پی ٹی ایم کے مقتول رہنما کے جنازے میں ہزاروں

اکستان کے سابق قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں پشتون تحفظ موومنٹ کے مقتول رہنما عارف وزیر کی نماز جنازہ ان کے آبائی گاؤں غواخوا میں ادا کی گئی۔


نماز جنازہ میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جبکہ پی ٹی ایم نے 5 مئی کو دنیا بھر میں احتجاج کا اعلان کیا۔

جنازہ میں منظور پشین، محسن داوڑ، میرکلام وزیر، ڈاکٹر گل عالم وزیر، علی وزیر، مقامی سیاسی قائدین اور مختلف مکاتب فکر کے لوگوں سمیت ڈی پی او شوکت علی نے بھی شرکت کی۔

عارف وزیر کا جنازہ سنیچر کی رات ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی ادا کیا گیا تھا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی

ادھر خیبر پختونخوا حکومت کے مشیر اطلاعات اجمل وزیر نے کہا ہے کہ ان کی حکومت عارف وزیر کے قتل کی مذمت کرتی ہے۔
مشیر اطلاعات اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ غم اور دکھ کی گھڑی میں عارف وزیر کے خاندان کے ساتھ برابر کے شریک ہے۔
ان کے مطابق وزیراعلی خیبر پختونخوا محمود خان پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو عارف وزیر کے قتل کی تحقیقات کے لئے احکامات جاری کر دیئے ہیں اور قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے گی۔

واضح رہے کہ فائرنگ سے زخمی پی ٹی ایم رہنما عارف وزیر اسلام آباد کے ہسپتال میں سنیچر کو چل بسے تھے۔

جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں حملے کے بعد انہیں علاج کے لیے اسلام آباد منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ دم توڑ گئے۔ قبل ازیں ایک عہدیدار نے بتایا تھا کہ جمعہ کو عارف وزیر پر وانا کے قریب غوا خوا میں ان کے گھر کے باہر گاڑی میں سوار مسلح افراد نے فائرنگ کی تھی۔

عارف وزیر کو گولی لگنے سے شدید زخم آئے تھے اور وہ تشویشناک حالت میں تھے۔ ابتدائی طور پر انہیں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں داخل کیا گیا لیکن بعد ازاں علاج کے لیے انہیں اسلام آباد منتقل کیا گیا۔

عارف وزیر رکن قومی اسمبلی اور پی ٹی ایم رہنما علی وزیر کے کزن تھے۔

عینی شاہدین نے بتایا تھا کہ عارف وزیر کے گارڈز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں 2 حملہ آور بھی زخمی ہوئے تاہم مسلح افراد ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے۔

عارف وزیر کے خاندان کے 7 لوگ سال 2007 میں وانا میں عسکریت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہوچکے ہیں، جس میں ان کے والد سعداللہ جان اور چچا مرزا عالم بھی شامل تھے۔

Pakistan24.tv-report