تکیے کے غلاف میں چھپائے گئے سانپوں کا معمہ مزید گھمبیر ہوگیا

لندن : برطانیہ کے ایک علاقے میں رواں سال فروری میں نامعلوم شخص تکیے کے غلاف میں چھپائے گئے13 نایاب سانپوں کو ریلوے اسٹیشن پر چھوڑ کر چلا گیا، کچھ دن بعد مزید 16سانپ بھی اسی طرح چھوڑنے کا واقعہ پیش آیا۔

تفصیلات کے مطابق شمال مشرقی انگلینڈ کے علاقے سندرلینڈ میں تکیے کے غلاف میں چھپائے گئے پراسرار سانپوں کا معمہ مزید گھمبیر ہوگیا ہے۔

سانپوں کو اس طرح چھوڑ کر فرار ہونے والے مجرم کی تلاش تو ابھی جاری ہے جو اس سال فروری میں 29 قیمتی سانپوں کو چھوڑ کر فرار ہو گیا تھا لیکن اس کیس نے سب کو حیران و پریشان کر دیا ہے، تکیے کے غلاف کے اندر کسی چیز کا حرکت کرنا ظاہر کر رہا تھا کہ کچھ ٹھیک نہیں ہے
شمال مشرقی انگلینڈ کے علاقے سندر لینڈ میں ویلنٹائن ڈے سے ایک دن پہلے فائر فائٹرز کو ایک غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کہا گیا۔

وہاں ٹرین اسٹیشن کے پیچھے ایک تکیے کے غلاف کے اندر 13 رائل پائتھن سانپ چھپا کے رکھے گئے تھے جو دو سے چار فٹ تک لمبے تھے۔

جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم آر ایس پی سی اے کا اہلکار انہیں اینیمل ہوم لے گیا تا کہ انھیں آرام دہ گرم ماحول میں رکھا جائے۔

اگلی صبح یعنی 14 فروری کو جانوروں کے ایک مقامی ڈاکٹر نے ان سانپوں کا معائنہ کیا جو سب بہتر حالت میں تھے سوائے ایک سانپ کے جو بعد میں مر گیا۔

سانپوں کو باحفاظت پہنچانے کے بعد واکر اپنے گھر کے معاملات میں مصروف ہوگئے لیکن اگلے روز انہوں نے اپنے آئی پیڈ پر دیکھا کہ انھیں ایک اور کال موصول ہوئی ہے۔

کوئی بالکل اسی جگہ پر مزید سانپوں چھوڑ گیا تھا، اس مرتبہ ایک رائل پائتھن اور 15 دوسرے سانپوں کو دو مختلف تکیہ غلافوں میں رکھا گیا تھا
نارتھ ایسٹ ریپٹائل ریسکیو نامی ادارے کے اہلکار ایلک وڈ کہتے ہیں کہ کسی بھی شریف آدمی کو یہ دیکھ کر جھٹکا لگے گا۔

یہ ظالمانہ حرکت ہے اور ہم میں سے کوئی بھی یہ دیکھنا نہیں چاہتا کہ کسی بھی جانور کے ساتھ ایسا ہو۔ سانپوں کی اتنی بڑی تعداد کا ملنا غیر معمولی بات ہے۔

اتنی بڑی تعداد میں سانپوں کے ملنے کا مطلب ہے کہ ان کی تجارت ہو رہی ہے، شاید پالتو جانوروں کی کوئی دوکان ہوسکتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کوئی دوکان والا اتنے قیمتی سانپوں کو اس طرح کیوں چھوڑ دے گا۔

آر ایس پی سی اے کی تحقیقات ابھی جاری ہیں لیکن ان میں بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ سی سی ٹی کی کوئی فوٹیج موجود نہیں ہے۔
جانوروں کے حقوق کی مہم چلانے والے ایک گروپ پیٹا نے اس بارے میں معلومات پہنچانے والے کے لیے ڈھائی ہزار پاونڈ کا انعام رکھا ہے، ایسی معلومات جن سے اس کام میں ملوث افراد کو گرفتار اور سزا دی جا سکے