سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے قائم مقام ڈی جی نسیم الغنی سہتو اور ایس بی سی اے کے معاملات چلانے والے وزیر اعلی ہاوس کی ایک اہم شخصیت کے درمیان اختلافات

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے قائم مقام نان ٹیکنکل ڈی جی نسیم الغنی سہتو اور ایس بی سی اے کے معاملات چلانے والے وزیر اعلی ہاوس کی ایک اہم شخصیت کے درمیان اختلافات کے بعد ایس بی سی اے کے ایک معطل افسر کے زریعے ادارہ چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے

جس کے لیے روان ہفتہ ایس بی سی اے معطل سینئر افسر کو بحال کرکے گریڈ 20 میں ترقی دی جائے گی اور بعد ازاں انہیں ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر تعینات کرکے تمام معاملات چلانے کے اختیارات دیے جائیں گے۔ایس بی سی اے کے قریبی زرائع کے مطابق حکومت سندھ چاہتی ہے کہ وہ اپنے مفادات کے لئے ڈی جی کسی سہولت کار کی طرح کام کریں۔ دوسری طرف ڈی جی کلیدی فائلوں اور متنازعہ احکامات پر بھی دستخط نہ کرکے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں زرائع کے مطابق وہ یہ شکایت بھی کرتے رہے ہیں کہ انہیں صوبائی سکریٹری کی کمانڈ کے ماتحت عہدے پر فائز کیا گیا ہے ، حالانکہ ماضی میں بھی وہ سیکرٹری سطح کے عہدے سے فائز رہ چکے ہیں۔ زرائع کے مطابق وہ سکریٹری بلدیات روشن علی کے احکامات کی تعمیل کرنے میں بےچینی محسوس کررہے ہیں۔ زرائع کے مطابق نسیم الغنی سہتو پر دباو ہے کہ وہ ون ونڈو میں کیے جانے والے مبینہ 22 کروڑ کے فنڈز کے غبن کو زیادہ زیادہ اجاگر کرنے سے گریز کریں، جسے کچھ ماہ قبل ایس بی سی اے کے کمپیوٹر سیکشن کی ون ونڈو سہولت کے لئے مختص کیا گیا تھا۔ لیکن اس رقم کا بہت بڑا حصہ خردبرد کرلیا گیا تھا۔ انچارج کمپیوٹر سیکشن عاصمہ غیور بیرون ملک چلی گیں تھیں وپچھلی تاریخوں میں بیرون پاکستان سفر چھٹی کی درخواست منظور کی گئی تھی دے دی تھی۔زرائع کے مطابق آنے والے دنوں میں ایک سینئر افسر کی معطلی کا آرڈر بھی واپس لیا جارہا ہے۔ بعد میں ان کی ترقی ایس بی سی اے کے دوسرے ایڈ ڈی جی کی حیثیت سے کی جائے گی جس کے بعد ادارے کے تمام معاملات ترقی پانے والے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کے زریعے چلائے جائیں گے جبکہ موجودہ نان ٹیکنکل ڈی جی ڈمی طور پر رہ جائیں گے

اس خبر کے حوالے سے جب سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نسیم غازی صاحب سے رابطہ کیا گیا تو ان کا موقف تھا کہ یہ سب مفروضہ ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ ۔میرے پاس ایڈیشنل چارج ہے اور دوسری اہم بات یہ ہے کہ ڈمی میں آج تک نہیں بنا ۔
اس حوالے سے غیر قانونی تعمیرات کرنے والے اس طرح کی خبریں پھیلاتے رہتے ہیں ۔
Report-Mansoor-Durrani