مولانا طارق جمیل…. آخر ایسا کیا کہہ دیا!

مولانا طارق جمیل…. آخر ایسا کیا کہہ دیا!
-سہیل دانش-
ایوان وزیراعظم میں فنڈریزنگ کی پوری تقریب میں درحقیقت مولانا طارق جمیل کی رقت آمیز دعا کی مہک، اس کی تاثیر اور رب کائنات کے آگے آہ و زاری ہی اس محفل کا سب سے زیادہ دل موہ لینے والا منظر اور کلائمکس تھا۔ مجھے یاد ہے کہ مولانا طارق جمیل سے پہلی ملاقات کی ایک نظر میں وہ مجھے سادگی شرافت اور ایمانداری کے پیکر دکھائی دیئے۔ شکل و صورت، قول و فعل، چال ڈھال اور خیالات و احساسات سے وہ مجھے سچے، کھرے اور پابند مسلمان دکھائی دیئے ایسا انسان جسے اپنی تاریخ اپنے ارتقاءاور اپنے فلسفے پر ناز ہو۔ پیغمبر دو جہاں ﷺ کا نام آتا ہے تو ان کے چہرے پر عقیدت کے رنگ بکھر جاتے اور آنکھیں نم ہوجاتیں۔

اس سے پہلے میں کئی ایسی شخصیات سے ملاقات کا شرف حاصل کرچکا تھا ان میں ڈاکٹر اسرار بھی تھے جن کی عمیق نظر اور دانش کو دیکھ کر عش عش کرنے کو دل چاہتا تھا۔ جن سے ہر بار گفتگو کر کے یہ احساس ہوتا تھا کہ یہی تو وہ شخص ہیں جنہیں میں اکیسویں صدی کا دماغ کہہ سکتا ہوں۔ انہیں علم تھا کہ خدا کی بات کو کس لہجے اور فریکوئنسی میں کہا جائے کہ وہ دلوں کے قفل کو توڑ کر ذات میں رچ بس جاتی ہے۔ مجھے مولانا مودودی کو بھی دیکھنے کا شرف حاصل ہوا۔ جن کی فکر کی روشنی آج بھی لوگوں کو اندھیروں میں راستہ دکھاتی ہے۔ اُن کی علمی عظمت کا مشاہدہ کرنا ہو تو صرف تفہیم القرآن کا مطالعہ ہی کرلیجیے۔ مولانا احتشام الحق تھانوی جن کی پرتاثیر اور روشن گفتگو بھٹکے ہوﺅں کو مصلے پر لابٹھاتی تھی۔ 27 رمضان کو ختم القرآن کے بعد محترم تھانوی صاحب کی مسحور کن دعائیں مجھے آج بھی یاد ہیں جنہیں سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے تھے۔ حضرت مولانا نورانی جیسی شخصیت جن کی روحانی گفتگو دلوں کو جوڑنے کا کام کرتی تھی۔ جن کی قرا¿ت قرآنی سن کر مردہ روحوں میں زندگی چمکنے لگتی تھی۔ پھر میں اپنے مرشد ڈاکٹر غلام مصطفےٰ خان کو کیسے بھول سکتا ہوں۔ جن کی زندگی اور عمل کو دیکھ کر احساس ہوتا تھا کہ ولی کامل کیسا ہوتا ہے۔ مجھے ہمیشہ فخر رہے گا کہ سندھ یونیورسٹی جامشورو میں وہ میرے استاد بھی رہے۔ جن کی ذات کے سورج میری شخصیت کے میلے اور دھندلے آئینے میں چمکتے ہیں۔ یونیورسٹی کا وہ دور بھی کیا دور تھا۔ جب حیدرآباد کی اولڈ یونیورسٹی کیمپس کے عقب میں واقع ان کی رہائش گاہ کے دالان میں کئی سال تک ہر جمعرات اور جمعہ کو عصر اور مغرب کی نماز ان کے پیچھے ادا کر کے اور دعائیہ حلقے میں شریک ہوکر وہ پاکیزگی اور روحانیت آج بھی محسوس کرتا ہوں۔ احادیث کی کتب اور اسلامی تاریخ ڈاکٹر صاحب کی لائبریری کا حصہ ہوتی تھیں۔ جو کوئی آپ سے دعا کی درخواست کرتا تو آپ کا ریفرنس صرف اللہ کے محبوب ﷺ کے ارشادات بتاتے اور کہتے کہتے زبان نہیں تھکتی تھی۔ یہ اور ایسی قابل احترام شخصیات کی زندگی کے اوراق ہمیں پلٹتے رہنے چاہئیں جنہوں نے سینکڑوں نہیں ہزاروں لاکھوں کی زندگیاں بدل ڈالیں جنہوں نے بھٹکوں کوخدا کے سامنے لا بٹھایا۔
مولانا طارق جمیل کی شخصیت کا سب سے بڑا کمال یہی ہے کہ وہ عاشق رسول ﷺ ہیں آپ کی ذات میں عجز بھرا ہے۔ آپ دلکش لہجے، بردباد متین اور کمپلیکس فری شخص ہیں، یہ بات وہ اپنے خطبات میں بار بار دہراتے ہیں کہ ان کا ایمان ہے کہ اگر دنیا میں حضرت امام حسینرضی اللہ تعالیٰ عنہا نہ ہوتے اگر وہ کربلا میں اپنے خاندان کی قربانی نہ دیتے تو شاید کوئی بھی شخص برائی کے خلاف اکیلا کھڑا ہونے کی جرا¿ت نہ کرتا۔ نواسہ رسول ﷺ کو اپنا آئیڈیل ماننے والے مولانا طارق جمیل نے خود میں اتنی جرا¿ت اور حوصلہ پیدا کرلیا کہ ان کے خطبات اور خطابات میں ایک زندگی نظر آتی ہے جو ایک ایک لفظ سے جھلکتی ہے۔ طرز حکمرانی کے لیے وہ امیر المومنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عموماً مثالیں دیتے ہیں۔ خلفائے راشدین کی تقلید کے لئے ان کا خیال کہ ہمارے حکمران کو ایسا بندہ خدا ہونا چاہیے۔ جس کے قول و فعل میں تضاد نہ ہو۔ جس کے عمل اور گفتار میں تضاد نہ ہو۔ وہ اندر اور باہر سے دو رنگا نہ ہو۔
مجھے مولانا طارق جمیل کی شخصیت میں ایک چمک دکھائی دیتی ہے۔ ایک اسپارک دکھائی دیتا ہے ایک مقناطیسیت ہے جو عام لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرلیتی ہے۔ جو ان کی طرف لپکنے لگتے ہیں ان کا طرز بیان دل موہ لینے والا ہے۔ اس لیے ہر کوئی خصوصاً نوجوان ان کے طرز تکلم سے متاثر دکھائی دیتے ہیں اور بعض نوجوان تو سچائی اور حق کی طرف ایسے پلٹے کہ ان کی زندگی میں انقلاب آگیا۔ مولانا کا تعلق ایک کھاتے پیتے گھرانے سے تھا، ان کے والدین میاں چنوں کے ایک قصبہ تلمیہ میں رہتے تھے۔ وہ راجپوتوں کے اس قبیلے سے تعلق رکھتے تھے جو شیرشاہ سوری کے دور میں اس علاقے کا حکمران تھا۔
والدین کی خواہش تھی کہ ان کا بیٹا ڈاکٹر بنے کالج کی تعلیم کے لیے کسی بھی ہونہار طالب علم کے لئے پہلی چوائس گورنمنٹ کالج لاہور ہی ہوا کرتا تھا۔ نصابی تعلیم میں مولانا کا ریکارڈ شاندار تھا۔ برادرم مظہر برلاس نے مولانا طارق جمیل کی زندگی سے متعلق چند دلچسپ باتیں لکھی ہیں۔ وہ رقمطراز ہیں کہ 1969ءمیں گورنمنٹ کالج کے اقبال ہاسٹل میں عزیز اللہ نیازی اور طارق جمیل روم میٹ تھے۔ دونوں ہاکی کے کھلاڑی تھے۔ طارق جمیل شاندار گلوکار بھی تھے۔ ایک دن عزیز اللہ نیازی طارق جمیل کو رائے ونڈ لے گئے۔ عزیز اللہ نیازی خود تو واپس آگئے، مگر طارق جمیل کا وہی دل لگ گیا۔ ایف ایس سی کے بعد کنگ ایڈورڈ میں داخلہ ہوا۔ مگر وہ میڈیکل کے بجائے دین کی طرف راغب ہوگئے۔ وہ ڈاکٹر تو نہ بن سکے البتہ مولانا بن گئے۔ بظاہر ڈاکٹر نہ بن سکنے والے نے بے شمار انسانوں کا علاج کیا لاکھوں انسانوں کی روحوں کو سکون بخشنے والے طور طریقے سکھائے، رب ذوالجلال نے انہیں بے پناہ شہرت سے نوازا۔ اس مسیحائی کی انہیں کئی بار قیمت بھی ادا کرنی پڑی۔ والد نے یہ کہہ کر گھر سے نکال دیا کہ ”تمہیں لاہور ڈاکٹر بننے کے لئے بھیجا تھا۔ مولوی نہیں۔ کیا ہم زمینداروں کے بچے مولوی بنیں گے۔“ اس کی ایک قیمت چند دن پہلے بھی ادا کرنی پڑی۔ ناجانے میڈیا کے چند لوگ غصے میں کیوں آگئے۔“
میں سوچ رہا ہوں کہ آخر مولانا نے ایسی کیا غلط بات کی ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں آج ہمارے معاشرے میں کیا ہورہا ہے۔ کیا یہاں جھوٹ، بے حیائی اور دھوکہ نہیں ہے، کیا ہم ذخیرہ اندوزی نہیں کرتے رشوت نہیں لیتے کیا دنیا کی کوئی قوم کھانے پینے کی اشیاءاور ادویات میں ملاوٹ کرنے کا سوچ سکتی ہے۔ لیکن یہ اعزاز ہمیں حاصل ہے کیا ہمارے ہاں جگہ جگہ بددیانتی جبڑے کھولے دکھائی نہیں دیتے۔ ہمارے ہاں زکوة کا نظام غلط انداز سے چل رہا ہے۔ ہم ایک دوسرے کا حق مارنے کو برائی نہیں سمجھتے۔ کیا ہمارا نظام عدل بالکل ٹرانسپرنٹ ہے ہم جھوٹ بولتے ہیں منافقت کرتے ہیں۔ کیا ہمارا حکومتی نظام عوام کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ کیا ہمارے معاشرے میں ہر ایک کے لئے تعلیم اور صحت کی سہولت موجود ہے۔ اس ملک کے ہزاروں بچے فاقے کاٹتے ہیں۔ جن کی آنکھوں میں ستارے نہیں روٹیاں چمکتی ہیں اور جن کے ہونٹوں سے ترانے نہیں منتیں جھڑتی ہیں کیا ہمارے تاجروں نے بددیانتی اور گراں فروشی چھوڑ دی ہے۔ کیا اسلام میں سودی نظام کی گنجائش ہے۔ اس معاشرے پر نظر تو ڈالئے۔ قصور میں بچیوں کے ساتھ کیا ہوا۔ تنگدستی، افلاس اور بھوک سے مجبور مائیں اپنے بچوں کو ندیوں میں پھینک رہی ہیں۔ ہر جگہ مجبوریاں ناچ رہی ہیں۔
کچھ دن پہلے خواتین کے حقوق اور آزادی کے حوالے سے تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ عورت کی آزادی پر جس جو سمجھ آیا، کہہ ڈالا۔ عورت کے حقوق، عورت کی آزادی اور عورت کی برابری کے نعرے لگائے گئے۔ پاکستانی عورت کی مظلومیت ثابت کرنے کے لئے امریکہ، یورپ، آسٹریلیا اور مشرق بعید کے حوالے دیئے گئے۔ یہ آج میرا موضوع نہیں ہے۔ لیکن یہاں یہ ضرور کہوں گا کہ غیر ملکی خوشبویات سے معطر الٹرا ماڈرن خواتین نے آزادی نسواں کے سیمیناروں میں فاطمہرضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت محمد ﷺ کا ذکر نہیںکیا۔ جو بچی تھیں تونسل انسانی کے سب سے بڑے انسان کے زخم دھوتی تھی، جر لڑکی تھیں تو اپنے دور کے سب سے بڑے شجاع کو زرہ بکتر پہناتی تھیں اور جو خاتون تھیں تو تاریخ کے سب سے بڑے شہید کی پرورش کرتی تھیں اور جس نے زندگی سے، وقت سے، معاشرے سے عمر بھر کچھ نہیں لیا اسے صرف دیا ہی دیا۔
میری سمجھ میں نہیں آیا کہ مولانا طارق جمیل کی باتوں کاکیوں برا منایا گیا جب ہم دعا کرتے ہیں تو خدائے بزرگ و برتر کے حضور اپنے دانستہ اور غیر دانستہ گناہوں کی معافی اوران گناہوں سے پناہ مانگتے ہیں جن کے ہونے کا امکان نااحتمال ہوتا ہے۔ اللہ کے قرب کے متلاشی لوگ ہم جیسے گناہ گاروں کو ہدایت کا راستہ بھی دکھاتے ہیں اور تنبیہہ بھی کرتے ہیں تو ان کا انداز یہی ہوتا ہے کہ ہم خود احتسابی کا راستہ اختیار کریں اورخود کو بھٹکنے نہ دیں۔ اس میں برا ماننے کی ضرورت نہیں تھی۔
فنڈ ریزنگ کا پروگرام ایک مستحسن قدم تھا۔ غریبوں، ناداروں اور بے کسوں کی مدد کےلئے امدادی پروگرام ہوتے رہنے چاہئیں۔ عمران خان تو ان تجربات سے گزر چکے ہیں۔ ناممکن کو ممکن کیسے بنایا جاتا ہے یہ سبق انہوں نے پڑھ رکھا ہے۔ لیکن جب آپ ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں تو اُمید کی ڈوریں نہ جانے کہاں سے کہاں لے جاتی ہیں۔ آپ کے دامن پر بے ایمانی اور کرپشن کا کوئی چھینٹا نہیں، لیکن تاریخ کے نزدیک حکمرانوں کی انفرادی ایمانداری اور شخصی شرافت کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی کیونکہ یہ کوئی بڑی خوبیاں نہیں یہ سب عام انسان کی خوبیاں ہیں تاریخ بڑے لوگوں کے صرف کارنامے دیکھتی ہے۔ خلفائے راشدین کے کارناموں سے تاریخ کی کتابیں بھری پڑی ہیں اور یہ بھی تاریخ کا سبق ہے کہ اللہ کے بندوں کو مایوس کرنے والے تاریخ کے بجائے کوئز بک میں زندہ رہتے ہیں جنہیں بچے پہیلیوں کی طرح بوجھتے اور کہانیوں کی طرح کہتے ہیں۔