سلطنت عثمانیہ کے دارالخلافہ استنبول کو فتح کرنے کی ناکام کوشش میں مارے جانے والے اڑھائی لاکھ فوجیوں کی یاد میں 25 اپریل کو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا مشترکہ یوم سوگ

سلطنت عثمانیہ کے دارالخلافہ استنبول کو فتح کرنے کی ناکام کوشش میں مارے جانے والے اڑھائی لاکھ فوجیوں کی یاد میں 25 اپریل کو یوم سوگ منایا جاتا ہے یہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا مشترکہ قومی تہوار بن چکا ہے جو خاص جوش و جذبے سے منایاجاتا ہے۔ اس دن وہ وہ اپنی افواج سے یک جہتی کا دن مناتے اور ان فوجیوں کو یاد کرتے ہیں جو وطن کی خاطر لڑتے ہوئے اجنبی زمینوں پر مارے گئے تھے فرانس اور جرمنی میں صرف دعائیہ تقاریب منعقد ہوتی ہیں۔ اس بار کرونا رْت نے سارا منظر بدل کر رکھ دیا تھا لیکن قاتل وبا نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کی اقوام کو مادر وطن پر جان نچھاور کرنے کی یاد منانے سے نہ روک سکی۔اس سال25 اپریل کو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے باشندوں نے یہ دن منایا اپنے گھروں کی بالکنی اور گیراج کے سامنے کھڑے ہوکر ، جھنڈے اٹھائے، آنسو بہاتے، پھول رکھتے اور نغمے گاتے شہری اپنی افواج سے والہانہ انداز میں پیار کا اظہارکرتے دیکھے گئے۔

عالمی میڈیا نے اس کی تصاویر اور دن مناتے شہریوں کی تفصیل شائع کی ہے۔ قومی نظم وضبط کی شاندار مثال قائم کرکے منایا’آسٹریلین اینڈ نیوزی لینڈ آرمی کورز‘ (ANZAC DAY )کا دن جنگ عظیم اول شکست کو یاد کرکے مناتی ہیں۔ گیلی پولی مہم چرچل کا جنگی منصوبہ جس کے تحت ترک سلطنت عثمانیہ کے قلب میں گھس کر قسطنطنیہ پر قبضہ کرکے باقی ماندہ ترکی کو اپنی کالونی بناکر غلام بنانا بنانا تھا۔چرچل اس وقت سلطنت برطانیہ کی بحری افواج کی قیادت کر رہا تھا، جسکے نتیجے میں پچھلی دو بلقان جنگوں میں سلطنت عثمانیہ اپنے زیر قبضہ بہت سے یورپی علاقوں، بلقان ریاستوں سے محروم ہو چکی تھی۔ افریقی اور عرب علاقوں میں بھی اتحادی افواج کے حملے اور انہی کی شہ پر مقامی بغاوتیں جاری تھیں۔ اگر گیلی پولی مہم کامیاب ہو جاتی تو قسطنطنیہ آج ترکی کا حصہ نہ ہوتا اور ترک بھی غلام قوم کی نفسیات کے ساتھ جی رہے ہوتے۔اسی معرکے میں کامیاب دفاع کے نتیجے میں مصطفٰی کمال، ترک قوم بلکہ مسلمانان ہند کا بھی ہیرو بن کے ابھرا، اس کا یہ جملہ بہت مشہور ہے کہ، ” میں تمہیں حملے کا نہیں مرنے کا حکم دے رہا ہوں، تاکہ اس دوران مزید فوج اور افسر ہماری جگہ لینے کو پہنچ جائیں” .ایک موقع پر اس نے سنگینوں کے ساتھ دست بدست حملے کا حکم دیا کیونکہ ترکوں کے پاس گولیاں ختم ہو چکی تھیں، اور خندقیں کھود کر متحارب فریق آمنے سامنے ڈٹے ہوئے تھے۔ ڈیڑھ لاکھ برطانوی اور اسکے اتحادیوں کے فوجی، جبکہ اڑھائی لاکھ ترک اس معرکے کی نذر ہوئے نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، فرانس اور برطانیہ اپنے مارے جانے والے فوجیوں کی یاد اس دن مناتے ہیں۔

25 اپریل 2015 کو ایسی ہی ایک تقریب میں تاریخ سے بے بہرہ وزیراعظم نواز شریف نے ڈیوڈ کیمرون کی دعوت پر شرکت کی تھی جس پر پاکستان واپسی پر ان کی کافی مٹی پلید کی تھی۔ ترکوں کے لئے بہرحال یہ فتح ہی ہے۔ ویسے بھی پچھلے پانچ سو سال سے کامیاب دفاع کر لینا ہی ہماری جیت کہلاتا ہے۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی مشترکہ فوج کی کمان جنرل ولیم برڈووڈ نے کی تھی۔ اس فوج کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ یہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی اولین شاہی فوج تھی جسے تاج برطانیہ کے ساتھ جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوم میں بیرون ملک لڑنے کیلئے تشکیل دیاگیا تھا۔ اس فوجی کارروائی میں برطانوی اور ہندوستانی فوجی دستے بھی اسکے ساتھ منسلک رہے۔


جنگ عظیم اول میں مشترکہ فوج کا ہدف گیلی پولی کے اہم شہر پر قبضہ کرنا تھا۔ جزیرہ نمائے گیلی پولی ماضی میں مشرقی تھریس کا حصہ تھا جو یونان کے پرشکوہ دور کا ایک اہم علاقہ تھا۔ پھر یہ ترکی کا یورپی حصہ بن گیا۔ گیلی پولی یونانی نام کی اطالوی شکل ہے جس کا معنی ’خوبصورت شہر‘ ہے۔ یہ ایک قدرتی آبی گزرگاہ ہے۔اسکے اطراف سمندر ہی سمندر ہے۔ یہ شہر ماضی کے یونان اور روم کی تہذیب کا جیتا جاگتا نمونہ تھا۔ قدیم عمارات اس تہذیب کے آثار کو دکھاتی تھیں اور ماضی کے سبق یاد دلاتیں۔ اس علاقے کو یورپ اور ایشیاء کے میلاپ کا خطہ قرار دیاجاتا ہے۔ یہاں یورپ اور ایشیاء مل جاتے ہیں۔ یہ کئی اہم سمندروں کے میلاپ کا بھی قدرتی راستہ کہلاتا ہے۔

یہ علاقہ 61 کلومیٹر طویل اور 1.2 سے 6 کلومیٹر چوڑا ہے۔ اس کا ترک تاریخی نام چناق قلعہ ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عالمی اتحادیوں کو جیش عثمانی نے ناکوں چنے چبوائے تھے اور اتحادیوں کو شدید ترین جانی نقصان اٹھاکر الٹے پاوں فرار ہونا پڑا تھا۔ برطانوی بحریہ کے کماندار چرچل نے اظہار ندامت سے اپنا عہدہ چھوڑ دیاتھا۔ اسی بات کو ترک صدر رجب طیب اردگان نے پاکستانی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں بیان کیاتھا۔ سادہ الفاظ میں ایسی ٹھوس بات کہی تھی کہ ’’ہمارے لئے کشمیر کی حیثیت وہی ہے جو پاکستان کیلئے ہے۔‘‘انہوں نے تاریخ کا یہ حوالہ بھی ان الفاظ میں یاد کرایاتھا کہ ’’ 1915ء میں جب ترک فوج چناق قلعے کا دفاع کررہی تھی تو اس محاذ سے چھ ہزار کلومیٹر دور اس (پاکستان) سرزمین پر ہونے والے مظاہرے اور ریلیاں ہماری تاریخ کے ناقابل فراموش صفحات پر درج ہوچکے ہیں۔ (جاری)
M-Aslam-Khan-Nawaiwaqt