جلد معاشی سرگرمیوں کی بحالی کے منتظر ہیں ۔دس سالہ معاشی پالیسی وقت کی ضرورت ہے ۔

کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے سابق سینئر نائب صدر فراز رحمن کا کہنا ہے کہ ہم منتظر ہیں کہ حکومت جلد معاشی سرگرمیوں کو بحال کرنے کی اجازت دے ۔کرونا وائرس نے پوری دنیا پر اثرات مرتب کیے ہیں

بڑی بڑی معاشی طاقتوں کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے پوری دنیا کے لئے یہ ہوا ایک چیلنج بن کر آئی ہے اور اس کے نتیجے میں معاشی بحران سامنے نظر آرہا ہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ پاکستانی قوم مشکلات سے گھبرانے والی نہیں ہے پہلے بھی مشکل وقت کا سامنا کرتے رہے ہیں اس مرتبہ بھی اس چیلنج سے گھبرائیں گے نہیں بلکہ ہمت بہادری اور صلاحیتوں کا مظاہرہ کرکے ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کریں گے

۔انہوں نے کہا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد کا مظاہرہ کریں اور ایک دوسرے پر الزام تراشی سے بچیں اور اللہ نے ہمیں جو صلاحیتیں عطا کی ہیں ان کا بھرپور مظاہرہ کریں اور ہر شخص اپنی صلاحیت کے مطابق حصہ ڈالے تو معیشت کی بحالی میں زیادہ وقت نہیں لگے گا ۔انہوں نے حکومتی اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اب حکومت کو چاہیے کہ وہ بزنس کمیونٹی کو ایسے موقع پر سہولتیں دے تاکہ وہ آگے بڑھ کر معیشت کو بہتر بنانے میں حکومت کے لیے مدد کر سکیں ۔

موجودہ صورتحال پر خصوصی گفتگو کرتے ہوئے فراز الرحمن نے کہا کہ معیوب حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ دس سالہ معاشی پالیسی تشکیل کی جائے پالیسیوں میں تسلسل سے ہیں معیشت میں بہتری رکھی جا سکتی ہے ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر کو روکنا اور مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں کمی کر کے اسے سات فیصد پر لانا انتہائی ضروری ہے

اگر موجودہ وقت کے مطابق معاشی پالیسی تشکیل دی جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان جلد ایشین ٹائیگر بن جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کی وبا سے پہلے ہی معاشی سرگرمیاں التوا کا شکار ہیں پاکستان میں ابھی تک واضح نہیں کہ اس مرض پر کب تک قابو پا لیا جائے گا مگر ہمیں امید ہے کہ حکومت جلد معاشی سرگرمیوں کی بحالی میں اجازت دے دے گی انہوں نے شکوہ کیا کہ حکومت کی آٹوموبائل سیکٹر پر وہ توجہ نہیں ہے جس کی ضرورت ہے یہی وجہ ہے کہ یہ شعبہ غزالی کا شکار ہو چکا ہے حکومت کاروبار کو فروغ دینے کی پالیسیاں تو بنا رہی ہے مگر ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے والے لوگوں کو نظرانداز کیا جارہا ہے ۔
رپورٹ محمد وحید جنگ جیوے پاکستان ڈاٹ کام