پاک آرمی نے ٹڈی دل کے خاتمے کیلئے ہماری خصوصی مدد کی، ایک سال سے ٹڈی دل کے خاتمے کیلئے وفاق کو کہہ رہے ہیں : اسماعیل راہو

اسماعیل راہو وزیرزراعت نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہجب بات اورکوشش کے بعد بھی نتیجہ نہ آئے تو پھربات کرنی پڑجاتی ہے۔ ایک سال سے ٹڈی دل کے خاتمے کے لئے وفاق کو کہہ رہے ہیں۔ پچھلے سال سندھ کےپندرہ اضلاع میں ٹڈی دل پہنچی تھی۔ لاکھوں ایکڑ زمین پرکھڑی فصلوں پرحملہ کیا۔ پلانٹ پوٹیکشن کا کام ہے ہوائی اسپرے ہی اس کا حل ہے۔ ہماری کوششوں سے صرف 46ہزارایکڑ زمین پراسپرے ہوسکا۔ سندھ حکومت ساٹھ ملین روپے اضلاع کودیئے ۔ دس ملین پلنٹ پروٹیکشن کودیئے۔ تین سوملین اورجاری کئے کچھ سامان لیا ۔ دوائی خریدنے کے لئے دوبارہ فنڈزجاری کئے جائیں گے، پچاس ہزاراسکوائرکلومیٹرپر یہ 35ہزارلوگوں کے کھانے جتنی خوراک کھاجاتی ہے، وفاقی حکومت کی سنجیدگی نظرنہیں آرہی ہے۔ صرف دوگاڑیاں اورتین بندے وفاق نے دیئے ہوئے ہیں۔ وفاق اپنی ذمہ داری پوری نہیں کررہا ہے۔ کم سے کم تین ڈزرٹ اضلاع کے لئے جہاز دیئے جائیں۔ چائینہ نے ایک لاکھ چارہزارلیٹردوائی دی ہے۔


پاک آرمی نے ٹڈی دل کے خاتمےکے لئے ہماری خصوصی مدد کی ہے۔ ڈزرٹ ایریا اس کے نسل کی افزائش کے لئے موضوع ہے۔ دولاکھ لیٹر دوائی اوربیس ٹیمیں دی جائیں۔ اگر نہیں دیا گیا تواحتجاج کریں گے۔ ہم نے فنڈزدینے کی آفربھی کی ، ہم نے کہا کہ جہاز کے فیول اوردوائی کے لئے پیسے بھی دے سکتے ہیں، 142ہزارایکڑ فیلڈ اسپرے کروایا۔ ہم نے کہا یہ قومی مسئلہ ہے اس سے فوڈ سیکیورٹی کا مسئلہ ہوسکتا ہے۔ تمام ترکوششوں کے بعد بائیس جنوری کواجلاس بلایا گیا، سندھ کے اقدامات کو سراہا گیاکہا گیا سندھ حکومت کی کوششوں کی وجہ سے فصلوں کو بڑانقصان نہیں ہوا، نیشنل ایکشن پلان بناکرپہلی فروری سے ایمرجنسی ڈکلیئرکی گئی، وزیراعظم کی صدارت میں بھی اجلاس ہواپہلی اپریل سے ہوائی اسپرےکاوعدہ کیا گیا۔ سندھ بلوچستان اس وقت سب سے زیادہ متاثرہورہے ہیں، وزیراعلیٰ خط بھی لکھ رہےہیں۔
صورتحال پرکنٹرول کرنےکےلئے فورویل گاڑیاں خریدی جارہی ہیں۔  اٹھارویں ترمیم تمام سیاسی ورکرز کاخواب تھا، ترمیم ہوزیادہ اختیارہونا چاہیئے، سندھ کوسیڈ سرچنگ وفاق کودے رہے
ہیں۔ ہم اپنے آبادگاروں کی پہلے بھی مدد کی ہےابھی کریں گے۔  گندم اسکینڈل کی اپڈیٹ نیب نے نہیں دی، طویل عرصے سے سندھ حکومت گندم کی خریداری کرتی ہے۔ پچھلے سال خریداری نہیں کی گئی۔ سیکریٹری فوڈ نے چیف سیکریٹری کولکھا کہ لاکھوں بیگ گھوٹکی سے کراچی کے لئے نکلی نہیں پہنچی دوسری کھیپ 172ہزاربوریاں غائب ہوئی۔ چیف سیکریٹری نے اینٹی کرپشن کوانکوائری کے لئےلکھا ۔ ہم گندم قرض پرخریدتے ہیں۔ ہم خود نیب کوخط لکھ رہے ہیں۔آج محکمہ فوڈ نیب کوخط لکھے گا۔ اینٹی کرپشن پلے بارگین نہیں کرسکتا اس لئے نیب کوکہہ رہے ہیں۔


مختلف اضلاع سے آبادگاررابطہ کررہے ہیں۔  ملک کے تین لاکھ کلومیٹرکے اندرٹڈی دل ہے، 35پرسنٹ سندھ میں ہے، ہماری سروے کے مطابق پچاس ہزاراسکوائرکلومیٹرتک ٹڈی دل موجود ہے۔ تھرمیرپورخاص سانگھڑ نوابشاہ میں اس کا بیج موجودہے، جوخطرناک ہوسکتا ہے۔ پاکستان اوردیہی آبادی زراعت پر دارومداررکھتی ہے، حکومت اس مسئلے کوسنجیدہ لے۔
اس موقع پر سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت نے خود انکوائری کی ہے۔ نیب پہلے بھی انکوائری کرچکا ہے، اس دفعہ خریداری پر خبریں نہیں آرہی ہیں کیونکہ انٹرنیشنل مارکیٹ میں ریٹ بہترہیں۔ حکومت ٹارگیٹ پورانہیں کرپارہی ۔ محکمہ فوڈ کوکرپٹ لوگوں سے جان چھڑائی جائے گی۔ جلد نئی بھرتیاں کریں گے۔