فردوس عاشق اعوان نے توپوں کا رخ وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کی جانب کر دیا۔

سابق معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے توپوں کا رخ وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کی جانب کر دیا۔نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے خود پر لگائے گئے الزامات کا دفاع بھی کیا۔وزیراعظم کی سابق معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ وزارت میں دخل اندازی کرتے تھے اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے بلاکر استعفی مانگا۔
فردوس عاشق اعوان نے یہ بھی کہا کہ میرے خلاف خبریں چلوائی گئی۔تاہم حکومتی ذرائع نے فردوس عاشق کا الزام مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کے پاس ایسے اختیارات نہیں ہوتے اسی لیے ممکن نہیں کہ کسی بھی سیاستدان کی تعیناتی کو اپنی مرضی سے مستعفی ہونے کا کہہ سکیں یا اسے ڈی نوٹیفائی کرسکیں۔

۔حکومتی ذرائع کے مطابق بہت سے کیسز میں وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری پر تنقید کرنے کا مقصد وزیراعظم کو ہدف بنانا ہوتا ہے جس پر براہ راست تنقید نہیں کی جاتی۔

خیاک رہے کہ فردوس عاشق اعوان آج پریس کانفرنس کرنے والی تھیں۔ فردوس عاشق اعوان معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات کے عہدے سے سبکدوشی کے بعد یہ پہلی کانفرنس ہونی تھی،تاہم ان کی یہ پریس کانفرنس عین موقع پر منسوخ کر دی گئی۔ذرائع کے مطابق فردوس عاشق نے خود پر لگائے جانے والے الزامات پر بات کرنا تھی۔واضح رہے کہ ہ کچھ دن قبل وزیراعظم عمران خان نے فردوس عاشق اعوان کو معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات کے عہدے سے ہٹا دیا تھا جس کے بعد انہوں نے سینیٹر شبلی فراز کو وزارت اطلاعات و نشریات کا قلمدان سونپ دیا تھا۔
انہوں نے اپنے عہدے سے سبکدوشی کے بعد ٹوئٹ میں کہا تھا کہ کپتان کو بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی کا حق ہے اور میں ہر حال میں کپتان کے فیصلوں کی پابندی کروں گی اور پارٹی جو ذمہ داریاں دے گی انہیں نبھائوں گی