شکاگو کے مزدوروں کی قربانیوں کی وجہ سے آج پوری دنیا کے مزدوروں کے حقوق کو تسلیم کیا جاتا ہے : سعید غنی

کراچی  :  وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے یوم مئی کے حوالے سے اپنے جاری پیغام میں کہا ہے کہ ہم آج شکاگو کے شہیدوں کو سلام اور خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، جن کی قربانیوں کی وجہ سے آج پوری دنیا کے مزدوروں کے حقوق کو تسلیم کیا جاتا ہے اور ان کے حقوق کا خیال کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں مزدوروں کے حقوق کی اگر بات کرتے ہیں تو تمام تر دعوؤں اور کوششوں کے باوجود یہاں کے مزدوروں کو وہ حقوق نہیں مل سکے جن کے وہ حقدار ہیں، پیپلز پارٹی کے 18 ویں ترمیم کے بعد صوبہ سندھ میں 16 نئے قوانین مزدوروں کی فلاح و بہتری کے لئے بنائے ہیں۔پاکستان سمیت پوری دنیاکو کورونا وائرس کا سامنا ہے، اس کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ بھی مزدور ہے۔وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ یوم مئی کے حوالے سے مزدروں کے لئے ایک بھرپور پیکج کا اعلان کیا جائے۔پی آئی اے میں ایسوسی ایشنز پر پابندی لگا کر ان کے ساتھ کئے گئے تمام معاہدے منسوخ کرنے کی بھی شدید مذمت کرتے ہیں۔ یوم مئی کے حوالے سے جاری اپنے جاری ویڈیو پیغام میں وزیر محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ جہاں تک ہم پاکستان میں مزدوروں کے حقوق کی اگر بات کرتے ہیں تو تمام تر دعوؤں اور کوششوں کے باوجود یہاں کے مزدوروں کو وہ حقوق نہیں مل سکے جن کے وہ حقدار ہیں۔

سعید غنی نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کی قیادت نے جب سے یہ پارٹی وجود میں آئی ہے، مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کی بات کی ہے، ان کی بہتری کے لئے قوانین بنائے ہیں اور ان کو وہ اختیارات دینے کی کوشش کی ہے جس کے وہ حقدار ہیں۔ لیکن جب جب پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہوتی ہے وہ تمام فیصلے جو پیپلز پارٹی کے مزدوروں کے حوالے سے کئے ہوتے ہیں ان کو واپس لے لیا جاتا ہے۔ سعید غنی نے اپنے پیغام میں مزید کہا ہے کہ اس ملک میں مزدور یونین کی بحالی کا کام ہو، مزدوروں کو بہتر قوانین کے تحت بااختیار بنانے کی بات ہو، پیپلز پارٹی کے علاوہ کسی نے کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے 18 ویں ترمیم کے بعد صوبہ سندھ میں 16 نئے قوانین مزدوروں کی فلاح و بہبود اور ان کی بہتری کے لئے بنائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ 16 نئے قوانین میں 3 ایست منفرد ہیں، جو پورے ملک میں کہی نہیں ہے اور ایک قانون تو ایسا ہے، جو شاید کئی ممالک میں بھی نہیں ہوگا، سعید غنی نے کہا کہ صوبہ سندھ اس ملک کا واحد صوبہ ہے جہاں زراعت کے سیکٹر میں مزدوروں کو یونین بنانے کا حق موجود ہے اور یہاں مزدور یونین رجسٹرڈ ہونا شروع ہوگئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں خواتین زرعی ورکرز کے حقوق کے تحفظ کے لئے قانون بنایا گیا ہے اور یہ واحد صوبہ ہے جہاں ہم نے گھروں میں کام کرنے والے مزدوروں کے حقوق کے لئے قانون بنایا ہے۔ سعید غنی نے مزید کہا کہ پیپل پارٹی مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لئے،

ان کے عزت و وقار کی بحالی کے لئے سب سے آگے ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ اس وقت جب ہم لاک ڈاؤن کا سامنا کررہے ہیں اور جب پوری دنیاکو کورونا وائرس کا سامنا ہے، اس کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ بھی مزدورو طبقہ ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ ہم کوشش کررہے ہیں کہ ہم کسی طرح ان کی مشکلات میں کمی لاسکیں، اس کا کوئی ازالہ کرسکیں۔لیکن صوبائی حکومت کے پاس محدود وسائل ہونے کے باعث ہم بہت ساری چیزیں نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ یوم مئی کے حوالے سے اور اس موقع پر آج پاکستان کے مزدروں کے لئے ایک بھرپور پیکج کا اعلان ہونا چاہیے، ان کی اتنی مدد ضرور ہونی چاہیے کہ ان کا جو کاروبار متاثر ہوا ہے، اس سے وہ باہر نکل سکیں اور اپنے بچوں کا پیٹ پال سکیں۔ سعید غنی نے کہا کہ وفاقی حکومت کے پاس بہت سارے وسائل ہیں، ان کے پاس بیرونی امداد آرہی ہے، وفاقی حکومت اپنے ان ترقیاتی کاموں کے فنڈز بھی ٹرانسفر کرسکتی ہے، جو ترقیاتی کام اس وقت رک گئے ہیں، وفاقی حکومت کے پاس پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عالمی کمی کے بعد جو کچھ تھوڑا بہت عوام کو ریلیف دینے کے باوجود ایک بڑا حصہ اپنے پاس رکھا ہے، اس کا پیسہ بھی مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لئے فنڈز میں منتقل کیا جاسکتا ہے، سعید غنی نے کہا کہ آج اس موقع پر میں اس بات کی بھی شدید مذمت کرتا ہوں کہ پی آئی اے میں جو ایسوسی ایشنز کام کررہی تھی، ان پر پابندی لگا کر ان کے ساتھ کئے گئے تمام معاہدے منسوخ کردئیے گئے ہیں جو ایک نامناسب فیصلہ اور نامناسب وقت پر کیا گیا ہے۔