کرونا سے صحت مند افراد کے خون کی بلیک مارکیٹ فروخت کا انکشاف

سڈنی: آسٹریلیا کے تحقیقی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ کرونا سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کا خون انٹرنیٹ پر بلیک میں فروخت کیا جارہا ہے۔

دی مرر کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلوی ماہرین نے انکشاف کیا کہ کرونا وائرس سے صحت مند ہونے والے مریضوں کے خون کی خرید و فروخت ڈارک ویب پر ہورہی ہے۔

غیرقانونی اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث عناصر ویب سائٹ پر پیش کش کررہے ہیں کہ اگر کرونا کے مریضوں کو صحت مند ہونے والے مریضوں کے جسم کا خون چڑھایا جائے تو وہ بھی صحت یاب ہوسکتے ہیں
ماہرین نے بتایا کہ ’کرونا سے صحت مند ہونے والے مریضوں کے جسم میں اینٹی باڈیز پیدا ہوجاتی ہیں جو اگر متاثرہ افراد کے جسم میں داخل کردی جائیں تو انہیں وائرس متاثر نہیں کرسکتا اور اگر وہ متاثر بھی ہوئے تو یہ اینٹی باڈیز اُسے ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں‘۔

آسٹریلیا کی نیشنل یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق ڈارک ویب پر کرونا سے صحت مند ہونے والے افراد کے خون کی فروخت میں نہ صرف اضافہ دیکھنے میں آیا بلکہ اس کی مانگ بڑھ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ماہرین ڈارک ویب پر اس بات کا مشاہدہ کررہے ہیں کہ سائبر کرائم سے وابستہ افراد کرونا کی صورت حال میں کس طرح سے ناجائز فائدہ اٹھا کر سادہ لوح عوام سے رقم بٹور رہے ہیں
تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ روب بروڈ ہرسٹ کا کہنا تھا کہ تحقیق دوران ہمیں کئی ایسی ویب سائٹس مل گئیں جہاں کرونا وائرس کے صحت مند ہونے والے مریضوں کا خون فروخت کے لیے پیش کیا گیا تھا، ڈارک ویب پر بے شمار پلیٹ فارمز پر کورونا وائرس کی ویکسین اور دیگر طریقہ ہائے علاج بھی فروخت ہو رہے تھے‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’ان میں سے ایک طریقہ علاج کی قیمت 25ہزار ڈالر بتائی گئی تھی، ہمارے خیال میں یہ ویکسینز اور علاج کے طریقے جعلی تھے اور ان کے ذریعے سائبر کرمنلز لوگوں کے خوف کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھاری رقوم کما رہے ہیں‘۔