ایس ایچ او کا تبادلہ کیوں کیا؟ لوگ سڑکوں پر آگئے۔

ایس ایچ او نے اپنا تبادلہ رکوانے کے لئے احتجاجی مظاہرہ کرایا اور بندرگاہ کا راستہ بند کرادیا ۔مذکورہ پولیس افسر کے خلاف شکایات کا انبار لگ چکا تھا کہ وہ علاقے میں منشیات کے کاروبار کو ہوا دے رہا ہے اور اسمگلنگ کی سرپرستی کر رہا ہے

کراچی میں منشیات فروشی کے حوالے سے بدنام علاقے مچھر کالونی کے ڈاکس تھانے کے ایس ایچ او کے عہدے سے انسپکٹر نصیر تنولی کا تبادلہ کئے جانے کے خلاف علاقہ مکین احتجاجی طور پر سڑکوں پر آگئے اور دھرنا دے دیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق انسپکٹر نصیر تنولی کو گزشتہ روز ڈاکس تھانہ سے تبادلہ کرکے کراچی کے ضلعی جنوبی کے درخشاں تھانے میں تعینات کیا گیا تھا۔

اس تبدیلی سے ڈاکس تھانے کی آبادیوں مچھر کالونی، سلطان آباد کے مکین خوش نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ افراد اور منشیات فروشوں کے خلاف انسپکٹر نصیر تنولی کی تابڑ توڑ کارروائیوں اور پالیسی کی وجہ سے مچھر کالونی جیسا علاقہ پرامن اور منشیات سے پاک ہوچکا ہے۔

کراچی کے جیکسن تھانے میں تعیناتی کے دوران بھی نصیر تنولی اس حوالے سے مشہور ہوئے تھے۔ انہیں ڈاکس تھانے میں ہی ایس ایچ او رکھنے کا مطالبہ لے کر علاقہ مکین سہ پہر کے وقت کراچی بندرگاہ کے قریب آئی سی آئی پل چوک پہنچے اور مختلف سیاسی اور سماجی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے کافی دیر تک احتجاج کیا۔

مظاہرین نے پولیس افسر نصیر تنولی کے حق میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ کیماڑی اور سلطان آباد کے مکین نصیر تنولی کو اسی تھانے میں ایس ایچ او تعینات رکھنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

احتجاجی مظاہرے کے دوران ماری پور روڈ، آئی سی آئی پل، ٹاور، جناح برج اور اطراف میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا تھا۔