کووڈ19، کراچی میں ڈاکٹر وینٹی لیٹر نہ ملنے کے سبب جاں بحق

کراچی میں کورونا وائرس سے متاثر ایک اور ڈاکٹر جان کی بازی ہار گئے، جنرل سیکرٹری پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) ڈاکٹر قیصر سجاد کا کہنا ہے ڈاکٹر فرقان کو وینٹی لیٹر کی ضرورت تھی، انہیں دو نجی اسپتالوں میں وینٹی لیٹر نہ مل سکا۔

سینئر میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر سلمیٰ کوثر کے مطابق 60 سال کے ڈاکٹر فرقان نجی اسپتال میں خدمات انجام دے رہے تھے، ان کی اہلیہ میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

ملک میں کورونا کیسز 20164،اموات 462 ہوگئیں

ڈاکٹر فرقان کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز سے ایک ماہ پہلے ریٹائر ہوئے تھے۔

جنرل سیکرٹری پی ایم اے ڈاکٹر قیصر سجاد کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر فرقان کا کورونا ٹیسٹ تین چاردن پہلے مثبت آیا تھا۔

مکّہ کی 70؍ فیصد آبادی کے کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کا شبہ

انہوں نے بتایا کہ کل طبیعت بگڑنے کے بعد ڈاکٹرفرقان کواسپتال لے جایا گیا جہاں انہیں وینٹی لیٹر کی اشد ضرورت پڑی، 2 نجی اسپتالوں میں وینٹی لیٹر نہیں تھا، اہل خانہ 2 گھنٹے سے زیادہ ایمبولینس میں لے کر مختلف اسپتالوں میں وینٹی لیٹر تلاش کرتے رہے۔

ڈاکٹر قیصر سجاد نے ایک بار پھر سے بتایا کہ ملک میں اگر کیسز زیادہ بڑھ گئے تو ہمارا صحت کا نظام بیٹھ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز کو اپنی حفاظت کرنی ہوگی۔