اسحاق ڈار نے اٹھارویں ترمیم کو پلٹنے کی کوششوں کی اصل وجہ بیان کردی

پاکستان کے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اٹھارویں ترمیم کو پلٹنے کی کوششوں کی اصل وجہ بیان کردی۔سینئر صحافی اور تجزیہ نگار طلعت حسین کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال کو حکومت ایک بہانے کے طور پر استعمال کر رہی ہے حقیقت یہ ہے کہ کورونا سے پہلے ہی اکانومی بیٹھ چکی تھی اس حکومت کی نااہلی اور مس مینجمنٹ کی وجہ سے معیشت کا بیڑہ غرق ہوا کیا کرو نا نے کہا تھا کہ ڈی ویلیوشن کردیں 115 سے اٹھا کر 167 روپے پر روپیہ لے جائیں کیا کرو نا نے کہا تھا کہ انٹرسٹ ریٹ 6فیصد سے اٹھا کر سوا تیرہ فیصد پر لے جائیں کیا کرو نا نے کہا تھا کہ عٹمانی صبا 13 فیصد پر ڈالر خریدنا شروع کر دیں کیا کرو نا نے کہا تھا کہ اخراجات کو ڈبل کردیں ۔
ساڈا دل نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے چیزیں مینیج نہیں ہورہی حالانکہ اسی سسٹم کے تحت 2013 سے لے کر 2018 تک مسلم لیگ نون نے حکومت چلائیں اور چیزوں کو مینیج کر کے دکھایا ہم نے ریونیو کو ڈبل کیا دفاع کے اخراجات کے لیے 550 ارب روپے سے رقم بڑھا کر گیارہ سو ارب تک کردی سیکورٹی کے لئے فنڈ فراہم کیے ہم نے مینیج کیا اور بتایا کہ پاکستان کا بزنس ان ترامیم اور صورتحال سے بھی بہتر انداز میں چلایا جا سکتا ہے ہم نے فیصل ڈیفیسٹ کو قابو کیا ہمارے دور میں اسٹاک مارکیٹ بہترین پوزیشن پر چلی گئی تھی مسلم لیگ نون کی حکومت نے پانچ سال میں اخراجات کو انیس سو ارب روپے سے انتالیسواں روپے تک جانی دیا لیکن پی ٹی آئی کی حکومت نے صرف ایک سال میں اخراجات کو دوگنا کردیا حالانکہ ان کا دعوی تھا کہ یہ ایک سال میں 8000 ارب روپے تک لے جائیں گے ۔
اسحاق ڈار نے یاد دلایا کہ عمران خان نیازی نے ساری اپوزیشن گزار دی چار حلقوں اور 35 پنکچرز میں ۔جبکہ جسٹس ناصرالملک کہہ گئے تھے کہ 2013 کے الیکشن ٹھیک تھے اب ان کا اپنا جہانگیرترین کہہ رہا ہے کہ 2013 کے الیکشن ٹھیک تھے وہ تو انہیں کہیں اور سے اشارہ تھا کہ دھرنا کریں اور کنٹینر پر چڑھ جائیں آج بھی کورونا کا کوئی لینا دینا نہیں ہے یہ پی ٹی آئی حکومت کی ناکامی ہے لہذا بعد صاف کرنی چاہیے یے عمران خان کی حکومت نے پہلے معیشت کا بیڑہ غرق کیا اب اپنی نااہلی چھپانے کے لئے خود کرونگا کے پیچھے چھپ رہے ہیں ۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ مسلم لیگ نون نے ردالفساد کے لیے فنڈز دیئے ضرب کے لیے فنڈز دیئے کراچی آپریشن کے لیے فنڈز دیئے اٹھارویں ترمیم غلط کیسے ہوگی ۔ہم نے ہر کام کو مینیج کیا دفاع کے لیے فنڈز بھی فراہم کیے اندرون ملک آپریشن کے لیے فنڈز بھی فراہم کیے ۔
موجودہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے صورتحال خراب ہوئی ہے اور نزلہ اٹھارویں ترمیم پر گرا رہے ہیں ۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ بعض حلقوں میں مس انڈراسٹینڈنگ ہے اٹھارویں ترمیم کو مسائل کی وجہ سمجھتے ہیں حالانکہ اصل معاملہ این ایف سی ایوارڈ کا ہے جو پیپلزپارٹی نے دسمبر 2017 میں تہہ کیا تھا ساتویں این ایف سی ایوارڈ سے پہلے وفاقی حکومت پول سے پانچ پرسنٹ خود لیتی تھی تقسیم کرنے کے لئے ۔باقی نوے فیصد میں سے 57.71 فیصد وفاقی حکومت کو ملتا تھا اور 40 فیصد میں سے 42.5 صوبوں کو جاتا تھا ۔
پیپلزپارٹی کی حکومت نے جو ساتواں این ایف سی ایوارڈ دیا اس میں صورتحال بدل گئی اور وفاقی حکومت ایف بی آر کی کلیکشن پر جو پانچ فیصد لیتی تھی اسے کم کر کے1فیصد کردیا گیا اسی طرح 18 فیصد کا فرق پڑا وفاق اور صوبوں کے درمیان ۔
وفاق کا حصہ 60 فیصد سے کم کر کے 40 فیصد کر دیا گیا اور صوبوں کا حصہ 40 فیصد سے بڑھا کر 58 فیصد چلا گیا ۔
18 فیصد کاشف بہت بڑا شخص تھا اگر پرانا این ایف سی ایوارڈ ہوتا تو مسلم لیگ نون کی پانچ سال کی حکومت میں پانچ ہزار ارب روپے کم دینے پڑتے صوبوں کو ۔اور پانچ سال میں نو ہزار 200 ارب روپے کے قرضے لیے وہ صرف چھ ہزار 200 ارب روپے رہ جاتے ۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ کنکرنٹ لسٹ کے بارے میں سیاسی جماعتوں کے بزرگوں کا کہنا تھا کہ دس سال کا معاہدہ تھا وقت نہیں ملا لیکن سب بڑوں کا اتفاق تھا اس لیے یہ بات مان لیں گی اٹھارویں ترمیم پر سب کو راضی کرنا کوئی آسان بات نہیں تھی صوبے تو ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی بھی مانگ رہے تھے تعلیم اور صحت کے معاملات بھی سبو کو دے دیتے تو پھر کیا پانچ طرح کے اسٹینڈ بنانے پڑتے دوائیاں الگ الگ بناتے ڈگری الگ رکھتے ہیں یہ مشکل کام تھا ایک سوال پر اسحاق ڈار نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے وقت فوجی قیادت کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں تھا سیاسی قیادت نے طے کیا تھا ان تمام جماعتوں کو ان بول لیا گیا تھا جن کی ایک ایک نشست بھی اسمبلی میں تھی سیاسی اتفاق رائے سے یہ فیصلہ ہوا تھا اور چارٹر آف ڈیموکریسی میں بھی طے کیا گیا تھا کہ لیگل ریفارمز سیاسی جماعتیں اقتدار میں آکر ضرور کریں گی ۔
اسحاق ڈار نے اس سوال پر کیا حال کیا ہے اور کیسے آگے بڑھا جا سکتا ہے بتایا کہ 18 ویں ترمیم کہتی ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں ایک مرتبہ صوبوں کو جو شیر دے دیا جائے وہ کم نہیں ہو سکتا اس کے باوجود میرے پاس یہ ہے کہ ملک کی سیکیورٹی صرف اسلام آباد کی سیکیورٹی نہیں ہوتی پورے ملک کی سیکیورٹی کہلاتی ہے لہذا اٹھارویں ترمیم کو چھیڑے بغیر پول میں سے رقم نکال کر صوبوں سے سیکیورٹی کے لیے رقم حاصل کی جاسکتی ہے ۔
ایک موقع پر اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان 2014 میں ٹیک آف کر رہا تھا لیکن 2014 سے ہی ہمارے حکومت کے ساتھ پنگے شروع کردیئے گئے تھے ٹانگیں کھینچی جا رہی تھی آج جس طرح ادارے موجودہ حکومت کی حمایت کر رہے ہیں اگر اس طرح کی حمایت 5 فیصد بھی ہمیں کی گئی ہوتی تو آج پاکستان بھی اتنا مانگ رہا ہوتا پاکستان بہت آگے مضبوط معیشت بن چکی ہوتی ۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نیب کے قانون کو سیاسی مخالفین کو دبانے کے لیے استعمال کر رہی ہے یہ بات سب کو پتا ہے کسی سے کوئی بات چھپی ہوئی نہیں ہے نیب کے حوالے سے ہم سے کوئی بات چیت نہیں ہو رہی جیسا ڈینس کی منظوری اسمبلی نے نہیں دی وہ قانون بنا کر چلایا جارہا ہے حیرت ہے ۔