وزیراعظم کام نہیں کرسکتے تو استعفیٰ دیں:بلاول بھٹو؛ اپنی ناکامیاں وفاق کے سر نہ تھوپیں:شبلی فراز

وزیراعظم کام نہیں کرسکتے تو استعفیٰ دیں:بلاول بھٹو؛ اپنی ناکامیاں وفاق کے سر نہ تھوپیں:شبلی فراز

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے اپنی نالائقی اور نااہلی سے صوبائی حکومتوں کو نقصان پہنچایا ہے ،وزیراعظم کام نہیں کرسکتے تو استعفیٰ دیں، کسی اور کو آنے دیں، کوئی وزیر اعظم کو سمجھائے کہ وہ اب کنٹینر پر نہیں ہیں۔وزیراعلی ٰسندھ مراد علی شاہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کورونا وائرس سے سب سے زیادہ دیہاڑی دار طبقہ متاثر ہوا، جسے ریلیف ملنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کا مقابلہ کرتے ہوئے 9 ڈاکٹر شہید جبکہ طبی عملے کے 400 افراد متاثر ہوئے ہیں، وفاقی حکومت کو اپنی ذمے داری اٹھانا پڑے گی۔پی پی چیئرمین نے مزید کہا کہ پہلے دن سے وزیراعظم عمران خان یومیہ اجرت والوں کا ذکر کرتے ہیں لیکن حکومت نے انہیں ایک روپیہ نہیں دیا۔ بلاول نے وزیراعظم عمران خان کو مشورہ دیا کہ وہ کنٹینر سے اتریں اور وزیر اعظم بنیں۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے ہم آپ پر تنقید نہیں کررہے ہم آپ سے مدد کی درخواست کررہے ہیں، وزیراعظم بنیں اور اس مشکل وقت میں ہماری مدد کریں۔ مزید کہا ہمارے وزیر دن رات کام کرتے ہیں، وفاق ہمارے وزیراعلیٰ کونشانہ بناتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم سے پوچھتا ہوں کہ کون سی ایلیٹ کلاس ہے جس نے یہ لاک ڈائون نافذ کیا، لاک ڈائون میں توسیع کا اعلان وفاقی وزیر نے کیا۔ وفاقی حکومت صوبوں کی کوئی مدد نہیں کر رہی، وزیر اعظم کیا صرف اسلام آباد کے ہی وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں۔بلاول نے کہا کہ اگر ہم لاک ڈائون ختم کرتے ہیں تو ہسپتالوں پر اور دبائو آئے گا، ہردن یہ حکومت نیاشوشہ چھوڑتی ہے ، وہ چاہتے ہیں کورونا کیسز کو میڈیا میں اہمیت نہ ملے ، اٹھارویں ترمیم کے خلاف پہلے بھی سازشیں ہوئی ہیں، اس وقت اٹھارویں ترمیم کوکوئی خطرہ نہیں۔بلاول نے کہا کہ وزیراعظم چاہتے ہیں کہ وہ میئر اسلام آباد بنیں، پی پی دور میں سیلاب آیا ،سوات آپریشن سے لوگ متاثرہوئے ، ہم نے مدد کی،کبھی نہیں کہا کہ کے پی حکومت خود کرے ، اسلام سکھاتا ہے کہ کوئی مشکل میں ہو تو مدد کریں۔بلاول نے کہا خدشہ ہے کہ خدانخواستہ کراچی کے حالات نیویارک جیسے نہ ہوجائیں ، ہمیں مل کرفیصلے کرنے ہیں اورقیادت وزیر اعظم نے کرنی ہے ،آپ پورے ملک کے وزیراعظم ہیں، سپورٹ نہیں کرسکتے تومخالفت بھی نہ کریں۔علاوہ ازیں نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہاہے حکومت کا ردعمل ذمہ دارانہ نہیں،چیئرمین بلاول نے آج بھی حکومت کو قومی یکجہتی کی دعوت دی،یہ وقت قومی یکجہتی کا ہے ، سیاست کا نہیں۔حکومت، وزراء اور لاتعداد ترجمان ہوش کے ناخن لیں۔ہم نے سیاست شروع کی تو مانگے تانگے کی سرکار چل نہیں سکے گی۔

اسلام آباد،کراچی (خصوصی نیوز رپورٹر،92 نیوز رپورٹ، سپیشل رپورٹر، سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی وزیراطلاعات شبلی فراز نے بلاول بھٹوکی پریس کانفرنس پراپنے ردعمل میں کہاہے کہ بلاول بھٹو نے ثابت کیاکہ وہ اشرافیہ کے نمائندے ہیں، بلاول بھٹوکا مزدوروں اورمحنت کشوں سے کوئی تعلق نہیں، بلاول بھٹونے سندھ حکومت کی نااہلی وفاق پرڈالنے کی کوشش کی، کورونا پرسیاست کرنے والوں کوقوم معاف نہیں کرے گی،دن کے اوقات میں سونے والے حقیقت سے نابلد ہیں، بلاول بھٹوسیاست نہیں کام کریں،یہ قوم کی خدمت کاوقت ہے ، احساس کیش ایمرجنسی پروگرام کے تحت144ارب مستحق افرادمیں تقسیم ہو رہے ہیں۔علاوہ ازیں وفاقی وزیراطلاعات شبلی فراز نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے مکمل لاک ڈاؤن ہو، ہمارا ملک مکمل لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہوسکتا، لاک ڈاؤن ایسا ہونا چاہئے جس سے معیشت کا پہیہ بھی چلتا رہے ، ہر صوبہ ہر انڈسٹری کے حوالے سے ایس او پیز وضع کرے ،وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیر اعظم نے مزدوروں کا خیال رکھتے ہوئے تعمیراتی شعبے کو کھولا۔ ہماری سوچ کا محور مزدوروں کی فلاح ہے ، ہمیں اس ملک میں ایسے طبقوں کو تحفظ دینا ہوگا،وزیر اعظم نے خود کو تقاریر تک محدود نہیں رکھا، عملی اقدامات کیے ۔ حکومت میڈیا ورکرز کا تحفظ کرے گی۔ ہم نے انڈسٹری کو دو فیز میں کھولنے کا فیصلہ کیا ہے ، دو مرحلوں میں دکانیں کھولی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ سمارٹ لاک ڈاؤن پر حکومت پر تنقید کی گئی، کورونا وباء کو ہلکا نہیں لے سکتے ، مکمل لاک ڈاؤن میں چھوٹا طبقہ ہی متاثر ہوگا، ایک طریقہ ہے سب کچھ بند کردیں اور گھروں میں بیٹھ جائیں، مکمل لاک ڈاؤن کا فارمولا کئی ملکوں میں فیل ہوگیا ہے وزیر اطلاعات نے عوام سے درخواست کی ہے کہ موجودہ صورتحال میں حفاظتی تدابیر پر عمل کریں۔ انہوں نے کہا موجودہ صورتحال میں وزیراعظم کو نئی ٹیم کی ضرورت تھی اور انہیں اپنی ٹیم تبدیل کرنے کا حق ہے ، وزارت اطلاعات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کریں گے ، میں سیاست میں ہوں تو صرف عمران خان کی وجہ سے ہوں، حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنا اپوزیشن کا حق ہے ، پاکستان اب وہ پاکستان نہیں جس میں 2 سیاسی جماعتیں تھیں، حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہیں۔علاوہ ازیں وفاقی وزیرمواصلات مرادسعید نے بلاول بھٹوکی پریس کانفرنس پرردعمل میں کہاہے اپنی ناکامیوں کو وفاق کے سر تھوپنے کی ناکام کوشش کے علاوہ فرزند زرداری کے بس میں کچھ نہیں، 18ویں ترمیم اوراین ایف سی سے ملنے والے پیسے اچھے لگتے ہیں تاکہ ڈاکے ڈالے جاسکیں،کوئی بلاول بھٹو زرداری کو بتائے صحت صوبائی معاملہ ہے ،وفاق کے مکمل تعاون کے باوجود آج بلاول کے پاس بتانے کیلئے کچھ نہیں۔حکومتی ترجمان شہباز گل نے کہا بلاول بھٹوکی پریس کانفرنس عوام کوگمراہ کرنے کی ناکام کوشش ہے ، آپ کوکیش دیاتوآپ پاپڑوالے کے اکاؤنٹ سے منی لانڈرنگ کریں گے ، عمران خان اب آپ کو چوری نہیں کرنے دے گا۔ سینیٹر فیصل جاوید نے کہا ہے کہ جناب بلاول! آپ بالکل فارغ ہیں اور آپ کے مطلوبہ نمبر سے آپ کیلئے اس وقت کوئی جواب موصول نہیں ہورہا۔بلاول سندھ میں اپنی حکومت کا رپورٹ کارڈ عوام کو دکھائیں، اٹھارہویں ترمیم کہاں گئی ؟ سندھ کی خودمختاری کہاں گئی۔پی ٹی آئی رہنماحلیم عادل شیخ اور فردوس شمیم نقوی کا کہناتھابلاول زرداری وفاق پرالزامات لگانے سے پہلے خود اپنی کارکردگی بھی بتائیں۔

Courtesy 92 News Urdu