عرفان خان اپنے بچوں کو اکثر کیا نصیحت کرتے تھے؟

ممبئی: تین روز قبل دارِ فانی سے کوچ کر جانے والے بالی ووڈ کے معروف اداکار عرفان خان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے اُن کے اہل خانہ نے ایک تفصیلی پوسٹ کی ہے۔

عرفان خان کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے کی جانے والی پوسٹ‌کو ’منجانب سوتاپا، بابیل اور ایان‘ کا عنوان دیا گیا ہے۔

طویل بیان میں اہل خانہ نے اپنے دکھ اور کرب کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اُن کے لیے یہ گھڑی بہت ہی تکلیف دہ ہے۔

پوسٹ میں لکھا گیا ہے کہ ’میں کیسے اس تحریر کو اہل خانہ کا بیان کہہ دوں جبکہ پوری دنیا عرفان خان کی موت کو ذاتی نقصان قرار دے رہی ہے، میں کیسے خود کو تنہا سمجھوں جبکہ لوگ ہمارے دکھ اور غم میں برابر کے شریک ہیں‘
میں سب کو یقین دلانا چاہتی ہوں کہ یہ (عرفان خان کی موت) نقصان نہیں بلکہ حاصل ہے، اُن چیزوں کا حاصل ہے جو وہ ہمیں سکھا کر گئے جن پر ہمیں اب عمل کر کے دکھانا ہے‘۔

انہوں نے لکھا کہ ’عرفان خان نے مجھے بگاڑ دیا ہے، اُن کی ہرچیز کو پرفیکٹ کرنے کی عادت تھی، اُن کے بعد اب مجھے کبھی کسی مقام پر اطمینان نہیں آسکتا، میں نے ڈاکٹرز کی رپورٹ کو اسکرپٹ کی طرح پڑھ کر سنایا تاکہ علاج کے دوران بھی عرفان کی پرفارمنس پرفیکٹ ہو سکے‘۔

عرفان خان کی اہلیہ نے علاج کرنے والے تمام ڈاکٹرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ ’علاج کے دوران کی کیفیات ناقابلِ بیان تھیں
سوتاپا نے لکھا کہ ’میں نے اپنی فیملی کو ایک کشتی میں سوار دیکھا جس میں دونوں بیٹے اور عرفان سوار ہیں، عرفان ہمیں راستہ سمجھانے میں ہمیشہ مدد فراہم کرتے تھے
عرفان خان کی اہلیہ نے لکھا کہ جب میں اپنے بچوں سے پوچھتی ہوں کہ انہیں اپنے والد کی سکھائی گئی کوئی بات یاد ہے تو وہ بتاتے ہیں کہ ’ابا ہمیں نصیحت کرتے تھے کہ اپنے خیالات کو اپنے قابو میں رکھو تاکہ وہ تم پر قابض نہ ہوسکیں‘۔