جاں بحق ہونے والے ڈاکٹر فرقان کی موت سے قبل آڈیو کال

کورونا وائرس کا شکار ہو کر گزشتہ روز جاں بحق ہونے والے ڈاکٹر فرقان کی انتقال سے قبل آڈیو کال منظر عام پر آگئی ہے ۔ آڈیو کال میں ڈاکٹر فرقان کسی سے بات کرتے ہوئے اسے بتا رہے ہیں کہ انہوں نے پہلے ہسپتال کو وینٹی لیٹر کا انتظام کرنے کا کہا مگر ایسا ممکن نہ ہو سکا۔ ڈاکٹر فرقان نے مزید بتایا کہ اس کے بعد مجھے انڈس ہسپتال کی ایمبولنس لینےآئی، جو شخص آیا تھا ا س نے جانے سے قبل ہی مجھے کہہ دیا تھا کہ میں پہلے ہسپتال سے پوچھ لوں کہ ان کے پاس وینٹی لیٹر موجود ہے یا نہیں۔


خیال رہے کہ گزشتہ روز کراچی سے تعلق رکھنے والے 60 سالہ ڈاکٹر فرقان کورونا وائرس کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے جاں بحق ہو گئے تھے ۔ پاکستان میں عام شہریوں کے علاوہ اب ڈاکٹر بھی کورونا وائرس کا شکار ہونا شروع ہو گئے ہیں جس کے بعد صورتحال کے مزید کشیدہ ہونے کا خطرہ موجود ہے۔

اس ضمن میں ڈاکٹروں کی جانب سے بھی مختلف مقامات پر حکومت نے مطالبات کئے گئے ہیں کہ انہیں حفاظتی سامان فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ شہریوں پر لاک ڈاؤن کو مزید سخت کر دیا جائے۔

اس حوالے سے مختلف احتجاج بھی سامنے آئے لیکن ان کا نتیجہ ابھی تک نہ نکل سکا ۔ یہی وجہ ہے کہ مریضوں کا علاج کرتے ہوئے اب پاکستانی ڈاکٹر بھی کورونا وائرس میں مبتلا ہوتے جا رہے ہیں۔ خیال رہے کہ سندھ میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 7 ہزار 465 ہوچکی ہے جب کہ 130 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔پاکستا ن کی بات کی جائے تو پورے پاکستان میں اس وقت کورونا وائرس کے متاثرہ افراد کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ابھی تک 462افراد کورونا کا شکار ہو کر جاں بحق ہو گئے ہیں