اسٹیبلشمنٹ کی شریفوں سے نئی ڈیل، رؤف کلاسرا اندرونی کہانی منظر عام پر لے آئے

یہ پانچویں بڑی ڈیل ہے جو اسٹیبلشمنٹ اور ہاؤس آف شریف میں ہو رہی ہے اسٹیبلشمنٹ کو اس وقت سب سے زیادہ فکر اٹھارویں ترمیم کی وجہ سے لگی ہوئی ہے اور یہ حیران کن بات ہے کہ 2010 میں آنے والی 18ویں ترمیم پر اس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور اس وقت کی فوجی قیادت تو خاموش رہیں لیکن دس سال بعد اسٹیبلشمنٹ اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ انار میں ترمیم سے فائدہ کم نقصان زیادہ ہو رہا ہے اور اب یہ سوچ سامنے آرہی ہے کہ یہ ترمیم وفاق اور صوبوں دونوں کے لیے خطرناک ہے ۔اس حوالے سے نئی بحث چھڑ چکی ہے اور سیاسی ملاقاتیں بھی شروع ہوچکی ہیں اور اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ اسد عمر اور شیخ رشید کے ساتھ مذاکرات ہوئے ہیں جب کہ شہباز شریف ان خبروں کی تردید کر رہے ہیں ۔
رؤف کلاسرا نے کہا کہ پیپلزپارٹی تو اٹھارویں ترمیم کو واپس کرنے کے حوالے سے بہت سخت ردعمل دے رہی ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ہاوس اف شریف اس صورتحال سے کیا فوائد حاصل کرنا چاہتا ہے اور اس کے لیے اس ڈیل میں کیا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ اس زمانے میں عمران خان بھی اٹھارویں ترمیم کے بڑے حامی تھے لیکن اب وہ بھی پوزیشن ریورس کر رہے ہیں جب کہ شریف برادران کی طرف سے ایسا لگتا ہے کہ وہ صورتحال میں وہ فیصلہ کرنے کے لئے تیار ہیں جس کی اسٹیبلشمنٹ تو قع کر رہی ہے ۔
لوکل اس نے کہا کہ اصل معاملہ وفا کے پاس فنڈز کی کمی کا ہے آنے والے دنوں میں نیا بجٹ آنے والا ہے چار ہزار ارب روپے کے بجٹ میں 16 سو ارب روپے آرمی کو چاہیے 2000 اور پے ریٹائرمنٹ اور پینشن کے الگ سے سول کھاتے میں جاتے ہیں پہلے تین ہزار ارب روپے سود کی مد میں جاتے تھے اب ساڑھے تین ہزار ارب روپے سود کی مد میں اور قرضوں کی مد میں دینے ہونگے ۔اسی طرح دو ڈھائی ہزار ارب روپے صوبوں میں چلے جائیں گے چھ سو سے لے کر 700 ارب پی ڈی ایس پی کے لئے چاہیے ہوتے ہیں اب جھگڑا یہ ہے کہ صوبے این ایف سی ایوارڈ کا سب سے زیادہ شیئر لے جاتے ہیں وفا کے پاس اتنے پیسے نہیں بچتے ۔فیڈریشن کو زیادہ پیسے درکار ہیں تاکہ سود اور قرضہ کو اتار سکے اور ترقیاتی کاموں کو آگے بڑھا سکے ۔

رؤف کلاسرا نے کہا کہ شہباز شریف صورتحال کو سمجھ رہے ہیں اس لیے انہوں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ بات کرنے کے لیے تیار ہیں اور وہ یاد دلارہے ہیں کہ جب پنجاب میں ان کی حکومت تھی تو انہوں نے پانچ سال میں اپنے حصے کے فنڈ کاٹ کر دوسرے صوبوں کو دیے اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ شہباز شریف کو کو اندازہ ہے کہ وفاق کو پیسے چاہیں اور اس معاملے پر انہیں مسلم لیگ نون کی حمایت چاہیے ۔
رؤف کلاسرا نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ پانچویں بڑی ڈیل ہے جو ہاؤس آف شریف کرنے جارہا ہے انہوں نے نواز شریف اور شہباز شریف کی مشرف دور میں جیل سے سعودی عرب روانگی کی ڈیل سے لے کر جنرل باجوا کے معاملے پر ووٹ دینے تک مختلف ڈیلز کی یاد دلائی۔
رؤف کلاسرا نے پیپلزپارٹی کے حوالے سے یاد دلایا کہ اسٹیبلشمنٹ کے کان کھڑے ہوئے تھے جب کراچی میں آپریشن کے وقت رینجرز کے اختیارات پر اختلافات سامنے آئے تھے اور اسی طرح ایف آئی اے اور نیب کے اختیارات پر بھی معاملہ اٹھا تھا کہ اٹھارویں ترمیم کی وجہ سے صوبوں میں مداخلت کی اجازت نہیں ہے پہلے صوبائی حکومت کی اجازت لینی ہوگی پھر کاروائی ہوسکے گی اس طرح کے معاملات پر سوال اٹھے تھے کہ یہ صوبے ہیں یا خود مختار ریاستیں بن گئی ہیں یہ فیڈریشن ہے یا کنفیڈریشن ہے۔ لوکل اس نے کہا کہ ایک بڑا مسئلہ یہ تھا کہ صوبوں کے پاس کپیسٹی نہیں ہے بیروکریسی اس قابل نہیں ہے خاص طور پر بلوچستان اور سندھ کی بات کی جاتی تھی اور پنجاب کی بیوروکریسی کو بہت مضبوط بتایا جاتا تھا لیکن یہ سوال اٹھائے گئے تھے کہ کون سا محکمہ کہا جائے گا کیسے چلایا جائے گا آج تک یہ مسائل چل رہے ہیں رؤف کلاسرہ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ بنیادی مسئلہ پیسوں کا ہے کہ کس طرح پیسے تقسیم کیے جائیں صوبوں اور وفاق کے درمیان ۔دوسرا اہم معاملہ ہے پاورس کا صوبوں میں مداخلت ہو سکتی ہے یا نہیں وفات اپنے آپ کو مضبوط دیکھنا چاہتا ہے اسٹیبلشمنٹ اس بات پر خوش ہوجائے گی کہ زیادہ فنڈز وفاق کے پاس رہیں اور پاور بھی وفاق کے پاس زیادہ ہو ں۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی اس پر مزاحمت کرتی ہوئی نظر آرہی ہے کیونکہ اس میں زیادہ پہل صوبہ سندھ نے ہی کی تھی اور ترمیم کرانے میں بنیادی کردار بھی سندھ کا تھا بلوچستان کی سیاسی قوتیں بھی ان کے ساتھ مل گئی تھی سب کو صوبائی خود مختاری چاہیے تھی ۔

رؤف کلاسرا نے کہا کہ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ نوازشریف زیادہ مزاحمت کریں گے لیکن اب ایسا لگ رہا ہے کہ شہباز شریف تو تیار بیٹھے ہیں اور اگر مزاحمت ہوئی تو پیپلز پارٹی کی طرف سے ہوگی ڈیل کرنے میں نواز شریف سے زیادہ کامیاب کبھی بھی کوئی نہیں رہا جنرل مشرف نے تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کے قانون بناکر پابندی لگا دی تھی بےنظیر دنیا میں نہیں رہیں اس کے بعد صرف نواز شریف وہ شخص تھے جو تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کے امیدوار تھے پیپلزپارٹی کی قیادت یہ بات جانتی تھی اور پیپلزپارٹی کی قیادت میں نواز شریف کے ساتھ ڈیل کی ۔صبح سرحد والے اپنے صوبے کا نام تبدیل کروا کر خیبرپختونخواہ رکھنا چاہتے تھے۔
اس موقع پر بھی نوازشریف کامیابی سے ڈیل کر گئے تھے اور انہیں تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کا موقع مل گیا اور وہ وزیراعظم بن بھی گئے ۔اب ایک مرتبہ پھر شریف برادران تیاری کر رہے ہیں پر نئی ڈیل اگر ہوئی تو شریف برادران کے خلاف نیب کے تمام مقدمات اور سزائیں ختم کرنی پڑے گی اور اگر ایسا ہوا تو عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کو بہت بڑی قربانی دینا پڑے گی ۔رؤف کلاسرا نے کہا کہ ایک تاثر یہ تھا کہ عمران خان خود اٹھارویں ترمیم کو واپس کرنے کے راستے میں رکاوٹ بن کر کھڑے ہو جائیں گے لیکن اب ایسا لگ رہا ہے کہ عمران خان چونکہ پاور میں ہیں وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بیٹھے ہیں ۔
آخر میں رؤف کلاسرا میں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے میں اگر کوئی کامیاب ہوگا تو وہ مسلم لیگ نون نظر آتی ہے پہلے بھی انہوں نے جنرل باجوہ کو ووٹ دیا اور اس کے بعد ہم نے دیکھا کہ ان کے تمام لوگ رہا ہوگئے بہت باہر چلے گئے اب وہ اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے ڈیل کرنے جائیں گے تو بہت بڑا ریلیف حاصل کریں گے ۔
رؤف کلاسرا نے کہا کہ قوم تیار رہے دس سال پہلے جو ترمیم کی گئی تھی وہ واپس ہو سکتی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ اس ڈیل کے عوض ہاؤس آف شریف جو پرائس مانگ رہا ہے وہ اسے ملتی ہے یا نہیں ۔اسٹیبلشمنٹ نے ہاوس آف شریف سے جو پرائز مانگی وہ تو شریفوں نے دے دی ایسا لگتا ہے کہ گاہک اور دکاندار کا بہت پرانا ساتھ ہے اور تعلق ہے اور وہ پھر کوئی نئی ڈیل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔