اولین ترجیح عوام کی زندگی کو محفوظ بنانا ہے اور ایک سازش کے تحت ہماری خدمت کے اس جذبے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش جارہی ہے

کراچی: پاکستان پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہماری اولین ترجیح عوام کی زندگی کو محفوظ بنانا ہے اور ایک سازش کے تحت ہماری خدمت کے اس جذبے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش جارہی ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ان خیالات کا اظہار اپنی سربراہی میں پارٹی کے سیکریٹری اطلاعات کے ویڈیو لنک کے ذریعے ہونے والے اہم اجلاس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کیا،

ان کا کہنا تھا کہ روزانہ اجرت پر کام کرنے والے لوگوں کے لئے موجودہ حکومت نے اب تک کچھ نہیں کیا، انہوں نے بتایا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت صرف ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی جانب سے دی گئی گائیڈ لائن پر کام کررہی ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو کہنا تھا کہ سندھ حکومت کے بروقت اقدامات سے پاکستان ووہان، اٹلی اور نیویارک بننے سے بچ گیا اور سندھ حکومت کے اقدامات کی پیروی کرکے دیگر صوبوں کوبھی صورت حال کو کنٹرول کرنے کا موقع ملا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہماری سیاست کا محور عوام کی خدمت ہے اور اس کے لئے ہم کوئی بھی قربانی دینے کیلے تیار ہیں، سہولیات کی عدم دستیابی کے حوالے سے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو کوئی سہولت نہیں دی، وفاقی حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ تمام صوبوں کی مدد کرے، اس موقع پر پی پی پی سربراہ کو شرکاء کی جانب سے بریفنگ بھی دی گئی، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو سربلند خان جوگیزئی نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں ٹیسٹ کٹس نہیں، عوام کا کوئی پرسان حال نہیں، سینیٹر روبینہ خالد نے بتایا کہ کے پی کے میں ڈاکٹرز جان کی بازی ہار رہے ہیں، ان کو حفاظتی سامان فراہم نہیں کیا گیا، حسن مرتضی نے آگاہ کیا کہ پنجاب میں لوگ طبی سہولیات کے لئے پریشان ہیں، کوئی توجہ دینے کیلے تیار نہیں ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو سعدیہ دانش نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گلگت بلتستان میں نہ ٹیسٹ کٹس ہیں نہ عملے کے پاس کوئی مراعات، جاوید ایوب نے کہا کہ وفاق نے آزاد کشمیر کو مکمل طور پر نظر انداز کیا ہوا ہے، اجلاس میں مولا بخش چانڈیو، نفیسہ شاہ، چوہدری منور انجم، پلوشہ خان، قمرزمان کائرہ، چوہدری منظور، سعید غنی، حسن مرتضی، عاجز دھامراہ، سربلند خان جوگیزئی، نوابزادہ افتخار، روبینہ خالد، سعدیہ دانش، جاوید ایوب، ناصر شاہ، بیرسٹر عامر حسن، سسی پلیجو، سحر کامران اور نذیر ڈھوکی بھی اجلاس میں موجود تھے۔