سندھ میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ہسپتالوں میں ویکسین کی عدم دستیابی

کراچی : گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس جی ڈی اے کے پارلیمینٹرین نے سندھ میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ہسپتالوں میں ویکسین کی عدم دستیابی پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پوری سندھ حکومت کرونا کے پیچھے لگ گئی ہے جبکہ عوام مختلف امراض کا شکار ہوکر تڑپ تڑپ کر مر رہیں ہیں،ایم پی اے نصرت سحر عباسی،حسنین مرزا، عارف مصطفی جتوئی اور نند کمار گوکلانی نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ دادو میں آوارہ کتوں نے معصوم بچے کو کاٹ کر زخمی کردیا جس کو دادو کے سول ہسپتال لے جایا گیا۔

جہاں نہ تو ویکسین تھی اور نہ ہی ڈاکٹروں نے بچے کا معائنہ کرنا گوارہ کیا جس کے باعث والدین نے چندہ کرکے پرائیویٹ ایمبولنس میں بچے کو نواب شاہ سول ہسپتال لائے جہاں بھی کتے کے کاٹنے کی ویکسین موجود نہیں تھی ڈاکٹروں نے والدیں کے ہاتھ میں 5 ،5 ھزار کی ویکسین لانے کہ لیے پرچہ تھما دیا،علاج نہ ہونے باعث غریب والدین کے ہاتھوں میں بچہ تڑپ،تڑپ کر انتقال کر گیا،انہوں نے مزید کہا کے زرداری کے آبائی ضلعی ہسپتال میں ویکسین کا نہ ہونا زرداری حکومت کیلیے لمحہ فکریہ ہے اور حکومت کی عدم کارکردگی کا کھلا ثبوت ہے۔