– مسٹر جناح ہم تاریخ پڑھا رہے ہیں اور آپ تاریخ بنا رہے ہیں

جامعہ کراچی کے پہلے وائس چانسلر ابوبکر احمد حلیم کی 45ویں برسی منائی گئی۔وہ 1897 میں پیدا ہوئے اور 20 اپریل 1975 کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔ابوبکر احمد حلیم کو عام طور پر اے بی اے حلیم کے نام سے جانا جاتا ہے

۔کراچی یونیورسٹی میں 1951 میں وائس چانسلر کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد وہ چھ سال تک اس عہدے پر فائز رہے انہیں باقاعدہ پاکستانی پولیٹیکل سائنٹسٹ قرار دیا جاتا رہا ہے ۔کراچی یونیورسٹی میں تعیناتی سے قبل وہ یونیورسٹی آف سندھ کے انیس سو سینتالیس میں وائس چانسلر بنے اور چار سال تک اس عہدے پر خدمات انجام دیں اور پھر 1951 میں انہیں کراچی یونیورسٹی کا وائس چانسلر مقرر کیا گیا ۔

ابوبکر احمد حلیم تقسیم ہند سے پہلے برٹش انڈین ایمپائر کے علاقے بہار جہان آباد میں ایک گاؤں ارکی میں 1897 میں پیدا ہوئے ۔انہوں نے پٹنہ یونیورسٹی سے بی اے اور ایم اے پولیٹیکل سائنس کی ڈگریاں حاصل کیں اور پھر آکسفورڈ یونیورسٹی سے پولیٹکل سائنس میں پی ایچ ڈی کیا انہوں نے لنکنز ان سے بار ایٹ لا کیا اور پھر انڈیا واپس آگئے 1923 میں انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہسٹری کی پروفیسر شپ قبول کی اور 1944 میں انہوں نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرلی اور پھر قیام پاکستان تک تحریک پاکستان میں نہایت سرگرمی سے حصہ لیا ایک تاریخی موقع پر انہوں نے قائد اعظم محمد علی جناح سے کہا تھا کہ مسٹر جناح ہم تعریف پڑھا رہے ہیں اور آپ تاریخ بنا رہے ہیں ۔

دی یونیورسٹی مسلم لیگ کا قیام پروفیسر ایک بی اے حلیم کی سربراہی میں ہی عمل میں لایا گیا تھا اور اس کمیٹی نے متعدد مضامین لکھے اور پمفلٹ تیار کرکے پاکستان میں بھیجے ۔انیس سو سینتالیس میں کیا میں پاکستان کے بعد پروفیسر حلیم کو سندھ یونیورسٹی کا پہلا وائس چانسلر مقرر کیا گیا یہ فیصلہ خود قائد اعظم محمد علی جناح نے کیا بعد میں پروفیسر حلیم کو کراچی یونیورسٹی میں انیس سو اکیاون میں وائس چانسلر مقرر کیا گیا ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ انیس سو سینتالیس میں انہوں نے سندھ یونیورسٹی کا وائس چانسلر بنتے وقت علی گڑھ یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر کا عہدہ چھوڑ دیا تھا ۔وہ سینٹرو پروونس میں مسلم لیگ کے ٹکٹ پر منتخب کر لیے گئے تھے


انیس سوپینسٹھ میں انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے کونسل آف اسلامک آئیڈیالوجی کاممبر بنادیاگیا تب تک وہ کراچی یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس پڑھاتے رہے انیس سو ستر میں وہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز کے چیئرمین بنے اور 1974 تک اس عہدے پر فرائض انجام دیتے رہے ۔1975ءمیں انہوں نے جامعہ کراچی میں ایک مرتبہ پھر پولٹیکل سائنس پڑھانا شروع کی اور 20 اپریل 975 کو وہ وفات پا گئے ۔گزشتہ دنوں ان کی 45ویں برسی منائی گئی ان کے بیٹے مگن حلیم اور طارق حلیم کا شمار پاکستان کے مشہور بزنس مین لوگوں میں ہوتا ہے طارق حلیم فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر بھی رہے ۔

پروفیسر حلیم کے انتقال کے بعد پاکستان پوسٹ کی جانب سے ان کے لئے ایک یادگاری ٹکٹ بھی جاری کیا گیا جو ان کی قومی خدمات کے اعتراف کا منہ بولتا ثبوت ہے یادگاری ٹکٹ 2003 میں جاری کیا گیا ۔
ان کا یہ جملہ ہمیشہ کے لئے تاریخ بن چکا ہے کہ مسٹر جناح ہم تاریخ پڑھا رہے ہیں اور آپ تاریخ بنا رہے ہیں ۔

رپورٹ صبیح سالک ۔جیوے پاکستان ڈاٹ کام