کراچی کے ٹرانسپورٹروں ٹرانسپورٹ ورکروں کے بزرگ رہنما ارشاد بخاری کا وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کے نام کھلا خط اپیل فریاد

کراچی کے ٹرانسپورٹروں ٹرانسپورٹ ورکروں کے بزرگ رہنما ارشاد بخاری کا وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کے نام کھلا خط اپیل فریاد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محترم وزیراعلی صاحب السلام علیکم ۔ آپ صوبے کے اقتدار اعلی کے مالک بظاہر ضرورہیں لیکن آپ ہم سب جانتے ہیں کہ اقتدار اعلی کا اصل مالک صرف خدا ہے ایک طرف آپ کرونا وائرس کے خلاف کاک ڈاون کرکے بین الاقوامی دنیا میں شہرت حاصل کرنا چاہتے ہیں

لیکن در حقیقت آپ یہ بھول رہے ہیں کہ آپ صوبے کے غریب ٹرانسپورٹروں اور غریب ٹرانسپورورکروں تمام غرییب مزدوروں کو فاقوں اور موت سے دوچار کیے ہوئے ہیں آپ کو جب یہ خبر ملی گی کہ کراچی کے مزدوروں نے اپنے آپ کو آگ لگا کے اور بچوں کو بھی آگ لگا کے اس دنیامیں تڑپ تڑپ کر مرنے سے جان میشہ کے لیے چھڑا لی ہے توپھر آپ کی مستعدی آپ کے کسی کام نہ آئےگی کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد نے اعلان کیا تھا کہ ہم کسی بات کی پروا کیے بغیر یکم مئ کو گاڑیاں سڑکوں پہ لائین گے لیکن ہم نے شہر کے حالات کے پیش نظر تاریخ میں توسیع کر کے 5_ فروری کردی آپ اس زعم میں ہیں اگر ٹرانسپورٹروں نے ایسا کیا تو ہم پولیس اور دیگر ایجنسیوں کے ذریعے ان کو ڈنڈے مار کے واپس بھیج دیں گے اور ان کے لیڈروں کو گرفتار کرلیں گے وزیراعلی صاحب ہم گرفتاریوں سے نہیں ڈرتے


لیکن ملکی حالات اور حب الوطنی کا تقاضہ ہے کہ ہم حکومت کے لئے ایسے حالات پیدا نہ کریں جس سے شہر کے حالات خراب ہونے اور تصادم کا خطرہ ہو میں نے اپنے وفد کے ہمراہ وزیر ٹرانسپورٹ اویس قادر شاہ اور وزیر تعلیم سعید غنی سے ملاقات کی ہم نے ان کو تجویز دی کہ اگر حالات اجازت نہیں دیتے گاڑیاں چلانے کے لیے تو وزیر اعلی سے کہہ کر ٹرانسپورٹ اور ٹرانسپورٹ ورکروں کے لیے امدادی پیکج کا اعلان کیا جائے سعید غنی صاحب نے جواب دیا کہ مرکز نے ہماری کوئی مدد نہیں کی لہزا ہمارے پاس فنڈ ختم ہوگئےہیں اور امدادی پیکج کا اعلان تو نہیں کرسکتے البتہ دو تین دن تک آپ کو ایس او پیز کے تحت گاڑیاں چلانے کی اجازت دیں گے لیکن دو دن بعد وزیر ٹرانسپورٹ نے سندھ ایر کنڈیشنڈ بس اونرز ایسوسی ایشن کو بلا کر کہا کہ ہم گاڑیاں چلانے کی اجازت ہرگز نہیں دے سکتے ۔ اور ٹھیک ایک دن کے بعد وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے سندھ کے عوام کو مژدہ سنایا کہ لاک ڈاون 23 مئ تک بڑھا دیا گیا ہے اور اس کوسختی سے لاگو کیا جائے گا جب کہ کراچی کے ٹرانسپورٹ ورکروں اور شہر کے مزدوروں کے لیے کسی پیکج کا اعلان نہیں کیا وزیراعلی سے اور ان کی کابینہ خدا کا خوف کریں اور کراچی کے عوام کو فاقوں سے بچائیں ان کے لئے کسی امداد کا اعلان کریں سندھ کی عوام کو روٹی کے لیے تڑپا تڑپا کر نہ ماریں بصورت دیگر ہم آپ کا تو کچھ نہ بگاڑ سکیں گے لیکن اپنی گاڑیوں کو چوراہوں پر لاکر کھڑا کرکے غریب ٹرانسپورٹروں اور غریب ٹرانسپورٹ ورکروں کوان کے بال بچوں سمیت اپنی گاڑیوں کو آگ لگائیں گے اور اس کی تمام تر ذمہ داری وزیر اعلی سندھ اور سندھ حکومت پر ہوگی