پرنسپل سیکریٹری ہمیشہ وہی کرتا ہے جسے کرنے کا اس کا باس حکم دیتا ہے

اعظم خان خیبر پختونخوا (کے پی) سے دوسرے سینئر بیوروکریٹ ہیں جو وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

اس سے قبل شمشیر علی خان ہی دوسرے سرکاری ملازم تھے جنہوں نے مختصر مدت کیلئے اسی عہدے پر خدمات سرانجام دیں۔ زیادہ تر اس عہدے پر پنجاب کے افسران براجمان رہے ہیں۔ سندھ، بلوچستان اور کے پی کے افسران نے شاذ و نادر ہی یہ عہدہ پایا ہے۔ اعظم خان حال ہی میں ایک مشکل صورتحال کے بیچ رہے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین نے ان پر سازش کرنے کا الزام عائد کیا اور وزیر اعظم کے ساتھ ان کے عہدے سے نکل جانے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ پھر کے پی کے سابق چیف سیکریٹری شہزاد ارباب،نے بھی اعظم خان پر انگلی اٹھائی جب انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

اب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے پرنسپل سیکریٹری کے خلاف اپنی شکایت اس دعوے کے ساتھ بلند کی ہے کہ انہیں وزیر اعظم کی خصوصی معاون برائے اطلاعات کی حیثیت میں استعفیٰ دینے کیلئے انہوں نے کہا تھا یا انہوں نے انہیں ڈی نوٹیفائی کرنے کا کہا تھا۔

اعظم خان نے ان تینوں شخصیات کے دعوؤں پر جواب دینے کو ترجیح نہیں دی۔ تاہم یہ ایک سخت حقیقت ہے کہ پرنسپل سیکریٹری کبھی بھی خود ایسا کوئی فیصلہ نہیں لیتا اور ہمیشہ وہی کرتا ہے جسے کرنے کا اس کا باس حکم دیتا ہے۔ ان دعوؤں کے تناظر میں بہت سے لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ اعظم خان کون ہیں؟

اعظم خان سینٹرل سوپیریئر سروسز (سی ایس ایس) کے 1990 بیچ سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے پورے پاکستان میں 17ہویں کامن سی ایس ایس امتحان میں ٹاپ کیا تھا۔

برن ہال ایبٹ آباد سے اپنی اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز کیا۔ ملک بھر کے مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے کے بعد انہیں ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ (ڈی ایم جی) میں تقرر کردیا گیا۔

مردان کے یوسف زئی پٹھان متوسط خاندان سے تعلق رکھنے والے اعظم خان کی حیثیت میں اضافہ اس وقت ہوا جب انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی سے قومی اسمبلی کے سابق رکن کرنل (ر) نوابزادہ عامر خان ہوتی کی صحابزادی سے شادی کی۔

ہوتی مردان کے نواب کہلاتے ہیں۔ اپنے ابتدائی سالوں میں اعظم خان نے چنیاں اور ٹیکسلا میں بطور اسسٹنٹ کمشنر خدمات سرانجام دیں۔ اس کے بعد انہوں نے کے پی کے میں اگلے 20 سال خدمات سرانجام دیں۔ پرویز مشرف کی فوجی بغاوت کے بعد انہیں پشاور کا ڈپٹی کمشنر تقرر کیا گیا۔

انہوں نے کے پی چیف سیکریٹری اور قبائلی علاقوں کیلئے ایڈیشنل چیف سیکریٹری، سیکریٹری کھیل، ٹورازم اور یوتھ افیئرز کی حیثیت سے بھی خدمات سرانجام دیں جب طالبان نے کے پی میں تباہی پھیلائی۔ وہ عمران خان کی گڈ بک میں اس وقت آئے جب انہوں نے پرویز خٹک کے تحت ٹورازم اور کھیلوں کے سیکریٹری کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں۔

جب عمران خان نے انہیں پرنسپل سیکریٹری کی حیثیت سے سلیکٹ کیا تو اعظم خان 21 گریڈ کے افسر تھے۔ سول سروس کے بہت سے افراد نے اس انتخاب پر تنقید کی اور ان کے حوالے سے وفاقی حکومت میں تجربے کی کمی کا حوالہ دیا۔ لیکن اعظم خان نے اس کمی پر قابو پالیا
اسلام آباد (طارق بٹ)-jang