عرفان خان اور سری دیوی کے انتقال پر ‘نامناسب مذاق’ عامر لیاقت کو مہنگا پڑگیا

ٹی وی میزبان اور سیاست دان عامر لیاقت کئی مرتبہ ایسے بیانات دے چکے ہیں جن کے باعث انہیں سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہو اور اب انہوں نے بولی وڈ اداکار عرفان خان کے انتقال کے حوالے سے بھی ایک ایسا مذاق کیا جس کے باعث انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ہوا کچھ یوں کہ عامر لیاقت نے اپنے ٹی وی شو میں پاکستان کے نامور اداکار عدنان صدیقی کو مدعو کیا۔

شو کے دوران ایک موقع پر عامر لیاقت نے عدنان صدیقی سے کہا کہ وہ ان سے کچھ پوچھنا چاہتے ہیں، جس کے بعد ان کے سوال سے عدنان صدیقی خاصے غیر مطمئن بھی نظر آئے

عامر لیاقت کا اس دوران کہنا تھا کہ ’آپ کی وجہ سے دو انسان بچ گئے، ایک رانی مکھرجی اور دوسری بپاشا باسو، اس لیے کیوں کہ آپ نے فلم موم میں کام کیا تو سری دیوی کا انتقال ہوگیا، پھر آپ نے عرفان خان کے ساتھ کام کیا تو ان کا بھی انتقال ہوگیا‘۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے عامر لیاقت کا کہنا تھا کہ ’آپ کو مردانی 2 میں کام کرنے کی آفر ہوئی لیکن آپ نے انکار کردیا اور جسم 2 میں بھی آپ نے آفر ہونے کے باوجود اس میں کام سے منع کردیا، ان دونوں اداکاراؤں کی زندگی آپ کی بدولت ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ باہر آپ (عدنان صدیقی) جس کے ساتھ بھی کام کرتے ہیں ان کا انتقال ہوجاتا ہے۔

تاہم عدنان صدیقی کا اس پر کہنا تھا کہ انہیں سری دیوی اور عرفان خان کے انتقال کا بےحد افسوس ہے

ساتھ ہی انہوں نے عامر لیاقت کو مخاطب کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ یہ بات آپ کے لیے مذاق ہوگی البتہ وہ ایسا نہیں سوچتے اور عرفان خان اور سری دیوی دونوں ہی ان کے بہت قریبی دوست تھے۔

بعدازاں اس پروگرام کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئی جبکہ شائقین نے عامر لیاقت کو ان کے اس متنازع بیان کے باعث شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

حسن چوہدری نامی صارف نے لکھا کہ ان سب افراد کو شرم آنی چاہیے جو بار بار عامر لیاقت جیسے شخص کو اپنے شوز میں میزبانی کی حیثیت سے کام دیتے ہیں

ہارون نامی صارف نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ‘عامر لیاقت ذہنی مریض’ ہیں۔ایک اور صارف کے مطابق انہیں آج تک ایسا کوئی سمجھدار شخص نہیں ملا جو عامر لیاقت کو پسند کرتا ہو۔
فیضان نجیب نے سوال کیا کہ’آخر عامر لیاقت جیسے لوگوں کو ٹی وی پر آنے کی اجازت دی ہی کیوں جاتی ہے؟‘
ٹوئٹر صارف عمبرین نے لکھا کہ عدنان صدیقی کو عامر لیاقت کے شو کا حصہ نہیں بننا چاہیے تھا۔

ساتھ ہی انہوں نے پیمرا سے عامر لیاقت کے خلاف ایکشن لینے کی اپیل بھی کی۔

دوسری جانب عدنان صدیقی نے بھی سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ انہیں عامر لیاقت کے شو کا حصہ بننے پر افسوس ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری ایک بیان میں عدنان صدیقی نے لکھا کہ ’میں بیان نہیں کرسکتا کہ اس وقت میں کیسا محسوس کررہا ہوں لیکن میں اپنے دل کی بات ضرور بتاؤں گا، گزشتہ روز مجھے لائیو چیٹ شو جیوے پاکستان میں مدعو کیا گیا جہاں بدقسمتی سے ایک نامناسب واقعہ پیش آیا‘۔

انہوں نے مزید لکھا کہ ’شو کے مزیبان عامر لیاقت نے ایک نہایت حساس معاملے پر مذاق کیا، وہ دونوں (عرفان اور سری دیوی) میرے دل کے بےحد قریب ہیں بلکہ ایک انسان ہونے کی حیثیت سے یہ (مذاق) نہایت غلط تھا‘۔

عدنان صدیقی کے مطابق ’اس دنیا سے گزر جانے والوں کے حوالے سے مذاق کرنا نہایت نامناسب ہے، اس بیان سے صرف وہ اور میں ہی نہیں بلکہ ہمارا ملک غلط انداز میں پیش ہوا‘۔

اداکار نے مزید لکھا کہ ’میں سری دیوی اور عرفان خان کے گھر والوں اور ان کے مداحوں سے معافی مانگنا چاہتا ہوں، اگر آپ ویڈیو میں مجھے دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ میں ان کی اس بات سے کتنا غیر مطمئن تھا، مجھے افسوس ہے کہ میں اس شو پر گیا، لیکن میں نے سبق سیکھا ہے اور میں خود سے وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ اس قسم کی نامناسب باتیں برداشت نہیں کروں گا‘۔

بیان کے آخر میں عدنان صدیقی نے لکھا کہ وہ امید کررہے تھے کہ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے نا آئے لیکن ایسا ممکن نہیں ہوا۔

یاد رہے کہ عدنان صدیقی اور عرفان خان نے 2007 کی ہولی وڈ فلم ’اے مائٹی ہارٹ‘ میں اکٹھے کام کیا تھا۔

اس فلم میں دونوں کی اداکاری کو خوب سراہا گیا تھا جبکہ سری دیوی کے ساتھ عدنان صدیقی نے 2017 کی فلم ’موم‘ میں کام کیا۔

فلم میں عدنان صدیقی سری دیوی کے شوہر بنے تھے، اس فلم میں سجل علی نے بھی اہم کردار نبھایا تھا۔

سری دیوی 25 فروری 2018 کو دل کا دورہ پڑنے سے 54 سال کی عمر میں دبئی میں انتقال کر گئیں تھی۔ جبکہ عرفان خان کا انتقال 29 اپریل 2020 کو ممبئی میں ہوا۔
Dwannews-report