پاکستان نے کرونا وائرس کا بخار ناپنے والا چشمہ تیار کر لیا ۔چالیس لاکھ والا وینٹیلیٹر ایک لاکھ میں تیار

کرونا وائرس کے مریضوں کے بہتر علاج کے لیے پاکستان نے وینٹیلیٹر اور دیگر ضروری میڈیکل آلات کی تیاری پر توجہ مرکوز کر لی ہے لاہور یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز نے بیرون ملک سے تیس سے چالیس لاکھ روپے میں موبائل جانے والا وینٹیلیٹر مقامی طور پر ایک لاکھ روپے میں تیار کرلیا ہے

جبکہ کرونا وائرس کا بخار ناپنے والا چشمہ بھی تیار کرلیا گیا ہے چشمہ پہن کر آپ بخار کا اندازہ لگا سکتے ہیں جبکہ عالمی معیار کے مطابق باہر سے منگوائے جانے والے ماسک جو گیارہ سو روپے میں مل رہے ہیں انہیں 90 روپے میں تیار کرلیا گیا ہے

۔اسی طرح ہینڈ سینیٹایزر مشین تیار کی گئی ہے جو آٹومیٹک طور پر ہینڈ واش کراتی ہے اور آپ بغیر کسی چیز کو چھوئے اپنے ہی نہیں کر سکتے ہیں ۔دفاتر میں آنے والوں کی فائلیں موبائل فون اور ضروری دستی سامان کو جراثیم سے پاک کرنے کے لئے اسکینر تیار کیے گئے ہیں

۔جبکہ میڈیکل کٹ بھی تیار کی گئی ہے جس سے ڈیڑھ ہزار روپے میں 20 مرتبہ واش کرکے پہنا جا سکتا ہے ۔
اس حوالے سے منعقد ہونے والی ایک نمائش میں ان تمام چیزوں کو نمائش کے لیے پیش کیا گیا ہے جس میں آنے والوں نے گہری دلچسپی کا مظاہرہ کیا ۔


ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق نمائش میں پاک فوج کے تعاون سے تیار کی جانے والی ایک کرنسی ڈیوائس بھی رکھی گئی تھی اس کے ذریعے کرنسی نوٹوں کو جراثیم سے پاک کیا جائے گا عام طور پر کرنسی نوٹ ہاتھوں میں رہتے ہیں جس کے ذریعے وائرس پھیلنے کا خدشہ رہتا ہے اس لئے کرنسی نوٹوں سے جراثیم صاف کرنے کے لیے یہ ڈیوائس تیار کی گئی ہے


یہ ڈیوائس زیادہ تر بینکوں میں اور اسپتالوں میں استعمال کی جا سکتی ہے ۔اس مشین میں نوٹوں کو چیمبر کے ذریعے ڈال کر گرم ہوا سے گزارا جاتا ہے اور اس طرح جراثیم کا خاتمہ کردیا جاتا ہے ۔

اس حوالے سے وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ جب 26 فروری کو پاکستان میں کرونا وائرس کا پہلا مریض سامنے آیا اس وقت یہ بات سامنے آئی کہ پاکستان میں اس کے حوالے سے درکار چیزوں میں سے کچھ بھی ہم یہاں نہیں بنا رہے ۔صرف دس دن کے اندر ملک میں سینیٹایزر کی شارٹیج ہوگئی تھی ہسپتالوں میں جو کپڑے دستانے اور ضروری آلات استعمال ہورہے تھے وہ سب باہر سے منگوایا جا رہے تھے

۔چنانچہ حکومت نے سرکاری اور نجی شعبے کو ملا کر یہ فیصلہ کیا کہ یہ تمام چیزیں مقامی سطح پر تیار کی جائیں ملک کی مختلف یونیورسٹیز کو بھی اس سلسلے میں شامل کیا گیا اور ان کاوشوں کا نتیجہ یہ آیا ہے کہ آج 75 فیصد ضرورت کی تمام چیزیں جو اسپتالوں میں چاہیں اب ہم خود بنانے کے قابل ہیں مقامی طور پر وینٹی لیٹر تیار کر رہے ہیں

یہ ایک پیچیدہ عمل ہے پاکستان انجینئرنگ کونسل کو مختلف 47 ڈیزائن ملے تھے ان میں سے 13 ڈیزائن شارٹ لسٹ کیے گئے سات ڈیزائن فائنل مرحلے میں ہیں جس کے بعد لائسنس لیا جائے گا ان چیزوں کی مقامی سطح پر تیاری سے آپ سمجھ لیں کہ صرف ڈیڑھ مہینے کے اندر ہم نے کئی ملین ڈالر کے فنڈز کی بچت کر لی ہے وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ کسی بھی ملک کا مستقبل سائنس اور ٹیکنالوجی کے ساتھ وابستہ ہے اور جب تک وزیراعظم اور آرمی چیف کی سطح پر ان چیزوں کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے پاکستان میں یہ کام مشکل رہتے ہیں یہ بات خوش آئند ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہمارے اس اقدام کو سراہا اور پوری سپورٹ فراہم کی اور عوام مثبت نتائج حاصل کر رہے ہیں