پاکستان میں انڈیا کی طرح کانٹیکٹ مینوفیکچرنگ کی اجازت دی جائے تو ہماری ایکسپورٹ پانچ سال میں ایک ارب ڈالر تک بڑھ سکتی ہے

فارما بیورو کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر عائشہ ٹیمی حق سے وحید جنگ (ایگزیکٹیو ایڈیٹر جیوے پاکستان)  کی خصوصی گفتگو
پاکستان کی فارما انڈسٹری کو کیا مسائل اور مشکلات درپیش ہیں اور کن چیلنجوں کا سامنا ہے اس حوالے سے پاکستان فارما بیورو کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر عائشہ ٹیمی حق نے جگر پاکستان سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اگر یہ حکومت واقعی جاتی ہے کہ فارما انڈسٹری کو تباہ نہیں کرنا بلکہ ترقی دینی ہے تو اس کے پاس اس میدان میں کرنے کے لیے بہت کچھ ہے کیونکہ اگر ہماری انڈسٹری ترقی کرتی ہے تو اس انڈسٹری کے ذریعے بے شمار نوکریاں نکلیں گی اور حکومت کا ریونیو بڑھے گا ہم اکثر مثال دیتے ہیں کہ جس طرح انڈیا میں کانٹریکٹ مینجمنٹ ہو رہی ہے وہ 36 ارب ڈالر تک کما رہے ہیں تو پاکستان میں بھی کونٹریکٹ مینوفیکچرنگ کی اجازت دی جائے صرف میڈیسن میں نہیں بلکہ اور شعبوں میں بھی ایسا کرنے سے پاکستان کو زبردست فائدہ ہوگا ایکسپورٹ بڑھ جائے گی کافی سال پہلے مکینزی کمپنی نے اس حوالے سے ایک رپورٹ دی تھی اگر اس پر عمل کر لیا جاتا تو پانچ سال میں پاکستان کی فارما انڈسٹری کی ایکسپورٹ ایک ارب ڈالر تک پہنچ سکتی تھی ہم نے پہلے ہی کافی وقت ضائع کردیا ہے۔

اب اگر اچھے اقدامات کرلیے جائیں تو ہم اپنے ملک کے ساٹھ فیصد نوجوانوں کو بہتر روزگار اور نوکریاں دے سکتے ہیں ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ سال دو ہزار اور سال دو ہزار ایک سے یہ صورتحال تھی کہ اٹھارہ سال تک دوائیوں کی قیمتیں نہیں بڑھائی تھی یہ حکومت آئی تو اس نے جو ایس آر او جاری کیے اور جو قانونی اجازت دی اس کے مطابق ہی کمپنیوں نے قیمتی بڑھائیں انہوں نے بتایا کہ کسی بھی دوائیوں کی کمپنی نے کوئی ناجائز فائدہ نہیں اٹھایا ہماری وزارت صحت سے بات چیت ہوتی ہے سچی بات یہ ہے کہ حکومت پر بہت زیادہ دباؤ آگیا اور سوشل میڈیا اور دیگر میڈیا میں بہت شور مچا اس لیے کمپنیوں نے طے کیا کہ ہمیں اگر نولاو پرافٹ پر بھی کام کرنا پڑے تو ہم کو چرس اس طرح کام چلا لیں گے لیکن اب اگر حکومت ہمارا دھیان نہ کرے اور روپیہ مزید ڈی ویلیو نہ ہو رامیٹریل کی قیمتیں نہ بڑھے تو پھر تو گزارہ ہو سکتا ہے ورنہ مشکل ہو جائے گی ظاہر ہے کوئی بھی انڈسٹری گھر سے پیسے لگا کر نقصان میں کوئی چیز نہیں تیار کرتی جب تک اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا وہ مینوفیکچرنگ کیوں کرے گی انہوں نے کہا کہ فارما انڈسٹری کے حوالے سے جو بات سب سے اہم ہے اور جس کو سمجھنا چاہیے وہ ہے کوالٹی ۔ظاہر ہے کوالٹی پر کوئی کمپرومائز نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ زندگیوں کا معاملہ ہے کسی کی زندگی کے ساتھ نہیں کھیلا جا سکتا ۔


کوالٹی کو برقرار رکھنے کے لئے خرچہ کرنا پڑتا ہے اور اخراجات کو پورا کرنے کے لیے کمپنیاں پیسے کہاں سے لائیں آپ کو یاد ہوگا پہلے ایک سیرپ کی ڈبی کے ساتھ چمچ بھی ملتا تھا پھر آہستہ آہستہ وہ چمچ غائب ہوگیا وڈیائی بھی چلی گئی اب صرف وطن ملتی ہے تو آپ اندازہ لگا لیں کہ پیکنگ کے اخراجات کم کر لئے گئے اس طرح کی چیزوں میں پیسے بچا لیے گئے لیکن جو لاگت ہے وہ تو اپنی جگہ پر ہے آپ دیکھئے دودھ کی قیمت کتنی بڑھ چکی ہے کسی طرح کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں کتنی بڑھ چکی ہیں فارما انڈسٹری کے بھی مسائل ہیں اور فارما انڈسٹری کے تمام مسائل حکومت کے علم میں ہیں اور حکومت کو صورتحال سے ہمیشہ آگاہ رکھا جاتا ہے ۔آر این ڈی کے حوالے سے حکومت کے پاس کافی پنڈ دی حکومت کا وہ فنڈز استعمال کرنے چاہیے انہوں نے کہا کہ ہم اس حکومت سے اچھے اقدامات کی توقع رکھتے ہیں یہ نوجوانوں کے لیے بہتر اقدامات کرنا چاہتی ہے اور ہماری انڈسٹری پڑھے لکھے نوجوانوں کو بہتر روزگار فراہم کر سکتی ہے فارما انڈسٹری پر حکومت تھوڑی سی توجہ بڑھا لے یہ انڈسٹری دن رات ترقی کرے گی اور یہاں سے نوکریاں بھی ملیں گی اور حکومت کو ریونیو بھی ملے گا ۔