ملک کا بیڑا غرق کس نے کیا ؟طلعت حسین کے سوالات پر اشفاق تولہ کی کھری باتیں

پاکستان کے سینئر صحافی یا تجزیہ نگار سید طلعت حسین نے پاکستانی معیشت کے حوالے سے سوالات اٹھاتے ہوئے پوچھا ہے کہ ملک کا بیڑا غرق کس نے کیا ۔انہوں نے مختلف اعداد و شمار کا حوالہ دیا اور اپنے پروگرام میں کہا کہ میں صرف اپنا تجزیہ پیش نہیں کرنا چاہتا بلکہ آپ کے سامنے معاشی ماہرین کی رائے بھی رکھنا چاہتا ہوں تاکہ آپ کو تجزیہ کرسکیں کہ اصل صورتحال کیا ہے اور بگاڑ کا ذمہ دار کون ہے اس حوالے سے سید الطاف حسین نے اپنے پروگرام میں پاکستان کے نامور ماہر معیشت اشفاق تولہ سے خصوصی بات چیت کی اور ان کے سامنے یہ سوالات رکھیں جن کے جوابات اشفاق تولہ نے انتہائی سچے اور کھرے انداز میں دیے ۔

اشفاق تولہ نے کہا کہ بنیادی طور پر پاکستانی معیشت کے ساتھ بگاڑ پیدا ہونے کا آغاز دسمبر 2017 سے شروع ہوگیا تھا جب بھی ویلیویشن کی گئی تھی اور انٹرریٹ بنایا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ درحقیقت ہمارے ملک کی معیشت متوازی معیشت پر انحصار کرتی ہے یہاں سب کچھ ڈاکومنٹ نہیں ہے دستاویزی معیشت نہیں ہے ایسے ملک میں اور ایسی معیشت میں جس طرح کے فیصلے کئے گئے وہ تھیوری کے لحاظ سے تو ٹھیک ہے لیکن وہ عملی طور پر نتائج نہیں دے سکتے تھے انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے بات چیت کی گئی اور آئی ایم ایف پہلی مرتبہ تو پروگرام لے کر نہیں آیا سب کو پتا ہے ہم نے پہلے ہی بتا دیا تھا انہوں نے پانچ بڑے فیکٹرز پر غلطیاں کی ہیں پرائمری ڈیفیسٹ کو بینچ مارک بنائیں گے یہ ہم نے تو نہیں کہا تھا لون کو بلڈ آپ کریں گے بینکوں سے لون لینگے پانچ بڑے فیکٹرز تھے اور سب کو پتا تھا کہ کیا ہوگا پھر بتایا گیا کہ سعودی عرب قطر یو اے ای اور چین سے ڈیپازٹس لیے گئے ہیں اس پر بھی سب حیران تھے اس کے بعد دو ایمنسٹی اسکیم میں آپ کے ملک میں آئی سچی بات ہے پہلی ایمنسٹی سکیم کے تو پھر بھی کچھ اچھے نتائج نکلے کیونکہ وہ وقت ٹھیک تھا لیکن دوسری ایمنسٹی اسکیم کا نہ کوئی سر تھا نہ کوئی پیر نظر آرہا تھا اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ کا بیٹا نونو آئرس کی وجہ سے جو صورتحال ہے وہ تو پوری دنیا کو لپیٹ میں لے چکی ہے ہماری معیشت تو پورا سال جمود کا شکار تھی ہم نے مارش اپریل نہیں بتا دیا تھا کہ اگر بیسٹ صورتحال رہی تو ایک اعشاریہ دو فیصد اور اگر خراب رہی تو 3.8 فیصد ہوگی درود کے بارے میں آپ صورتحال کو چھپا نہیں سکتے ساری دنیا دیکھ رہی ہے جھوٹ بولنے سے کام نہیں چلتا پاکستان کی معاشی صورتحال روز محشر کی طرح عیاں ہیں اس سوال پر کہ پاکستانی معیشت کے ساتھ پاکستان کا دفاع جڑا ہوا ہے اور لوگوں کی زندگیاں سے منسلک ہیں کہ حکومت کوئی ان باتوں کا احساس نہیں ہے آخر میں شعلہ نے کہا کہ بحث کرتے رہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اب صورتحال یہاں پہنچ چکی ہے حل یہ ہے کہ نئے نوٹ چھاپنے پڑیں گے تو پھر معیشت بچے گی اور معیشت چلے گی جتنی جلدی فیصلہ کر لیں اتنا اچھا ہے