وزیراعظم کا فردوس عاشق اعوان کو فون ۔اعظم خان کو ٹارگٹ نہ کرنے اور ٹی وی پر نہ آنے کی ہدایت ۔فردوس کا انکار

عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے اےاروائ ٹیوی پر پہلا انٹرویو دیکھ کر حکومت کو جس طریقے سے ٹارگٹ کیا ہے اس پر حکومتی صفوں میں کھلبلی مچ گئی ہے اور حکومت کی کمزوریاں عوام کے سامنے آنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے فوری طور پر وزیراعظم نے فردوس عاشق اعوان کو ٹیلی فون کیا اور انہیں اعظم خان کو ٹارگٹ نہ کرنے اور ٹی وی پر مزید نہ بولنے کی ہدایت کی ہے لیکن ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے وزیراعظم کی جانب سے ایک سال تک اپنی حمایت کرنے پر ان کا شکریہ تو ادا کردیا لیکن سیاستدان ہونے کے ناطے خاموش نہ رہنے کا فیصلہ بھی سنا دیا ۔

پاکستان کے سینئر صحافی و تجزیہ نگار رؤف کلاسرا نے اس حوالے سے مزید اہم انکشافات کیے ہیں سب سے انہوں نے ہی یہ اسٹوری بریک کی تھی کہ وزیراعظم آفس میں فردوس عاشق اعوان سے اعظم خان اور شہزاد اکبر نے استعفی مانگا تھا جس پر تلخ کلامی ہوئی تھی اور فردوس عاشق اعوان کو متنبہ کیا گیا تھا کہ اگر انہوں نے استعفی نہ دیا تو ان کو ڈی نوٹی فائی کردیا جائے گا اور سخت نتائج بھگتنے پڑیں گے فردوس عاشق اعوان نے یہ چیلنج قبول کرلیا تھا ۔

اب رؤف کلاسرہ کا کہنا ہے کہ فردوس عاشق اعوان نے عادل عباسی کو جو انٹرویو دیا اس نے پی ٹی آئی اور حکومت کی صفوں میں کھلبلی مچا دی حکومت کے لوگ پریشان ہوگئے ہیں آنے والے دنوں میں مزید فائرورک نظر آرہا ہے عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نشانے پر ہیں عمران خان کے لیے یہ صورتحال مشکل ہوتی جا رہی ہے کہ ہر معاملے میں اعظم خان کا نام متنازعہ طور پر سامنے آ رہا ہے پہلے جہاں کی کریم کے معاملے میں بھی اعظم خان کا نام آیا تھا اب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے معاملے میں بھی اعظم خان کا نام آگیا ہے اور ان پر الزام لگ رہا ہے کہ وہ وزیروں کو کام نہیں کرنے دے رہے اور ان کے معاملات میں محکموں میں مداخلت کرتے ہیں وزارتوں میں مداخلت بہت زیادہ ہے ۔
فردوس عاشق اعوان کو وزیراعظم نے فون کیا اور اعظم خان کے بارے میں نہ بولنے اور ان کو ٹارگٹ نہ کرنے کی ہدایت کی اور مزید ٹی وی پر نہ آنے کے لیے کہا ہے ۔


رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے میں نے فردوس عاشق اعوان سے بات کی ہے اور ان سے پوچھا ہے کہ آپ کو منع کیا گیا ہے کہ ٹی وی پر مت آئیں اور اعظم خان کو ٹارگٹ نہ کریں تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے لیکن انہوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ میں نے وزیراعظم کو ایک سال تک اپنی حمایت کرنے پر شکریہ ادا کیا ہے لیکن میں ایک سیاستدان ہوں میں خاموش نہیں رہ سکتی یہ نہیں ہو سکتا کہ میرے خلاف الزامات لگائے جاتے رہیں میرے خلاف یوٹیوب پر ٹویٹر اور میڈیا میں بے بنیاد الزامات لگائے جائیں گالم گلوچ پر گیر تحریک ہو جائے اور میں خاموش بیٹھی رہوں میں نے اپنے حلقے سیالکوٹ کے ووٹروں کو عوام کو صورتحال سے آگاہ رکھنا ہے سچائی بتانی ہے پاکستان کے عوام کو بھی اپنا موقف ضرور بتاؤں گی ۔رؤف کلاسرا نے اپنے پروگرام میں دعوی کیا ہے کہ جب اعظم خان کے دفتر میں فردوس عاشق اعوان سے استعفیٰ مانگا گیا تو وہاں اونچی آواز میں کافی باتیں ہوئیں اعظم خان نے انہیں منع کیا کہ اونچی آواز میں بات نہ کریں لیکن انہوں نے کہا کہ آپ کون ہوتے ہیں مجھے یہاں بلاک کر یہ باتیں کرنے والے میں ضرور اونچی آواز میں بات کروں گی اعظم خان نے کہا کہ 42 وزارتیں ہیں میں سب کیسے ایکٹیو کو فون کرتا ہوں کسی کا وزیر مجھ سے آپ کی طرح شکایت نہیں کرتا اس پر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وہ سارے انڈرنائنٹین وزیر ہیں پہلی پہلی بار وزیر بنے ہیں اس لئے آپ کے سامنے کھڑے نہیں ہو سکتے مجھے بیس سال ہو گئے ہیں میرے والد بھی یہاں تھے میں ڈرنے والی نہیں ہوں آپ نے ڈی نوٹیفائی کرنا ہے تو کر دیں ۔اعظم خان نے کہا کہ آپ کو سخت نتائج کا سامنا کرنا ہوگا ۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ میں آدم کیوں میں نہیں آتی سیاستدان ہوں حالات کا سامنا کروں گی ۔

رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ فردوس عاشق اعوان کا موقف ہے کہ اگر میں استعفیٰ دے دیتی تو پھر کرپٹ نہیں تھی ۔استیفاء نہیں دیا اس لیے کرپشن کے الزام لگ رہے ہیں ۔
رؤف کلاسرا نے کہا کہ ایک ایڈورٹائزنگ کمپنی کام ٹیک کا نام آرہا ہے کہ اسے دس ایجنسیوں کی لسٹ میں شامل کرایا گیا اور اس کے ذریعے کمیشن کھانے کا الزام اور کرپشن کا الزام لگ رہا ہے لیکن ریکارڈ بتاتا ہے کہ فردوس عاشق اعوان نے اٹھارہ اپریل کو شاید لیا اور 19 اپریل کو ایک لسٹ جاری کی گئی جس میں دس جنسیوں کے نام تھے اور وہاں پر قوم ٹیک کا نام نہیں تھا اس نام کو شامل کرایا گیا کیونکہ وہ آئی ایس پی آر کے ساتھ کام کرتی رہی ہے 7 مہینے تک اس سے جنسی کو بزنس نہیں دیا گیا اور جو پہلا ایڈ دیا گیا وہ بھی آئی ایس پی آر کا تھا جو فروری 2020 میں دیا گیا اس لئے فردوس عاشق اعوان کا موقف درست لگتا ہے کہ اگر انہوں نے اسے جنسی کے ساتھ ڈیل کی ہوتی تو سات مہینے تک بزنس کیوں نہیں دیا ۔
اب فردوس عاشق اعوان نے تیاری کرلی ہے وہ چپ نہیں رہیں گی اپنا بیان یہاں عوام کو دیں گے اور بتائیں گی کہ کس طرح ان کی وزارت نے مداخلت کی جاتی تھی اختیارات وزیراعظم آفس میں تھے فیصلے وہاں تھے اختیارات وہاں تھے ہدایات وہاں سے آتی تھیں آنے والے دنوں میں کافی شور شرابا اور فائرورک نظر آرہا ہے کیوں کہ فردوس عاشق اعوان بھرپور تیاری کے ساتھ میدان میں آنے والی ہیں خاموش بیٹھنے والی نہیں ۔