سعودی عرب نے سب سے زیادہ اسلحہ خریدنے میں بھارت کو بھی پیچھے چھوڑدیا

ملکی سالمیت کو خطرات کیوں پیش آتے ہیں؟ آخر ایسے حالات کیوں پیدا کردئیے جاتے ہیں کہ دیگر ممالک کے ساتھ دشمنیاں پالنی پڑجائیں، ایک طرف ہمارے اندرونی حالات اس قابل نہیں ہیں کہ ہر شخص پرسکون اور بے فکر دن گزار سکے اور اْسے آنے والے دن کے لئے روٹی کی فکر نہ کرنی پڑے۔
دوسری طرف ملک کی حفاظت اور سالمیت کے لئے ہمیں بجٹ کا ایک بھاری حصہ مختص کرنا پڑتا ہے۔ دْنیا اس وقت جن مسائل کا شکار ہوچکی ہے میں سوچتی ہوں کہ اس وقت تو سارا اسلحہ، ساری فوجیں، توپیں، کارتوس وغیرہ سب بیکار پڑے ہیں۔ دْنیا کو خبر بھی نہ تھی کہ ایک دن اْنہیں ایسے ان دیکھے دشمن کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے جہاں سالہا سال اربوں روپے سے خریدا گیا تمام تر اسلحہ ایک کونے میں زنگ کھا رہا ہوگا اور حضرت ِ انسان بس اپنی بے بسی پر ہاتھ مل رہا ہوگا۔ اب بس اس تمام اسلحے کو دیکھ کر آنکھیں سینکیں اور آہیں بھریں اس کے سوا اس وقت تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔کچھ دن پہلے میں ایک سروے رپورٹ پڑھ کر کچھ حیران ہوئی۔ آئیے پہلے آپ بھی اس بارے میں جان لیجئے کہ دْنیا میں سب سے زیادہ اسلحہ کون کون سے ممالک خریدتے ہیں اور اندازہ کیجئے کہ بجٹ کا کتنے فیصد اسلحہ کی خریداری پر صرف ہوتا ہوگا۔
سویڈش تحقیقاتی ادارے”سپری” کی تازہ رپورٹ کے مطابق 2002ء کے مقابلے میں 2018ء میں ہتھیاروں کی صنعت میں47فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پانچ برسوں کے دوران سعودی عرب نے سب سے زیادہ اسلحہ خریدنے میں بھارت کو بھی پیچھے چھوڑدیا، یعنی پانچ برسوں کے دوران سعودیہ نے فروخت ہونے والا 12فیصد اسلحہ خریدا ہے جس میں 68فیصد اسلحہ امریکہ سے خریدا گیا ہے جبکہ اس لسٹ میں بھارت دوسرے نمبر پر ہے۔ 9اعشاریہ5فیصد اسلحہ بھارت سرکار نے خرید کر اپنا سابق ریکارڈ تقریباً برقرار ہی رکھا ہے۔

ظاہر ہے کشمیر میں جو حالات پیدا کردئیے گئے ہیں اور پچھلے کئی برسوں سے جس طرح کی جنگ جاری ہے اسلحہ کی خریداری تو اْن کی ضرورت ہے اور صرف کشمیر ہی نہیں اور کئی محاذوں پر بھی بھارت اسلحہ کا کافی ضرورت مند ہے۔سپری کے مطابق بھارت نے58فیصد اسلحہ روس سے، 15فیصد اسرائیل سے اور 12فیصد امریکہ سے خریدا ہے۔ تیسرے نمبر پر مصر کا شمار ہے۔ 2014ء سے2018ء کے درمیان خریدے گئے اسلحے کی شرح مجموعی عالمی تجارت کا تیرہ فیصد بنتی ہے اس سے پہلے یہ شرح محض ایک اعشاریہ آٹھ فیصد تھی۔ مصر نے37فیصد اسلحہ فرانس سے خریدا۔
چوتھے نمبر پر آسٹریلیا ہے جس کے خریدے گئے بھاری ہتھیاروں کی شرح عالمی تجار ت کا 4اعشاریہ6فیصد رہی۔ پانچویں نمبر پر الجزائر رہا جس کے خریدے گئے بھاری ہتھیارمجموعی عالمی تجارت کا4اعشاریہ 4فیصد بنتے ہیں۔ الجزائر نے زیادہ اسلحہ روس سے خریدا ہے۔ آپ ذرا ان کے فیصد کا ذہن میں اندازہ لگائیے۔
چین ہمیشہ سے اسلحہ کی خریدوفروخت میں ٹاپ ٹین کی لسٹ میں شامل رہا ہے۔2014ء اور 2018ء کے درمیان چین اسلحہ برآمد کرنے والا پانچواں بڑا ملک لیکن بھاری اسلحہ خریدنے والا دْنیا کا چھٹا بڑا ملک بھی رہا ہے، کل عالمی تجارت سے 4اعشاریہ2فیصد اسلحہ چین نے خریدا ہے۔ ساتویں نمبر پر متحدہ عرب امارات ہے جس نے بھاری اسلحے کی مجموعی عالمی تجارت میں سے 3اعشاریہ7فیصد اسلحہ خریدا ہے جس میں سے 64فیصد امریکی اسلحہ ہے۔ اس کے بعد عراق کی باری آتی ہے۔ امریکی اور اتحادیوں کے حملے کے بعد سے عراق بدستور عدم استحکام کا شکار رہا ہے، عالمی برادری کے تعاون سے عراقی حکومت ملک میں اپنی عملداری قائم کرنے کی کوششوں میں ہے لہذا اس وقت یہ بھاری اسلحہ خریدنے والا آٹھواں بڑا ملک ہے۔ اس کے بعد جنوبی کوریا کا نمبر آتا ہے۔

جنوبی کوریا کے بعد ویت نام ہے اور جناب اس کے بعد پاکستان کا نمبر بھی ہے۔ پاکستان گزشتہ درجہ بندی میں عالمی سطح پر فروخت کردہ3اعشاریہ 2فیصد اسلحہ خرید کو نویں نمبر پر تھا تاہم تازہ درجہ بندی میں پاکستان نے جتنا بھاری اسلحہ خریدا وہ اسلحے کی کل عالمی تجارت کا2 اعشاریہ 7فیصد ہے۔ میں ان تمام اعدادوشمار میں پاکستان کے حوالے سے کچھ پریشان ہوئی، پریشانی کی وجہ یہ نہیں کہ یہ اسلحہ خرید کیسے لیا گیا یہ تو الگ بحث ہے۔ فکر مندی کی بات یہ ہے کہ ہمارے جیسے ترقی پذیر ملک کے لئے اتنا افورڈ کرنا آسان کیوں ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ ہم نے اس لسٹ میں تو اپنا نام بنا لیا ہوا ہے۔ لیکن سائنسی ترقی اور ملکی ترقی کی دوڑ میں ہم کتنے پیچھے ہیں اور اس وقت ہمارا نمبر کیا ہے؟
مجھے تو اس بارے میں زیادہ معلومات حاصل نہیں ہوسکیں ، ہوسکتا ہے میرا علم ناقص ہو آپ ااس بارے میں زیادہ بہتر جانتے ہوں؟ بات طنزوتشنیع یا اپنے ملک کو کمتر جاننے کی نہیں ہے۔ یقیناً ہر شخص کو اپنے ملک سے بے پناہ محبت ہوتی ہے، لیکن یہ بات دْکھ کی ضرورہے۔ ہمارے سامنے بے شمار ممالک کی مثالیں ہیں جنہوںنے ہمارے بعد دْنیا کی دوڑ میں حصہ لیا اور آج ہم سے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔ہم آخر چند قدم پیچھے کیوں رہ گئے ہیں؟ خیر ایک اور بات بھی سوچ رہی ہوں کہ ان تمام ممالک کے خریدے گئے اسلحہ میں سے کوئی اسلحہ اس وقت کورونا کو بھی مارسکتا ہے کیا؟
Lubna  Safdar  Nawa-i-waqt