجسٹرڈ لارج سکیل مینوفیکچرنگ کمپنیوں میں سے 60 فیصد سے زائد کمپنیاں اس وقت مکمل بند ہیں اور باقی چالیس فیصد میں جزوی طور پر کام جاری ہے۔ مکمل طور پر بند کمپنیاں آٹو، ٹیکسٹائل، انجنیئرنگ وغیرہ کے شعبوں سے متعلق ہیں۔پاکستان میں منصوبہ بندی کی وزارت کے ذیلی ادارے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس نے کورونا وائرس کی وجہ سے معاشی سرگرمیوں پر منفی اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے ایک کروڑ سے زائد افراد کے بیروزگار ہونے کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والے معاشی بحران سے لاکھوں افراد کے بیروزگار ہونے کے خدشات کے بارے میں بات کرتے ہوئے پاکستان کے سابق وزیر خزانہ اور ماہر معیشت ڈاکٹر حفیظ پاشا کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کی وجہ سے ملک میں ایک خوفناک معاشی منظر نامہ جنم لے رہا ہے۔ دنیا بھر میں کرونا وبا سے تمام ممالک کو بحرانوں کا سامنا ہے۔ ان بحرانوں سے نکلنے کے لئے ایک نئے سوشل و تجارتی معاہدے کی ضرورت ہوگی اور نئے عمرانی معاہدے کے تحت دنیا کا ایک نیا معاشی نقشہ ابھر کر سامنے آئے گا۔ ایسے ممالک جو اس بحران کو کسی نہ کسی طور برداشت کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں وہ نئے ورلڈ آرڈر کے کنگ میکر بن سکتے ہیں، عالمی انسانی بحران سے نکلنے کے لئے دنیا کے تقریباََ تمام ممالک کو ایک ایسے نئے ورلڈ آرڈر کے تحت چلنا ہوگا، جہاں ان کی اپنی خود مختاری و آزادی مشروط پیمانوں پر چلنے پر مجبور ہوسکتی ہے۔ کرونا وبا کے خاتمے کا امکان کا جس طرح کوئی اندازہ نہیں،ایسی طرح کرونا کی وجہ سے دنیا کو آنے والے دنوں میں جن مشکلات اور چیلنجوں کا سامنا ہوگا، اس کے دور رس اثرات سے بچنا انتہائی دشوار گذار عمل ہے،جس سے دنیا کو گذرنا ہوگا۔