یہ بچے قومی دھارے میں تھے، ایم فل کر رہے تھے مرکزی قاید اعظم یونیورسٹی سے

یہ بچے قومی دھارے میں تھے، ایم فل کر رہے تھے مرکزی قاید اعظم یونیورسٹی سے ایم فل مطلب جانتے ہو نا کہ زیادہ پڑھ لکھ جائے تو قوم کو بدلے میں کچھ دیں۔


پھر آپ نے کیا کیا؟ وقت وقت پولیس بھیجی کہ انکا پروفائلنگ کریں، پھر انکے لباس کا تمسخر اڑئے، پھر انکے محرمیوں اور پسماندگیوں کو انکے اپنے گلے ڈال کر اپنی ذمہ داریوں سے خود مبرا ٹہرانا ۔ جی یہ نوجوان جن کو کیمپس میں تم نے مار پیٹا، اتنا باہر دھکیل دیا کہ انکو قومی دھارے سے ہی باہر نکال دیا۔

اہل اسلام آباد مبارک ہو، دو اور الہڑ ، پڑھا لکھا نوجوان، پہاڑوں میں مارا گیا۔ تمھارا دشمن اس قابل بھی نہیں تھا کہ انہیں سکون سے علم ہی حاصل کرنے دیتے۔ اہل پاکستان مبارک ہو، پاکستان بچ گیا۔

جلیلہ حیدر ایک مشہور ہیومن رائٹس ایکٹویسٹ اور وکیل ہیں انہوں نے سوشل میڈیا پر یہ تحریر کیا ہے یاد رہے کہ انہیں امریکہ کا سول ایوارڈ ان کی انسانی حقوق کے لئے بہترین خدمات پر دیا گیا ہے