138

کرکٹ ڈپلومیسی اور دہشت گردی

ڈپلومیسی یعنی سفارتکاری دو یا دو سے زائدممالک کے درمیان تنازعات خاص طور سے سر حدی کشیدگی کو کم کرنے یا اس کے برعکس اسے بڑھانے کے لیے ہر دو ممالک استعمال کرتے ہیں اس کی مثالیں آئے دن سامنے آتی رہتی ہیں حال ہی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان فضائی کشیدگی میں بھی سفارت کاری نے موثر کام کیا جس کے نتیجے میں جنگ ٹل گئی۔سفارت کاری جس ممالک کے درمیان براہ راست معاملات کیے جاتے ہیں وہاں سائڈ ڈپلومیسی یعنی براہ راست نہیں بلکہ اطراف میں دیگر طریقوں سے معاملات طے کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اسی سائڈ ڈپلومیسی میں ایک بڑی پیش رفت انیس سو ستیاسی میں اس وقت ہوئی جب صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق کرکٹ میچ دیکھنے بھارت پہنچ گئے اور بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی سے ملاقات بھی کی اسے کرکٹ ڈپلومیسی کا نام دیا گیا ٰیہ ڈپلومیسی بعدازاں کئی بار استعمال کی گئی کرکٹ ڈپلومیسی صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان ہی نہیں ہوئی اس تاریخ پرانی ہے دنیا کے دیگر ممالک نے بھی اپنے تنازعات کے معاملے میں اس ڈپلومیسی کا بھر پور فائدہ اٹھایالیکن بھارت اور پاکستان کے خصوصی مسائل کے تناظر میں دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والی کرکٹ ڈپلومیسی کو دنیا بھر میں اہمیت حاصل ہوئی ہے دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ کرکٹ کو ہی نشانہ بناکرممالک کو پہلے کھیل کے میدان میں اور پھر عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش بھی کی گئی نیوزی لینڈ کی مسجد ہونے والی دہشت گردی جہاں مسلمانوں پر حملہ تھا وہاں دہشت گرد کا بڑا ہدف بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم بھی تھی اس طرح اس کے بیک وقت دو اہداف تھے مسلمان اور کرکٹ ۔
پاکتان ان ممالک میں ایک ہے جو تین دہائیوں سے دہشت گردی کا شکار رہا ہے اس میں کرکٹ کو بھی نشانہ بنایا گیادوہزار دو میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کراچی کے جس ہوٹل میں قیام پزیر تھی اس کے باہر فرانسیسی میرین کے تکنکی عملے کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس پر نیوزی لینڈ کی ٹیم کا دورہ منسوخ ہوگیا اور آج تک نیوزی لینڈ کی ٹیم پاکستان نہیں آئی دو ہزار نو میں بھی ایسا ہی واقعہ ہوا جب لاہور میں سری لنکا کی ٹیم کی بس کو راستے میں دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا اس کے بعد پاکستان کے کرکٹ کے میدانوں کے دروازے انٹرنیشنل کرکٹ کے لیے بند ہوگئے پاکستان کو اپنی ہوم سیریزکے لیے متحدہ عرب امارت کے میدانوں کا انتخاب کرنا پڑا، بھارت میں پاکستان کرکٹ سمیت دیگر کھیل انتہا پسندی اور انتہا پسندوں کا شکار ہوتے رہے ۔پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ ڈپلومیسی کی ایک تاریخ ہے جب جب کشیدگی ہوئی کرکٹ ڈپلومیسی کے ذریعہ ہی اس میں کمی لائی گئی انیس سو پینسٹھ کی جنگ کے سترہ سال بعد انیس سو اٹھتّر میں دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ بحال ہوئی اس کا سہرا اس وقت کے بھارتی وزیراعظم مرارجی ڈیسائی کے سر ہے جنھوں نے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں پہل کی ایسی کوششوں کی باعث انیس سو نّوے میں انھیں نشان پاکستان سے نوازا گیا تھا مرار جی ڈیسائی کے مثبت اقدام کا جواب صدر پاکستان جنرل ضیا ء الحق نے بھرپور انداز میں دیا وہ انیس سو ستیاسی میں کرکٹ میچ دیکھنے بھارت پہنچ گئے
اور وہاں بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی سے ملاقات کی اور سیاچن پر پیدا ہونے والی کشیدگی کوختم کرنے کی کوشش کی انیس سو اسّی کی پوری دہائی کرکٹ ڈپلومیسی کا شاندار دور رہا پورے عشرے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی سیریز ہوئیں انیس سونّوے میں کشمیری عوام مسلح تحریک بعد ازاں ممبئی میں دہشت گردی کے و اقعات نے دونوں ملکوں کے درمیان ماحول پھر کشیدہ کردیا بھارت کا الزام تھا کہ ان پیچھے پاکستان ہے تاہم آٹھ سال بعدبھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی لاہور آئے پاکستانی وزیراعظم نوازشریف ملاقات کی ایک مرتبہ پھر کرکٹ بحال کی گئی لیکن پاکستان کی جانب سے ایٹمی دھماکہ اور اس کے بعد کارگل واقعہ نے تعلقات پھر کشیدہ کردیے دو ہزار چار میں ایک مرتبہ پھر کرکٹ ڈپلومیسی شروع ہوئی بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کی دعوت پر پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کرکٹ میچ دیکھنے بھارت گئے دوہزار گیارہ میں من موہن سنگھ نے پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو ورلڈ کپ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے سیمی فائنل دیکھنے کے لیے بلایا جس کے نتیجے میں کشیدگی میں کمی آئی۔ کرکٹ ڈپلومیسی مسلسل جاری رہی یہاں تک کہ نریندر مودی نے بھی نواز شریف کو کرکٹ میچ دیکھنے کی دعوت دی لیکن سب سے بڑی کرکٹ ڈپلومیسی عمران خان اورسدھو کے درمیان ہوئی دونوں اپنے وقتوں کے کرکٹ کے بڑے کھلاڑی رہے دونوں کے درمیان زاتی دوستی پروان چڑھی دونوں اپنے اپنے ملکوں کی سیاست میں آئے اور اب حکومتوں میں ہیں عمران خان نے وزارت عظمٰی کا حلف اٹھایا تو اپنے کرکٹ کے دوستوں کو بھی مدعو کیا ان میں بھارت کے دوست بھی شامل تھے بعض بوجوہ حلف برداری کی تقریب میں شریک نہیں ہو سکے لیکن سدھو نہ صرف شریک ہوئے بلکہ انھوں نے ایک قدم آگے بڑھ کر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کی بات کی اس ڈپلومیسی کے نتیجے میں کرتارپوربارڈر کھولنے کا فیصلہ ہوا۔
پاکستان کو ہمیشہ الزام دیا جاتا رہا کہ وہ اسلامی شدت پسندوں کی مدد کرتا ہے جو دہشت گردی کرتے ہیں لیکن حال ہی میں نیوزی لینڈ کے واقعہ نے دنیا پر واضح کر دیا کہ شدت پسند یا دہشت گرد کون ہیں اور ان کے ہدف کون ہوتے ہیں نیوزی لینڈ جیسے پرامن ملک میں مسلمانوں اور بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم کو ہدف بنانا کوئی چھوٹی بات نہیں ہے اس سے عالمی سطح پر ملکوں کے تعلقات کے ساتھ ساتھ کھیل خاص طور سے کرکٹ کا مستقبل بھی داؤ لگ گیا ہے دوسری طرف پاکستان اور خاص طور سے کراچی میں پی ایس ایل کے کامیاب اور پرامن انعقاد اور عوام کے جوش خروش نے پاکستان پر لگائے گئے سارے الزامات کی نفی کردی ہے اب آئی سی سی کو بھی فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ کہے کہ پاکستان کھیلوں کے لیے پرامن ملک ہے اسے پاکستان میں انٹرنیشنل میچوں کے انعقادکو یقینی بنانا چاہئے ،حکومت پاکستان اور بالخصوص حکومت سندھ واقعی مبارکباد کی مستحق ہے جس نے پی ایس ایل جیسا بڑا کھیل شاندار طریقے سے منعقد کرایا۔کراچی میں ہونے والا پی ایس ایل بھی ملک کے اندر کرکٹ ڈپلومیسی کا حصہ بن گیا جہاں عسکری اور سول قیادت شانہ بشانہ تھی تو سیاسی جماعتیں بھی ایک پیج پر نظر آئیں پی ایس ایل کے کراچی میں انعقاد نے ثابت کردیا ہے کہ پاکستان لگنے والے سارے الزامات منفی کرکٹ ڈپلومیسی کا حصہ تھے وزیراعظم پاکستان کا اعلان حوصلہ افزا کہ آئندہ سال پی ایس ایل کے سارے میچز پاکستان میں کرائے جائیں گے ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت یقینی طور پر پاکستان ساکھ عالمی سطح پر بحال کرنے کے لیے اسی جزبے کو برقرار رکھے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں