خود ساختہ ویب چینلز اور فیس بک کے پیچز والے چینلز کے جعلی صحافیوں کے تمام سرکاری دفاتر میں داخلے پر پابندی

خود ساختہ ویب چینلز اور فیس بک کے پیچز والے چینلز کے جعلی صحافیوں کے تمام سرکاری دفاتر میں داخلے پر پابندی لگا دی ۔صرف قومی چینلز کوریج کر پائیں گے اور انہیں داخلے کی اجازت ہوگئی ۔ کوئی بھی یو ٹیوب یا ویب ٹی وی کا صحافی کہلاوانے یا فیس بک پیچ چلانے والا کسی سرکاری ملازم یا آفسر سے بیان یا خبر نہیں لیگا

۔نہ ہی کوئی سرکاری آفسر کسی ویب چینل یا فیس بک کے کسی بھی بڑے چھوٹے پیچ والے کو انٹرویو یا بیان نہیں دیگا یا فون پر رابطہ کریگا پابندی کا اعلان کردیا گیا ۔ صرف قومی ادارے پیمرا سے رجسٹرڈ قومی نیوز ٹی وی چینلز اور قومی اخبارات کو ہی خبر اور بیان دیا جائیگا ۔ تمام سرکاری دفاتر میں فیس بکی نیوز یا ویب ٹی وی والوں کا داخلہ مکمل بند ہوگا ۔ سرکاری افسران اور ملازمین کو بتا دیا گیا ہے کہ کسی بھی ویب یا فیس بک کے خود ساختہ نیوز چینلز کو کسی قسم کی کوئی نہ خبر دی جائے نہ ہی انہیں پریس کانفرنس میں بلایا جائے ۔بے شک وہ جو خبر چلائے انکو نہ جواب دیا جائے نہ ہی انکی خبر پر کوئی اہمیت دی جائے ۔تمام پریس کانفرنس میں آنے والے معزز نمائندگان کو اپنی شناخت اور ادارے کا نام لازمی بتانا ہوگا جسکے بعد سرکاری پریس کانفرنس میں بیٹھنے کی اجازت ہوگئی اور سرکاری دفاتر میں داخلہ ہوگا ۔۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب گزشتہ چند روز میں نام نہاد فیس بکی چینلز اور ویب چینلز کی بھر مار نے صوبائی حکومت کی پریشانی میں اضافہ کردیا اور خود ساختہ ویب اور یو ٹیوب اور فیس بک کے نیوز کے من گھڑت نام بنا کر اور ٹی وی والے لوگو بنا کر سرکاری ملازمین اور شہریوں کو بلیک میل کرنے کا سلسلہ عروج پر پہنچا ۔جبکہ دوسری جانب تمام ضلعی انتظامیہ کو واضع ہدایات جاری کردی گئی کہ تمام ڈی جی پی آر ز اپنے پیچز یا خبروں میں ایسے کسی ویب ٹی وی یا فیس بکی یا یو ٹیوب والوں کی سرکاری خبروں کو بھی پوسٹ یا شئیر نہیں کریگے کیونکہ دیکھا یہ گیا ہے کہ ایسے نام نہاد صحافی سرکاری خبروں کو ایڈیٹ کرکے میوزک لگا کر ضلعی انتظامیہ کی خبروں کو پوسٹ کرتے ہیں جنہیں بعد میں ضلعی انتظامیہ کے ڈی جی پی آرز اپنے اپنے پیچز پر لگاتے تھے جس پر اب مکمل پابندی ہوگئی ۔۔ اس پابندی سے جنوئن صحافیوں کو عزت اور مقام ملیگا اور خود ساختہ من گھڑت اور جھوٹ پر منبنی خبریں چلانے والے اور خود ساختہ صحافیوں کا خاتمہ ہوگا ۔حقائق پر منبنی تصدیق شدہ خبروں اور قومی چینلز اور قومی اخبارات کو رتبہ اور مقام ملیگا جو سالانہ کروڑوں روپے ٹیکس دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہریوں اور سرکاری ملازمین کو بلیک میل کرنے والے فیس بکی اور یو ٹیوب اور ویب چینلز والے بلیک میلرز کا داخلہ پر مکمل پابندی ہوگئی تمام سرکاری اور غیر سرکاری دفاتر میں بھی