شہباز شریف کی دوبارہ لندن اڑان بھرنے کی تیاری، وطن واپس آںے کا فیصلہ ٹھیک نہیں تھا، دورے کے مقاصد حاصل نہیں ہوئے

پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے ایک بار پھر لندن جانے کا پلان بنا لیا ہے اس حوالے سے وہ قریبی عزیزوں سے مشورے بھی کر رہے ہیں۔92 نیوز کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف ایک بار پھر لندن جانے کا پلان ترتیب دینا شروع کر رہے ہیں۔بااثر حلقوں میں شہباز شریف سے متعلق چہ مگوئیاں عروج پر پہنچ گئیں۔
انتہائی معتبر ذرائع ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف نے دوبارہ لندن جانے کے لیے اپنے قریبی دوستوں اور عزیزوں سے صلاح مشورے شروع کر دیئے ہیں، صدر ن لیگ اس وقت انتہائی مایوسی کا شکار ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کا پاکستان آنے کا فیصلہ غلط تھا۔وطن واپسی کے دوران ان کے مقاصد پورے نہیں ہوئے، شہباز شریف کو محسوس ہونے لگا ہے کہ حکومت نے الٹا ان کے ارد گرد گھیرا تنگ کردیا ہے اور نیب کی جانب سے متعدد نوٹس بھی موصول ہو چکے ہیں ،ذرائع نے بتایا ہے کہ شہباز شریف نے اسلام آباد میں انتہائی قریبی دوست سے لندن جانے کے لیے بات کی اور کہا کہ پاکستان سے جانے کے لیے ان کی مدد کریں۔

واضح رہے کہ نیب نے شہباز شریف کو طلب کیا تھا تاہم انہوں نے کورونا کے باعث نیب آفس جانے سے انکار کر دیا تھا۔وفاقی وزیر شیخ رشید نے کہا تھا کہ ممکن ہے شہباز شریف کو گرفتار کر لیا جائے۔ترجمان نیب نے وفاقی وزیر شیخ رشید کے بیان پر ردعمل میں کہا کہ شہباز شریف سے چند سوالات کے مفصل اور جامع جوابات درکار تھے۔ 17 اپریل کو شہبازشریف کو گرفتارکرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
نیب ایک معتبرقومی ادارہ ہے۔ نیب کی جانب سے ہر کارروائی آئین اورقانون اورشواہد کے مطابق کی جاتی ہے۔ نیب پرکسی دم کا کوئی اثرنہیں ہوتا۔ برائے مہربانی نیب کی بنیاد پرسیاست نہ کی جائے تو بہتر ہے۔ نیب کے افسران کا تعلق کسی سیاسی جماعت، گروہ یا افراد سے نہیں۔ ترجمان نے کہا کہ نیب افسران کی وابستگی صرف اورصرف ریاست پاکستان سے ہے-