صحافی کی تعریف کیا ہے ? کیا صحافیوں کو تربیت کی ضرورت ہے

صحافی کی تعریف کیا ہے ? کیا صحافیوں کو تربیت کی ضرورت ہے – انفارمیشن اکیڈمی صحافیوں کی تربیت کے لئے پروگرام ترتیب دے ( عاصم سلیم باجوہ ) – وزارت اطلاعات کے کردار کو مزید فعال کیا جائے گا ( شبلی فراز )…

میں نے ریڈیو پر 18 سال تک کام کیا۔ خاص طور پر ریڈیو میں تلفظ تک درست کروایا جاتا۔ باقاعدہ ایک تربیت کا نظام تھا۔ یہاں تک بتایا جاتا کہ ایک ایسے لہجے میں بولیں کہ سننے والا آپ کو ٹی وی پر دیکھ رہا ہے۔ یعنی آواز سے تصویر بنا دیں۔ اسی طرح ٹی وی پر بھی جید پروڈیوسر تھے اور پروڈیوسرز کی باقاعدہ تربیت ہوتی تھی اور اس سے پہلے اس کا تعلیم یافتہ ہونا بنیاد تھا۔ اب تو بس آپ چینل کھولیں یا آپ کا کوئی چینل کھول لے بس پانچوں گھی میں اور پھر جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔ تاہم مطلوبہ تربیت سے یہ بھی مراد نہیں کہ را طوطوں کو حکومتی طوطے بنا دیا جائے۔ یا تربیت سے مراد یہ کہ انہیں جی حضوری سکھائی جائے ان کا ڈنک نکال دیا جائے یا پھر ان کے پر کاٹ دیے جائیں۔ اختلاف سب کا حق ہے اور حق بات کہنا ان کا منصب اور ذمہ داری۔ مگر کوئی صحافی ملک سے غداری کرے غداروں سے جا کر میڈل وصول کرے یا وہ اپنے ملک کے خلاف دشمن ملک کو شہادتیں منہا کرے یا پھر ایسے چینل پر کام کرے جس کے ڈانڈے کہیں دشمنوں کے کرتا دھرتا سے ملے ہوں تو پھر اس کی تربیت کی ہی نہیں سرزنش کی بھی ضرورت ہے۔ ایسے لوگوں کا محاسبہ ازبس ضروری ہے

ہمارے لئے مگر ضمنی سرخی ہی اصل بات تھی کہ جس میں صحافیوں کے تربیت کا اہتمام کرنے کی بات ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صحافیوں کو تربیت کی ضرورت ہے۔ دوسری بات یہ کہ اس بیان میں صحافیوں سے مراد کیا ہے:اور تیسری بات یہ کہ صحافی کی تعریف کیا ہے۔ ویسے جن کو مخاطب کر کے یا جن کے بارے میں یہ ارشاد ہوا ہے وہ اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ مگر وہ اس مرتبہ بولیں گے نہیں کہ ان کی توہین کر دی گئی ہے کہ انہوں نے ساری زندگی اس شعبے میں گزار دی اور وہ تو اب حرف آخر سمجھے جاتے ہیں۔کیا کوئی مچھلیوں کو تیرنا سکھائے گا۔ ہو سکتا ہے وہ یہ بھی سوچتے ہوں کہ ابھی ابھی تو انہوں نے اپنا لوہا منوایا تھا کہ ایک مقبول ترین مذہبی ٹائی کون سے معافی منگوا دی۔ بہرحال وہ عاصم باجوہ کے بیان پر تلملا رہے ہونگے۔لو جی تلملانے سے مجھے کیا فضول شعر یاد آیا: میرے ہونٹوں پہ ہے اور ان کے ہے رخسار پہ تل تلملانے کی اجازت نہیں دی جائے گی ویسے عاصم صاحب کی بات ہمیں بھی نہیں بھائی، کہ بھائی جان تربیت اور اصلاح وغیرہ کی ایک عمر ہوتی ہے۔آپ بوڑھے طوطوں کو کیا پڑھائیں گے۔ یہ الگ بات کہ ان میں کچھ طوطے بوڑھے نہیں مگر طوطے تو ہیں طوطا تو اسی کی بات کرے گا جس کی چوری کھائے گا‘ اسی کی فال نکالے گا جس کی انگلی پر بیٹھا ہے اور اس کی توپ چلائے گا جس نے اسے سدھایا ہے۔ میرا خیال ہے وہ اس خیال خام کو رہنے ہی دیں

جب سے چینلز کی بھر مار ہوئی اور ٹاک شوز شروع ہوئے ایک افراتفری اور شور سا مچ گیا۔ جس کا جہاں دائو لگا وہ آن بیٹھا۔ سچ مچ یہ سارا معاملہ تعلقات یا رسائی کا تھا اور پھر جو زیادہ بدتمیز نکلا اتنا ہی کامیاب ۔ شاید لوگ بھی ایسے ہی لوگوں کو پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھی یہ سوچ کر تکلیف بھی ہوتی ہے اور شرم بھی آتی ہے۔ ان کے پاس نہ زبان کی صحت اور نہ بات میں اخلاقیات مگر بہم دست و گریبان تک پہنچ جاتے ہیں اور ایسی صورت میں سارا دن وہی سین لوگوں کو دکھائے جاتے ہیں۔ . . . . . طارق اقبال ‘ کویت