دسمبر 1782ء میں دوران جنگ حیدر علی نے وفات پائی اور ٹیپو میسور کی ریاست کا سلطان بنا

بڑی بڑی بل دار مونچھیں کلین شیو موٹی موٹی آنکھیں تیکھی ناک ورزشی جسم مناسب گندمی رنگ سادا مگر پروقار لباس چال ڈھال شاندار گفتگو مختصر بامقصد ہر طرز ہر زاویہ سے شان سپہ گری نظر آتی ہے ۔ بہادر سلطان مگر بے مثل رحم دل عفوو درگزراور احسان کے اوصاف اس کی زندگی کا خاصہ تھا اپنی رعایا کی فلاح کے لئے بے چین اور ہمہ تن گوش اس عہد میں رفاہی اداروں میں بھی سلطان کا کوئی ثانی نہ تھا ۔ یتیم خانے ، مدرسے ، شفا خانے ، سرائیں ، مسجدیں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر موجود تعصب سے پاک بادشاہ نے مندر بھی تعمیر کرائے اگر کوئی ہندو مذہبی تقریب ہوتی تو خرچہ حکومت ادا کرتی ۔رزم ہو یا بزم نرم گوئی اور منکسر المزاجی دامن گیر رہتی مگر ہر وقت ہوشیار ہر دم تیار مصروف برسرپیکار انتھک محنتی سالار غیور اور خودار سلطان فارسی پر عبور ہونے کے باعث تحریر و بیاں کا ذریعہ فارسی ہی تھا ۔اردو عربی انگریزی اور فرانسیسی سے بھی خوب آشنائی تھی ۔ مغلوں انگریزوں اور دوسرے حکمرانوں کی طرح ٹھاٹھ باٹھ اور کروفرکے خلاف تھا۔ دربار میں نشست و برخاست میں سادگی تحریر و تقریر بناوٹ اور غیر ضروری الفاظی سے پاک دکھائی دیتی ہے جس کی بنیادی وجہ دینی تعلیم بتائی جاتی ہے ۔ سلطان ٹیپو حافظ قرآن علوم دین کے ساتھ ساتھ حدیث اور تفسیر قرآن کا مستند عالم تھا ۔ عصری علوم و فنون سے انتہائی دلچسپی اور آگاہی تھی ۔ نئی ایجادات کیلئے کمر بستہ رہتا ۔ جنگی فنون اور ہتھیار سازی کا بے حد شوقین تھا۔
حضرت ٹیپو مستان شاہ کی درویش منشی کا عکس سلطان ٹیپو کی زندگی اور رہن سہن میں جھلکتا تھا ۔ سلطان سادا خوراک کھاتا اسی طرح لباس کے معاملے میں بھی بڑی سادا طبیعت پائی گئی ۔ لباس میں غیر ملکی کپڑا خود بھی استعمال نہ کرتا اور دوسروں کو بھی غیر ملکی اشیاء استعمال کرنے سے منع کرتا یعنی ٹیپو سلطان ترک موالات کا بانی تھا اس کا لباس نہایت سادا دستار پر سفید رومال بندھا ہوتا اکثر سفید لباس زیب تن کرتا کمر کی پیٹی سے سپاہیانہ شان کے مطابق خنجر یا تلوار لٹکی ہوتی ۔ گھڑ سواری اس کے مشغلے میںشامل تھی ۔ زندگی کا بیشتر حصہ گھوڑے کی پشت پر گزارا ۔ بڑ ے بڑے منہ زور ہاتھیوں کو قابو میں لاکر سواری کرتا فوجی مشقوں میں خود شامل ہوتا ۔ ہتھیار کی تیاری نئے نئے جنگی طور طریقوں پر غورکرکے حکمت عملی تیار کرنے میدان جنگ کے نقشوں کی تیاری پھر دشمن کی جانب سے ممکنہ حملوں کی صورت میں جوابی کاروائی پر غور اس کا معمول تھا ۔ ان خداداد صلاحیتوں کی بنیاد پر ٹیپو سلطان کاشمار دنیا کے نامور ذہین ترین سپہ سالاروں میں ہوتا ہے۔
شجاعت اور دلیری کے ساتھ سلطان ٹیپو اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کا مالک تھا ۔ ٹیپو کے دور حکومت بڑی بڑی عمارتیں تعمیر ہوئے کارخانے لگائے گئے لوگوں کو روزگار کے وسیع ذرائع فراہم کرنے کے لئے صنعت و حرفت کو حیرت انگیز ترقی دی گئی ۔ تجارت کا دائرہ کار ہندوستانی ریاستوں سے افغانستان ایران اور یورپ تک پھیلایاگیا اسلامی شرعی قوانین نافذ کرنے کیلئے کوشاں رہا ۔ علمی اور ادبی محفلوں کی بھی حوصلہ افزائی کرتا اس کے اپنے احکامات پر مشتمل روزنامچہ فرامین و احکام کتابی شکل میں مرتب کیا گیا ۔ فتح المجاہدین کے نام سے کتاب بھی تحریر کی جو علمی لیاقت اور اہلیت کا شاہکار ہے۔
کیونکہ دسمبر 1782ء میں دوران جنگ حیدر علی نے وفات پائی اور ٹیپو میسور کی ریاست کا سلطان بنا ۔ جنگ میں شکست کے باعث انگریز صلح پر مجبور ہوئے اور طے پایا کہ انگریز آئندہ کسی بھی ہونے والی جنگ میں ٹیپو کا ساتھ دیں گے مگر جب ٹیپو مرہٹوں کے خلاف جنگ میں مصروف تھا تو انگریز نے موقع غنیمت جان کر عہد شکنی کرتے ہوئے ٹیپو کے دشمنوں سے مل کر میسور کی تیسری جنگ شروع کردی ۔ ہندوستانی نوابوں اور مہاراجوں کی کم ہمتی اور بے غیرتی پر مبنی رویوں انگریز کی مکاریوں اور دھوکہ باز پالیسیوں کے باعث ٹیپو سلطان اس نتیجے پر پہنچا کہ اگر پورا مشرق انگریزوں کے خلاف بیدار نہ ہوا تو انگریز پوری دنیاپر قابض ہوجائیں گے لہذا اس نے ایک بھرپور تحریک کا آغاز کیا ۔ ہندوستانی ریاستوں کے علاوہ افغانستان ایران دولت عثمانیہ کو خطوط لکھے اپنے ایلچی کے ذریعے فرانس سے فوجی تربیت کا معاہدہ ہوا تو ٹیپو نے سودیشی تحریک کی بنیاد رکھی ۔ ساری جدو جہد میں سلطان اپنے دشمنو ں پر ہاوی رہا مگر اپنوں کی غداری کے باعث وہ عظیم مقاصد حاصل کرنے سے محروم ہوا جن کے حصول کے بعد ہندوستان غلاموں کی سرزمین نہ کہلاتی ۔ ہندوستان کی تاریخ میں بڑے نامور حکمران گزرے ہیں مگر ٹیپو وہ واحد سلطان ہے جس کا نام اس کے دوست و دشمن بڑے احترام و عزت سے لیتے ہیں وہ اپنے دور کا جدت پسند حکمران تھا ۔ ہم جس راکٹ ٹیکنالوجی کو آج جدید دنیا کی دریافت بتاتے ہیں اس کی بنیاد دو سو سال قبل ٹیپو سلطان نے اپنے دور میں رکھی ۔ (جاری)
Aziz Zafar Azad Nawa i waqt