جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے باعث ان لائن مشاعرے اور ادبی کانفرنسوں کا انعقاد روشنی کی ایک نئی کرن ثابت ہوئی ہے

کراچی نمائندہ خصوصی
کرونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈون ہونے سے زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے جس کی وجہ سے ادبی تقریبات اور ادبی سرگرمیاں بھی ختم ہو گئی ہیں مگر جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے باعث ان لائن مشاعرے اور ادبی کانفرنسوں کا انعقاد روشنی کی ایک نئی کرن ثابت ہوئی ہے ان خیالات کااظہار معروف شاعرہ محترمہ سیدہ ثبین سیف نےایک خصوصی انٹرویو میں کیا –

محترمہ ثبین سیف نے کہا کہ اس ہلاکت خیز بیماری کی وجہ سے دنیا بھر میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے جس سے پوری دنیا مفلوج ہو کر رہ گئی ہے جس کی وجہ سے سماجی رابطوں میں کمی بھی آئی ہے اب رابطہ صرف سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کی بدولت ہی ہو رہے ہیں جہاں ایک طرف ہم گھر میں قید ہو کر رہ گئے ہیں وہاں اپنوں کے قریب آنے کا بہترین موقع بھی ملا ہے جو ہماری مصروفیات کے باعث ہمیں بہت کم ملتا تھا پوری دنیا لاک ڈون کی وجہ بند ہے ادبی اور سماجی تقریبات بند ہیں مگر ان لائن مشاعروں ادبی کانفرنسوں اور تقریبات کے انعقاد نے جامد زندگی میں نئی روح پھونک دی ہے -محترمہ ثبین سیف نے کہا کہ پوری دنیا میں اب کرونا وائرس کو کوئی خوفناک سازش قرار دیا جا رہا ہے لاک ڈون کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں کرونا کے بعد دنیا کو کن مسائل کا سامنا ہو اس پر دنیا بھر میں سوچنا ہوگا شاعر ادیب بھی اس معاشرے کا حصہ ہیں ان کو اس لاک ڈون ہےجہاں ایک طرف بہت متاثر کیا ہے وہاں اس لاک ڈون میں بہت اچھا ادب بھی تخلیق ہو رہا ہے میں نے بہت سارے شاعروں اور ادیبوں کی تخلیقات کو پڑھنے کا موقع ملا جنھوں نے کمال کام کیا ہے – محترمہ ثبین سیف نے نے ایک سوال کے جواب میں میں کہا کہ مشکل حالات انسان کو آگے بڑھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں مگر اس وقت احتیاط کے ہمیں اتحاد و یکجہتی کی بہت ضرورت ہے ہے اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے اردگرد رہنے والوں کا بہت خیال رکھنا ہو گا تاکہ ہم اس مشکل گھڑی میں دوسروں کے کام آسکیں ،محترمہ ثبین سیف نے کہا کہ کہ ماہ مبارک کے فیوض و برکات صرف روزے رکھنے یا عبادات کرنے سے ہی حاصل نہیں ہوتے ،ہم ان ایام مبارکہ میں دوسروں کی مدد کر کے بھی اپنے رب کو راضی کر سکتے ہیں