محنت کشوں کے گھر وں سے آٹا و چینی غائب کرنے والوں کے خلاف وزیرا عظم کاروائی کب کریں گے؟ الطاف شکور

“تبدیلی سرکار” مزدوروں کے حالات بدلنے کے بجائے آٹا چینی چوروں کو خوشحال بنانے میں مصروف ہے
آٹا چینی چوروں نے کھلم کھلا ڈکیتی کی، وزیر اعظم غاصبوں کے ساتھ ہیں یا محروموں کے ساتھ؟
مزدوروں کو خوشحال کئے بغیرنہ ادارے مضبوط ہو سکتے ہیں اور نہ ملک خوشحال ہو سکتا ہے
مزدورحقوق کے لئے پارلیمنٹ میں قانون سازی اور بھرپور جدو جہد کریں گے، یوم مزدورپرپاسبان کے چیئرمین الطاف شکور کا عزم
کراچی : پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ مزدور ملک کا اکثریتی طبقہ ہیں۔ پاکستان کے محنت کش طبقوں کے گھروں سے آٹا اور چینی غائب کرنے والوں کے خلاف وزیرا عظم کب کاروائی کریں گے؟ 25اپریل خاموشی سے گذر گئی، یکم مئی یوم مزدور آگیا اور لاک ڈاؤن میں فاقہ زدہ مزدور وزیر اعظم کی جانب سے آٹاو چینی مافیا کے خلا ف عبرتناک کاروائی کے مسلسل منتظر ہیں۔آٹا چینی چوروں نے مزدور طبقہ کے حقوق پر کھلم کھلا ڈکیتی کی ہے، وزیر اعظم بتائیں کہ وہ غاصبوں کے ساتھ ہیں یا محروموں کے ساتھ؟ملکی اشرافیہ مزدوروں کو انسانیت کا درجہ دینے سے ہی گریزاں ہے۔ مزدوروں کو خوشحال کئے بغیرنہ تو ادارے مضبوط ہو سکتے ہیں اور نہ ہی ملک ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔مزدوروں کے عالمی دن کے موقعہ پر عمران خان حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ مزدوروں سے ان کے حق کا نوالہ چھیننے والے جہانگیر ترینوں کو پارٹی میں جگہ نہیں دی جائے گی۔مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا کہ شکاگو کے مزدوروں نے جان کی بازی دے کر حقوق کی دستیابی کے لئے مغربی معاشرے میں انقلاب پیدا کر دیاجبکہ ہمارے ملک میں کسانوں ومزدوروں اور گھریلو ملازمین کے حقوق کے لئے کوئی ضابطہ سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔مزدوروں کی پارلیمنٹ میں کوئی نمائندگی نہیں ہے۔ہمارا جمہوری نظام ملک کی اشرافیہ کے شکنجے میں ہے۔یوم مزدور کے موقع پر اشرافیہ کے خلاف بڑے بڑے بیانات دینے والے بھول جاتے ہیں کہ وہ خود بھی اشرافیہ کا ہی حصہ ہیں۔تبدیلی سرکار مزدوروں کے حالات بدلنے کے بجائے آٹا چینی چوروں کو خوشحال بنانے میں مصروف ہے۔جمہوریت کے نام پر طبقاتی نظام رائج ہے،مزدوروں کے بچے بنیادی تعلیم سے بھی محروم ہیں اور حکمرانوں کے بچے آکسفورڈ اور ان جیسے مہنگے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ملک کا وزیر اعظم سینکڑوں کنال پر مشتمل ورلڈ کلاس گھر میں رہائش پذیر ہے اور مزدور بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہیں۔ زمین و آصمان کے فرق کو مٹائے بغیر تبدیلی کیسے آسکتی ہے؟وزیر اعظم اور مزدوروں کے معیار زندگی میں فرق جمہوریت اورر تبدیلی کے چہرے پر سیاہی کی مانند ہے جسے اقتدار میں آکر پاسبان دھو ڈالے گی۔ الطاف شکور نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاسبان افسران اور عام ملازمین کے حقوق میں مساوات قائم کرے گی۔مزدوروں کو خوشحال، معزز اور پارلیمنٹ کا حصہ بنانے کے لئے بھرپور طریقے سے قانون سازی و جدو جہد کرے گی #