کراچی کے شہری سندھ حکومت اور وفاق اور سندھ کی لڑائی سے بیزار

یاسمین طہٰ -کرونا کے حوالے سے کراچی کے شہری  سندھ حکومت اور وفاق اور سندھ کی لڑائی سے بیزار ہوچکے ہیں اور  چاہتے ہیں کہ  کراچی کی تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کے حوالے سے حکومت  واضع موقف  اختیار کرے۔سندھ حکومت پر مسلسل تنقید کے جواب میں بلاول زرداری نے عمران خان سے  استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس کے بحران میں وفاقی حکومت صوبوں کا ساتھ نہیں دے رہی۔صوبہ سندھ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو صوبہ سب سے زیادہ اقدامات کر رہا ہے اس کا ساتھ دینے کے بجائے اسے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بلاول کے بقول ابھی تک وفاق نے ٹیسٹنگ، صحت اور معیشت کی بہتری کے حوالے سے سندھ کو ایک روپیہ تک نہیں دیا ہے، 90 فیصد کام وہ خود کر رہے ہیں۔بلاول زرداری کو یہ بات زہن نشن کرلینی چاہئے کہ اٹھارویں ترمیم کے تحت شعبہ صحت سندھ کی زمہ داری ہے،اس لئے صوبے کے تمام ہیلتھ ایشوز بشمول کرونا پر قابو پانا صوبائی حکومتوں کی زمہ داری ہے اور بلاول کو چاہیے کہ اپنے رہنماؤں کو بھی زبان پر قابو رکھنے کا مشورہ دے۔حال ہی میں   پی پی پی کے سینئر رہنما نثار کھوڑو کے متعصبانہ بیان پر کراچی کے باسیوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے ،جس میں انھون نے  عمران اسماعیل کو طعنہ دہا ہے کہ وہ سندھ کا کھاتے ہیں۔ان کے اس  بیان کے بعد کراچی کے لاک ڈاؤن کے حوالے سے   وزیر اعلی ٰہاؤس سندھ میں صدر مملکت عارف علوی کی صدارت میں ہونے والا اہم اجلاس ملتوی کردیا گیا،اس طرح   سندھ اور وفاقی حکومت میں اختلافات کی خلیج میں اضافہ ہوگیا ہے،کرونا اور 18ویں ترمیم کے معاملے پر پی ٹی ؤٗی اور پی پی پی میں  بیان بازی کا سلسلہ جاری تھا  کہ پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو کے وزیر اعظم اور گورنر سندھ کو جاہل کہنے والے  بیان نے  کر جلتی پر تیل کا کام کیا۔ ذرائع کا کہنا  ہے کہ نثار کھوڑو کے بیان کے بعد ہی  وزیراعظم عمران خان نے صدرمملکت عارف علوی کو وزیراعلی ہاؤس سندھ جانے سے منع کردیا۔ ادھر مبصرین سندھ میں لاک ڈاؤن کو سیاسی گیم قرار دے رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے نیب اختیارات کے حوالے سے جو آرڈینینس پاس کیا ہے اس سے اس بات کو تقویت پہنچتی ہے،واضع رہے کہ  حکومت نے نیب اختیارات میں کمی کا فیصلہ کرتے ہوئے اس سے متعلق نئے ترمیمی آرڈیننس کا مسودہ بھی تیار کرلیا، جس کے تحت 50 کروڑ سے کم کی کرپشن پر نیب کارروائی نہیں کر سکے گا،منتخب نمائندوں کا ٹرائل بھی اسی صوبے میں ہوگا جہاں سے وہ الیکشن جیتیں گے، کرپٹ افراد سزا کے بعد بھی پلی بارگین کر سکیں گے،نئے نیب آرڈیننس پرحکومت اپوزیشن سے مشاورت کرے گی۔اورچیئرمین نیب سے ملزمان کی گرفتاری کا اختیار واپس لے لیا جائے گا جب کہ ملزمان کو 90 دن حراست میں رکھنے اور کسی مقام کو سب جیل قرار دینے کا اختیار بھی ختم کردیا جائے گا۔ نیب 5 سال سے زائد پرانے کھاتے بھی نہیں کھول سکے گا جب کہ ٹیکس اور لیوی کے ایشوز بھی نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں ہوں گے ۔ وزیراعلیٰ سندھ کی کراچی میں جزوی کاروبار کی اجازت کے بعد اچانک یہ فیصلہ واپس لے لیا گیاجس سے کراچی کے عوام شدید کنفیوژن کا شکار ہیں۔ادھر اس فیصلے سے اس قیاس آرائی نے بھی دم توڑ دیا ہے کہاسٹیبلشمینٹ  کراچی کا لاک ڈاؤن کو ختم کرنا چاہتی ہے۔واضع رہے کہ یہ قیاس آرائیاں کی جارہی تھی کہ   مقتدر قوتیں  کراچی کا لاک ڈاؤن  فوری طور پر ختم کرانا چاہتی تھی تاکہ کراچی کی کاروباری سرگرمیاں بحال ہوسکے۔جب کہ اصل صورت حال یہ ہے کہ  اسٹیبلشمینٹ کا لاک ڈاؤن کے حوالے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔اور نہ  ہی زرداری کے مقدمات  سے انھیں کوئی سروکار ہے کیوں کہ  ملک کے سیاسی معاملات سے ان کا دور کا بھی واسطہ نہیں ہے اور نہ ہی طبی معاملات میں ان کا کوئی عمل دخل ہے۔اور کرونا ایک خالص طبی معاملہ ہے۔ گذشتہ ہفتے حکومت سندھ کے کاروبار کھولنے سے متعلق ایس او پیز کا نوٹی فیکیشن جاری ہونے کے باوجود کراچی میں کاروباری سرگرمیاں مسلسل بند رہیں۔تاجروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے آن لائن کاروبار کرنے کی اجازت دی ہے جو چند ایک کاروباروں کے علاوہ کہیں قابل عمل نہیں۔کراچی کی تاجر تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومتی ضابطوں کے تحت کاروبار نہیں چلایا جا سکتا،، انھوں نے کہاکہ 90 فیصد ریٹیلر آن لائن کاروبار کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، آن لائن کاروبار کرنے والے تاجروں کی تعداد محدود ہے۔جب کہ  سندھ حکومت نے مزید 153 فیکٹریوں کو کام کرنے کی اجازت دے دی ہے۔  اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیاہے۔ جن شعبہ جات کی فیکٹریوں کو کام کی اجازت دی گئی ہے ان میں گارمنٹس، ٹیکسٹائل،اور  لیدر گارمنٹس کی فیکٹریاں شامل ہیں جس کے بعد لاک ڈاؤن سے استثنیٰ حاصل کرنے والی برآمدی صنعتوں کی تعداد373  ہوچکی ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق فیکٹریوں کو سماجی فاصلوں کے ایس او پیز پر عمل کرنا لازمی ہوگا۔سندھ کابینہ نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر عائد جرمانے کی رقم کو 5000 روپے تک بڑھانے کی تجویز دے دی۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں تجویز پیش کی گئی کہ تیز رفتاری سے موٹر سائیکل چلانے پر جرمانے کی رقم  500 روپے،کار/جیپ/پی ایس ایل وی/ایل ٹی وی کے لیے ایک ہزار روپے جبکہ ایچ ٹی وی کے لیے جرمانہ 1500 روپے کرنے کی تجویز دی گئی۔ساتھ ہی کابینہ نے زیادہ مسافر بٹھانے پر پبلک سروس وہیکل کے لیے مقررہ جرمانے کی رقم کو 300 روپے سے بڑھا کر ایک ہزار روپے کرنے کی بھی تجویز دی۔اسی طرح ٹریفک سگنلز کی خلاف ورزی پر مختلف گاڑیوں کے لیے مقررہ جرمانے کو 400 روپے سے بڑھا کر 2 ہزار سے 5 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کا جرمانہ اتنا زیادہ ہو تا کہ دیتے ہوئے تکلیف ہو جب ادائیگی سے تکلیف پہنچے گی تو قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہوگی۔سندھ کابینہ نے صوبے میں کرونا وائرس کے پھیلؤ سے پیدا شدہ صورت حال سے نمٹنے کے لئے آرڈیننس تیار کر کے منظوری کے لئے گورنر کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔صوبائی مشیر قانون اور ترجمان سندھ حکومت مرتضی وہاب کے مطابق کرونا ایمرجینسی ریلیف آرڈیننس کے تحت وائرس سے متاثرہ طبقات کو سماجی اور معاشی کاروباری ریلیف ملے گا۔آرڈیننس کے تحت پانی، بجلی اور گیس فراہم کرنے والے ادارے رہائشی تجارتی اور صنعتی صارفین کو آرڈیننس کے تحت ریلیف دینے کے پابند ہوں گے اور اس کا اطلاق سندھ کی حدود میں کام کرنے والے تمام یوٹیلیٹی سروسز کے اداروں پر ہو گا۔واضح رہے کہ سندھ کرونا ایمرجینسی ریلیف آرڈیننس کی خلف ورزی پر سزا بھی تجویز کی گئی ہے۔ آرڈیننس کے تحت ریلیف نہ دینے والوں پر دس لکھ روپے تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا
*