یادوں کے جھروکوں سے

یادوں کے جھروکوں سے

‏‎عابد حسین قریشی

(۳)

‏‎وکالت ایک مُشکل پیشہ

‏‎ایل۔ایل۔بی فائنل ائیر کے امتحانات کے بعد کچھ دوستوں نے مستقبل کی منصوبہ بندی اسطرح شروع کردی کے کسی نئے ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ لے لیا جائےاور بعض لوگ تو سالوں سے نیو کیمپس میں آباد رہتے ہیں حتٰی کہ قبضہ مخالفانہ کی بنیاد پر ہاسٹل کے کمرہ کی ملکیت کا استحقاق بھی جتاتے ہیں۔ ویسے بھی نیو کیمپس کا پُر کیف اور سحر انگیز ماحول چھوڑنے کو کس کا جی چاہتا تھا۔ بہرہال میاں آصف اور میں نے فوراً ہاسٹل چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ ہم نے بھی یہ فیصلہ زیادہ خوشی سے نہ کیا۔ طالب علمانہ زندگی کا زمانہ جو کم و بیش بیس اکیس سال پر محیط تھا اب اُسے الوداع کہنے کا وقت بھی تو تھا۔ ایک بے فکری کا زمانہ۔والدین کے پیسوں پر عیاشی کا زمانہ اب اختتام پذیر ہو رہا تھا اور اب عملی زندگی کی سنگلاخ زمینوں، دشوار گاٹیوں اور ایک تنے ہوئے رسّہ پر چلنے کا وقت شروع ہونے والا تھا۔ نظریاتی، تخیلاتی، تصوراتی اور جذباتی باتیں سوچنے کا دور ختم ہو کر خالصتاً عملی اور بے رحم زمینی حقائق سے آنکھیں چار کرنے کا وقت شروع ہونے والا تھا۔

چند یوم آرام کے بعد یکم نومبر 1980 کو سیالکوٹ کے مشہور دیوانی وکیل نور حسین چوہدری جو گجر برادری سے ہیں انکے ساتھ اپرنٹس شپ شروع کی۔ چوہدری صاحب کا شمار سیالکوٹ کے محنتی اور ایماندار وکلا میں ہوتا تھا۔ بڑی دلچسپ روٹین تھی۔ رات کو تقریباً آٹھ بجے شیو بنا کر نہا دھو کر چوہدری صاحب اڈا شہباز خان جو کہ شہر کے وسط میں تھا اپنے دفتر تشریف لاتے۔ ایک ڈیڑھ گھنٹہ آئیندہ روز کے مقدمات کے آئے ہوے کلائنٹس کو ڈیل کرتے اور تقریباً دس بجے چوہدری صاحب، منشی فضل مرحوم( کیا قابل منشی تھے۔ اللہ غریق رحمت کرے)، میں اور ایک اور جونیر رہ جاتے۔ وہ دوسرے صاحب بھی رات بارہ بجے کے قریب چلے جاتے۔ میں رات دوبجے نکلتا۔ سردیوں کی راتیں اور گاؤں کا سفر بڑا مشکل اور ڈراؤنا لگتا کہ اُن دنوں کوٹلی بہرام سے آگے مکمل سناٹا اور سنسانی نظر آتی۔ خیر جلد ہی میں سیالکوٹ شہر شفٹ ہو گیا۔ مقدمات کی تیاری کا مرحلہ بڑا دلچسپ اور مشکل بھی ہوتا۔ ایک لفافہ میرے سامنے کیا جاتا اور کہا جاتا کہ اس مقدمہ میں کل فلاں فلاں نکتہ پر بحث ہے۔ اپنے حق میں کیس لاء تلاش کرو۔ بڑی ضخیم لائبریری تھی۔ نیٹ اور پاکستان لاء سائٹس کا زمانہ نہ تھا۔ بڑی عرق ریزی سے اور جانفشانی سے میں کچھ فیصلے اعلیٰ عدالتوں کے اپنے حق میں ڈھونڈتا۔ پھر مجھے کہا جاتا اس کے مخالف کیس لاء جو دوسرے وکیل نے صبح پیش کرنا ہے وہ بھی ڈھونڈو۔ تاکہ ہم سارے واقعات و حالات کا پہلے سے جائزہ لے لیں۔ میں رات دو اڑھائی بجے گھر لوٹ جاتا۔ چوہدری صاحب اکیلے بڑے ہشاش بشاش فائلوں میں سرگرداں ہوتے۔ صبح ٹھیک وقت پر عدالت کے باہر کھڑے ہوتے۔ میں پوچھتا کہ سر رات کو کتنے بجے اُٹھے وہ مسکراتے اور کہتے کہ یار فجر کی ازانیں ہو رہی تھیں میں جب اپنے ویسپا سکوٹر پر میاں نعیم الرحمٰن ایڈوکیٹ گھر کے قریب سے گزرا اور میاں صاحب ابھی جاگ رہے تھے۔ ایک دفعہ میاں نعیم الرحمٰن ایڈوکیٹ سے جو کہ میاں آصف کے استاد بھی تھے میں نے پوچھا کہ میاں صاحب اپنی روٹین کیا ہے۔ تو ملاحظہ فرمائیں اور آجکل نئی نسل خصوصاً نوجوان وکلا کو اگر بتائیں تو شاید یقین ہی نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ میں چار بجے سہ پہر کچہری سے جا کر عدالتوں سے ملحقہ اپنی رہائشگاہ پر دو گھنٹے آرام کرتا ہوں۔ مغرب کی نماز پڑھ کر تھوڑی دیر سیر کرتا ہوں اور عشاء کی نماز پڑھ کر اپنے دفتر بیٹھ جاتا ہوں اور وہیں سے ناشتہ کر کے عدالت آجاتا ہوں۔ کم و بیش یہی روٹین ہمارے مرحوم دوست پرویز باوجوہ جو جوانی میں ہی اس دنیا سے رخصت ہو گئے اپنے والد اور سیالکوٹ کے ایک مشہور دیوانی وکیل چوہدری نزیر باجوہ آف گنّہ کے بارے میں بھی بتاتےتھے جن کے پاس روزانہ تقریباً 60/70 مقدمات کی لسٹ ہوتی اور وہ عدالت سے آواز پڑنے پر لفافہ کھولے بغیر بہت ساری زبانی باتیں اس مقدمہ کے حقائق کے بارے میں کر جاتے۔ کمال کا حافظہ تھا۔

‏‎میرے استاد نور حسین چوہدری بڑے با اصول وکیل تھے۔ ایک دفعہ میری موجودگی میں ایک آدمی آیا اُس نے ایک جدید دعویٰ دائر کرنے کے لیے چوہدری صاحب سے مشاورت کی۔ کاغذات وغیرہ دکھائے۔ فیس طے کی مگر ادا نہ کی اور چلا گیا۔ کچھ روز بعد ایک دوسرا آدمی آیا اور مقدمہ کے واقعات بتائے اور مدعالیہ کی طرف سے چوہدری صاحب کو وکیل مقرر کرنے کے لیے فیس کی آفر کی۔ اُنہوں نے کہا اس مقدمہ کا مدعی مجھ سے قبل ازین مشاورت کر چکا ہے۔ کئی خفیہ حقائق میرے علم میں ہیں۔ اب پروفیشنل اخلاقیات کا تقاضہ ہے کہ میں آپ کی طرف سے وکیل نہ بنوں اگرچہ مدعی نے کوئی دیگر وکیل مقرر کر لیا ہوا ہے۔ آجکل چوہدری صاحب رضاکارانہ وکالت سے فراغت لیے ریٹائرڈ لائف کا مزہ لے رہے ہیں۔

‏‎بہرحال ٹھیک چھ ماہ کا قانونی عرصہ اپرنٹس شپ گزارنے کے بعد اچانک میں نے الگ سے وکالت کا ارادہ ظاہر کیا اور اُستاد محترم سے آشیرآباد لینے کے لیےانکے پاس گیا۔ انہوں نے میرے اس فیصلے پر حیرانگی کا اظہار کیا مگر مسکراتے ہوئے رخصت کیا اور مجھے کہا کہ قریشی صاحب آپ مقابلہ کے امتحان میں ضرور بیٹھنا۔ انشااللہ کامیاب ہو جاؤ گے۔ پرانے بار روم کے برآمدا میں ایک شریف النفس وکیل چوہدری محمّد اکرام کے ساتھ اپنی کرسی بھی لگا لی اور ہمسائیگی میں ایک بڑے ہی درویش منش مگر خوش پوش سیّد اقبال شاہ مرحوم بھی بیٹھا کرتے تھے۔

‏‎اپنی الگ وکالت کیا چلنی تھی ہر مرتبہ نوجوانی اور ناتجربہ کاری آڑے آجاتی۔ ایک نوجوان وکیل کے پاس تو لوگ صرف چھوٹے موٹے مقدمات لے کر آتے ہیں۔ کچھ ہی دنوں بعد احساس ہونا شروع ہوا کہ وکالت ایک مشکل مگر صبر آزما پیشہ ہے۔ لیکن اس کے باوجود میں اسے انجوائے کر رہا تھا۔ ہماری روٹین بھی بڑی زبردست تھی۔ صبح دوگھنٹے کوئی چوٹا موٹا عدالتی کام بھگتا کر سارے دوست اکھٹے ہو جاتے اور پھر وہ دھما چوکڑی مچتی کہ اللہ کی پناہ۔ لطیفے بازی اور چھیڑ چھاڑ۔ پھر وہ کیا کہ ہم بندہ گنوا دیتے مگر فقرہ نہیں۔ ہر طرح کی جملہ بازی روا رکھی جاتی البتہ ہمارے دوستوں میں خواجہ شمائل وکالت میں کافی سنجیدہ تھے اور یہ اپنے وقت کے معروف فوجداری وکیل نعیم اللہ شیروانی جو بعد ازاں ہائی کورٹ کے جج بھی بنے انکے جو نیر تھے۔ اس طرع ہمارے کلاس فیلو ایم۔اظہر چوہدری بھی شیروانی صاحب کے جونیر تھے۔

‏‎اُن دنوں سیالکوٹ بار ایک پیشہ وارانہ، محنتی اور قابل بار کے طور پر مشہور تھی۔ فوجداری سائیڈ پر نعیم اللہ شیروانی، شیخ یعقوب، خواجہ سرفراز، رانا الطاف اور بڑے ہی مرنجا مرنج نواز سلہریا مرحوم جو ہر فن مولا تھے اور سیالکوٹ کے لبرل چہرہ کی شناخت اور پہچان تھے۔ بڑی دلفریب یادیں ان سے منسوب ہیں۔حاضر جوابی اور بزلہ سنجی میں مرحوم نواز سلہریا کا کوئی مقابلہ نہ تھا۔ دیوانی سائیڈ پر میاں نعیم الرحمٰن، چوہدری نذیر باجوہ گنّہ والے، استاد محترم نور حسین چوہدری ، ذبیر قریشی، چوہدری مشتاق احمد خان، چوہدری مزمل خان اور رانا نصراللہ کے نام سر فہرست تھے۔ البتہ بینکنگ سیکٹر میں میاں رفیع مرحوم اکیلے ہی سیالکوٹ میں چھائے ہوئے تھے۔

‏‎سیالکوٹ بار کے لائق فائق ہونے کی یہ دلیل ہی کافی ہے کہ ایک چھوٹی علاقائی بار ہونے کے باوجود یہاں سے چوہدری مشتاق احمد خان، نعیم اللہ شیروانی، چوہدری محمّد مزمل خان اور محمود بھٹی صاحب ہائی کورٹ کے جسٹس رہ چکے ہیں۔

‏‎یہاں میں تین ایسے نایاب ہیروں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ جن کے ذکر کے بغیر سیالکوٹ بار کی تاریخ نامکمل رہے گی۔ بڑے ہی دھیمے مزاج، رکھ رکھاؤ اور عاجزی و لجاجت کی پہچان سیّد عرفان الحق شاہ صاحب جن سے میں ذاتی طور پر بڑا متاثر تھا۔ جلال و جمال کا عمدہ امتزاج پا اسلام بٹ اور نہایت ہی خوبصورت، وضع داری کی عمدہ مثال اور لیڈر چوہدری جاوید مہدی۔ افسوس کہ تینوں بڑے نام اس وقت سیالکوٹ بار میں موجود نہ ہیں۔خاک میں کیا صورتیں ہونگی کہ پنہاں ہو گئیں۔

اپریل 1981 میں ایل۔ایل۔بی کا رزلٹ آگیا۔ الحمد اللہ مارننگ سیشن کے سبھی سیکشنز میں غالباً میری پہلی پوزیشن تھی۔ البتہ ایوننگ کلاس میں دو تین لوگوں کے نمبر مجھ سے زیادہ تھے۔ اس دوران ہی ہم نے سیالکوٹ میں پرائیوٹ ایم۔اے پولیٹیکل سائنس کا امتحان بھی اچھی پوزیشن میں پاس کر لیا۔ وکالت کی ڈگر دھیرے دھیرے چل رہی تھی۔