چیف سیکرٹری صوبہ کیسے چلا رہے ہیں ؟

اسلام آباد ۔ سپریم کورٹ میں جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کے روبرو ایک اسکول کی زمین کے کیس میں انتظامی نااہلی پر ججوں نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے صوبے کے سب سے بڑے وکیل ایڈووکیٹ جنرل کو بولنے سے روک دیا اور صوبے کے سب سے بڑے سرکاری افسر چیف سیکرٹری کے رویہ کو افسوسناک قرار دے دیا کہ سب سے بڑے بیوروکریٹ کا یہ رویہ ہے تو صوبہ کیسے چل رہا ہے؟

سپریم کورٹ نے گوجرانوالہ اسکول زمین کیس میں چیف سیکرٹری پنجاب کی سخت سرزنش کی ۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ پنجاب حکومت ایک اسکول کی زمین کا مسئلہ حل نہیں کر سکتی زمین نہیں دے سکتی ایڈووکیٹ جنرل نے تحریری جواب میں نااہلی تسلیم کی چیف سیکرٹری کا اسٹاف نااہل ہے اتنا سا مسئلہ حل نہیں کر سکتے صوبے کے سب سے بڑے بیوروکریٹ کا رویہ قابل افسوس ہے۔ میڈیا پر آکر روزانہ بڑی بڑی باتیں کی جاتی ہیں بڑی بڑی تقریروں کے علاوہ کوئی مسئلہ حل نہیں کر سکتے ایسے مسئلہ عدالت میں آتے کیوں ہیں چیف سیکرٹری پنجاب نے چند روز کی مہلت دینے کی استدعا کی کہ جسٹس قاضی نے پوچھا مسئلہ حل کرنے کے لئے 13 سال ناکافی تھے؟
ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے مداخلت کی کوشش کی تو نے خاموش کراتے ہوئے عدالت نے کہا یہ قانونی نہیں انتظامیہ مسئلہ ہے سماعت کے آخر میں درخواست گزار نے متوازن جگہ کی پیشکش قبول کرلی۔



اپنا تبصرہ بھیجیں