ھجوم پر سحر طاری کرنے والا مقرر!

یہ سائین جی ایم سید کے زندگی کی آخری سالگرہ تھی سن میں جیئی سندھ تحریک کی ٹاپ لیڈر شپ سمیت ہزاروں لوگ شریک تھے میں بھی شریک تھا اس وقت جیئی سندھ تحریک میں گروپ بندی عروج پر تھی ٹاپ لیڈر شپ میں شمار رہنما ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلیئے سازشی حربے استعمال کرتے تھے

عبدالواحد آریسر جیسا کے ٹاپ لیڈر شپ میں شمار ہوتے تھے اور سائین جی ایم سید کے اعتماد والے ساتھیوں میں شامل تھے چونکے سالگرہ کا یہ بڑا جلسا تھا ٹاپ لیڈر شپ اپنی تقریر کا انتظار کر رہی تھی اکثر ہوتا یہ ہے کے سینیئر رہنماوّں کو جونیئرز کے بعد تقریر کیلیئے بلایا جاتا ہے لیکن میں اوپر یہ ذکر کرکے آیا ہوں کے ٹاپ لیڈر شپ کا ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنا یا نیچا دکھانے کیلیئے اپنے ہی جلسوں میں سینیئرز کو سب سے پہلے تقریر کیلیئے بلانا یا تقریر کرتے ہوئے بجلی بند کر دینا یا کوئی اور ایسی شرارت کر دینا جس سے اس لیڈر کا استحقاق مجروح ہو جائے لیکن اس جلسے میں کچھ الٹ ہی ہو گیا سائین کی سالگرہ جلسے میں جب تقریروں کا سلسلا شروع ہوا تو سب سے پہلے عبدالواحد آریسر کو دعوت دی گئی اور اس ملنگ انسان نے اسٹیج پر آتے ہی کہا کے مقرر سے جب الفاظ ختم ہوجاتے ہیں وہ ہچکچانہ (کنگھن) شروع کر دیتا ہے اور جب عاشق سے جب الفاظ ختم ہو جاتے ہیں تو وہ محبوب کو چومنا شروع کر دیتا ہے اور مجھ سے الفاظ تو ختم ہو چکے ہیں میں چومنا چایتا ہوں جی ایم سید کے ان قدموں کو جہاں جیاں سے وہ گذرا ہے مجھے اچھی طرح یاد ہے عبدالواحد آریسر کے ان الفاظ پر ہزاروں کا ھجوم اٹھ کھڑا یو گیا اور کافی دیر تک پرجوش انداز میں تالیاں بجاتا رہا اور پھر یو ہوا کے اس ملنگ کی عشقیہ تقریر کے بعد کسی لیڈر کی تقریر پر اثر ثابت نہ ہو سکی کہنے کا مطلب سائین کی زندگی کی آخری سالگرہ کا میلا آریسر صاحب نے لوٹ لیا عبدالواحد آریسر ھجوموں پر سحر طاری کرنے والے مقرر تھے اور وہ جی ایم سید سے اہنے محبوب کی طرح پیار کرتے تھے اور یہ بھی میں یقین سے کہتا ہوں کے آریسر اپنے محبوب کی جدائی کے بعد اندر سے ٹوٹ چکے تھے ان کی بعد کی زندگی ٹائم پاس تھی یہی وجہ تھی کے انہونے نہ اپنی صحت کا خیال کیا نہ پارٹی میں عہدوں کی تمنا اور نہ ہی پارٹی بدلنے کی سوچ والا آریسر تھا نہیں تو اتنے با صلاحیت لفظوں کے جادوگر سیاسی لیڈر کو کونسی پارٹی قبول نہیں کرتی مجھے نہیں پتا کے پارٹی نے آریسر کے جانے بعد ان کے بچوں پر شفقت کا ہاتھ رکھا ہے کے نہیں اگر نہیں رکھا تو وہ تمام رہنما جو جیئی سندھ میں نہیں بھی ہیں اپنی الگ پارٹیاں بنا لی یا اور وفاقی پارٹیوں میں شامل ہو گئے اور اچھی بھلی زندگی گذار رہے ہیں وہ آریسر جیسے ملنگ انسان کے بچوں پر شفقت کا ہاتھ ضرور رکھیں 🙏
تحریر نیاز کھوکھر