مجھے نہیں پتا کہ یہ کون میرے کندھے پر رکھ بندوق چلا رہے ہیں مولانا طارق جمیل نے حامد میر کیخلاف سوشل میڈیا مہم پر بیزاری کا اظہار کردیا

معروف عالم دین مولانا طارق جمیل نے حامد میر کیخلاف سوشل میڈیا مہم پر بیزاری کا اظہار کردیا۔مولانا طارق جمیل اور سینئر صحافی حامد میر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں مولانا طارق جمیل نے بتایا کہ آپ کیخلاف مہم کے پیچھے میں نہیں ہوں،حامد میر نے مولانا کی دل آزاری پر معافی مانگی۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کی ٹیلی تھون نشریات میں مولانا طارق جمیل نے دعا کروائی جس میں خواتین سے متعلق بھی دعا کی، یہ بھی کہا کہ عمران خان کو اجڑا ہو اچمن ملا ہے۔
یہ بھی کہا کہ پوری دنیا کا میڈیا جھوٹ بولتا ہے، پاکستان کا میڈیا بھی جھوٹ بولتا ہے۔ جس پر صحافیوں نے اعتراض کیا۔ مولانانے عدلیہ کو بھی ظلم کا ایک مرکز قرار دیا۔

مولانا طارق جمیل نے اپنی گفتگو میں کہا تھا کہ اگر ڈاکٹر کہتے ہیں کہ مساجد میں جانے سے کورونا پھیلتا ہے تو لوگوں کو مساجد میں نہیں جانا چاہیے۔ لیکن دوسری جانب مولانا طارق جمیل نے جب معافی مانگی تو بات ختم ہونے کی بجائے مولانا طارق جمیل کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر ایک ماحول کھڑا کردیا ہے۔

جس پر حامد میر نے الزام لگایا تھا کہ اس ساری مہم کے پیچھے مولانا طارق جمیل ہیں۔بتایا گیا ہے کہ مولانا طارق جمیل نے اینکر پرسن محمد مالک کو فون کیا، ان سے کہا کہ حامد میر نے کہا کہ شاید ان کیخلاف مہم کے پیچھے میں ہوں،اگر میں اس مہم کے پیچھے نہیں ہوں تو مجھے کھل کراپنے مئوقف کا اظہار کرنا چاہیے ۔ مولانا طارق جمیل نے محمد مالک کو بتایا کہ تو میں کہتا ہوں کہ میں اس مہم کے پیچھے نہیں ہوں، مجھے نہیں پتا یہ کون لوگ ہیں۔
ابھی سوشل میڈیا پر جو کچھ بھی ہورہا ہے مجھے نہیں معلوم یہ کون لوگ ہیں۔ میرے کندھے پر رکھ کر بندوق چلا رہے ہیں میں ان سب سے بیزاری کااظہار کرتا ہوں۔ مولانا طارق جمیل نے محمد مالک کو کہا کہ میرے پاس حامد میر کا نمبر نہیں ہے، ان کو میری طرف سے بتا دینا۔ مولانا طارق جمیل نے حامد میر کو فون پر پیغام بھیجا، جس پر حامد میر نے مولانا طارق جمیل کا پیسج دیکھ کرفون کیا، مولانا طارق جمیل نے بتایا کہ آپ کیخلاف سوشل میڈیا پر جو کچھ بھی ہورہا ہے کہ اس کے پیچھے میں نہیں ہوں، حامد میر نے کہا کہ اگر میری جانب سے دل آزاری ہوئی تو میں معافی مانگتا ہوں ۔ اس دوران دونوں میں صلح ہوگئی