قادیانیوں کا معاملہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے پاکستان کا نام نکلوانے سے جڑا ہوا ہے ؟

ایسی غلطیاں سہواً ہوتی ہیں یا کسی مقصد اور ایجنڈا کے تحت سوچ سمجھ کر کی جاتی ہیں یا ایسی غلطیاں کسی اور کی جانب سے متعلقین کی کسی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر بزور کرائی جاتی ہیں ،اس بارے میں بحث شروع کی جائے تو اس گتھی کا سرا کبھی ہاتھ نہیں آئے گا کیونکہ ایسے معاملات سود وزیاں میں مفادات کی کڑیاں ملتے ملتے بہت دور تک جا پہنچتی ہیں ،اس لئے بیکار سر پھٹول کے بجائے سیدھا موضوع کی طرف آنا ہی بہتر ہے۔

گزشتہ روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں جس افراتفری میں قادیانیوں کو قومی اقلیتی کمشن میں شامل کرنے کی منظوری دی گئی، جس کے بارے میں اب وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری صاحب نے وضاحت کی ہے کہ وفاقی کابینہ نے اقلیتی کمشن کے ممبران کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ اس سے مذہبی، سیاسی اور عوامی حلقوں کو حکومت کو بطور خاص اس حوالے سے کڑی تنقید کانشانہ بنانے کانادر موقع مل گیا ہے کہ اس وقت جب پوری دنیا کرونا وائرس کی لپیٹ میں ہے اور اس کے باعث پیدا ہونے والے اقتصادی اور مالی بحرانوں اور فاقہ کشی کے خطرات سے نمٹنے کیلئے تمام عالمی قیادتیں فکرمند ہیں اور خود ہماری حکومت کی بھی ان حالات میں اولین ترجیحات کرونا وائرس کے چیلنج میں سرخرو ہونے کی ہیں‘ اسے آخر ایسی کیا مجبوری لاحق ہوئی کہ اس نے قادیانیوں کے معاملہ کو چھیڑ کر اپنے لئے بیٹھے بٹھائے ’’آبیل مجھے مار‘‘ والی فضا استوار کر دی۔

اس بارے میں ایک تصور تو یہ ہے جو قرین قیاس بھی ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے پاکستان کا نام نکلوانے کیلئے اس کے رکن ممالک کو پاکستان کااجلا، سافٹ اور لبرل چہرہ دکھانا مقصود ہے جس کیلئے اقلیتوں بالخصوص قادیانیوںکو مساوی حقوق کا حامل شہری بنا کر دکھانا ہے۔ ایسا عالمی دبائو ہم پر شاتم رسولؐ کی سزائے موت سے متعلق آئینی شق کے حوالے سے بھی ڈالا جاتا رہا ہے اور قادیانیوں کے حقوق کے حوالے سے بھی اقوام عالم کی مخصوص لابی جو پاکستان اور اسلام دشمنی میں اپنی خاصیت رکھتی ہے‘ حکومت پاکستان کو دبائو میںر کھنے کے مواقع نکالتی رہتی ہے۔ چنانچہ یہ مفروضہ زیادہ قرین قیاس ہے کہ حکومت کو ایسی لابی کے دبائو کے تحت پاکستان کا سافٹ امیج اجاگر کرنے کیلئے قادیانیوں کو قومی اقلیتی کمشن میں نمائندگی دینے کی مجبوری لاحق ہوئی ہوگی۔ دوسرا مفروضہ محض سیاست برائے سیاست کے زمرے میں آتا ہے کہ حکومت کی اپنی صفوںمیں بھی ایسی لابی موجود ہوسکتی ہے جسے قادیانیوں کو ان کے مذہبی حقوق دلوانے کی جلدی ہوگی۔ ہمیں اس مفروضے سے کوئی سروکار نہیں مگر فکرمندی اس معاملہ پر ضرور ہے کہ جب قادیانی (احمدی اور لاہوری گروپ) خود کو غیرمسلم تسلیم ہی نہیں کرتے اور انہوں نے اس حوالے سے آج تک آئین کی دفعہ 260شق تین بی کو کبھی تسلیم نہیں کیا، جس کے تحت 7ستمبر 1974ء کو پیپلزپارٹی کے دورحکومت والی قومی اسمبلی نے 3ہفتے کے طویل بحث مباحثہ اورقادیانی تنظیم کے اس وقت کے سربراہ مرزا طاہراحمد کا مؤقف سن کر قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج کیاتھاا ورقادیانیوں کو غیرمسلموں کی فہرست میں شامل کیا تھا تو پھر حکومت کو یکایک قادیانیوں کو قومی اقلیتی کمشن میں نمائندگی دینے کی ضرورت کیوں آن پڑی۔

حکومت کے اس فیصلے کو جس کے بارے میں وزیر مذہبی امور یہ وضاحت کر رہے ہیںکہ ابھی اس معاملہ میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، اس حوالے سے تو صائب بھی قرار دیا جاسکتا ہے کہ اس سے قادیانیوں کے غیرمسلم والے آئینی سٹیٹس پر مہر تصدیق ثبت ہوگئی ہے مگر یہ فیصلہ صائب تبھی ہوسکتا ہے جب قادیانیوں کی قیادت کی جانب سے باضابطہ طور پر آئین کی دفعہ 260(3)Bپر صاد کرکے خود کو غیرمسلم اقلیت تسلیم کرلیاجائے اور اس بنیاد پر قومی اقلیتی کمشن میں اپنی نمائندگی کی حکومت پاکستان کو درخواست دی جائے۔ اس حوالے سے بنیادی جھگڑا ہی یہی ہے کہ قادیانی آج بھی خود کو مسلمان ظاہر کر کے مسلمانوں والے ہی مذہبی حقوق حاصل کرنا چاہتے ہیں جو آئین کی متعلقہ دفعہ کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ اس ناطے سے وہ خود کو غیر مسلموںکی کیٹگری میں شامل ہی نہیںکرتے اور اس کے برعکس وہ مرزا غلام احمد (ملعون و مردود) پر ایمان نہ لانے والے کو غیر مسلم گردانتے ہیں جن میں پاکستان کی 22 کروڑ کی آبادی میں موجود تمام مسلمان شامل ہیں تو پھر انہیںکسی بھی قسم کی مشاورت کے بغیر قومی اقلیتی کونسل میں نمائندگی دینا ان کے وہی مذہبی حقوق تسلیم کرنے کے مترادف ہوگا جس کے وہ خود کو مسلمان ظاہر کر کے داعی ہوتے ہیں۔ ان کے ان مذہبی حقوق میں مسلمانوں کی طرز کی مساجد کی تعمیر ، مسلمانوں ہی پر فرض ہونے والی نماز پنجگانہ کی ادائیگی اور فریضہ حج کی ادائیگی سمیت وہ تمام مذہبی حقوق شامل ہیں جو صرف مسلمانوں کیلئے مخصوص ہیں جبکہ آئین پاکستان نے قادیانیوں کیلئے مسلمانوں کی عبادات پر پابندی عائدکی ہوئی ہے۔ اگر قادیانی آئین کی متعلقہ شق کو تسلیم کر کے خود کو غیر مسلم اقلیت قرار دیتے ہیں تو وہ اپنے لئے مسلمان کا ٹائٹل استعمال کر سکتے ہیں نہ ان کی عبادات اور عبادت گاہوںکو اپنی عبادات اور عبادت گاہیں قرار دے سکتے ہیں۔ یہ درحقیقت ایک فتنہ ہے جو مرتد کے زمرے میں آتا ہے اور مسلمانوںکی اجتماعی قوت کو توڑنے کے لئے ایک گھنائونی سازش کے تحت کھڑا کیا گیا ہے اس لئے ہمارے عقیدۂ ختم نبوتؐ کی بنیاد پر اس فرقے کا وہی درجہ ہے جو ایک مرتد کا ہوتا ہے چنانچہ ان کے مذہبی حقوق کی بات کی جائے تو اس کے لئے ان کے اصل سٹیٹس کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

اگر اس واضح سوچ کے باوجود حکومت کی سطح پر قادیانیوں کے مذہبی حقوق کی ازخود بات کی جائے گی تو یہ سوچ ان کے گلے ہی پڑے گی ۔ حکومت کی سطح پر ایسی سوچ کے راستے مسلم لیگ (ن) کے سابق دور حکومت میں بھی نکالے جاتے رہے ہیں جب قومی اسمبلی میں اچانک ایک آئینی ترمیمی بل پیش کر کے منظور کرایا گیا جس کے تحت صدر، وزیراعظم اور ارکان پارلیمنٹ کے حلف کی عبارت کے اس حصے میں تبدیلی کر دی گئی جس کے تحت دوٹوک الفاظ میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی قرار دیا گیا ہے اور ختم نبوت پر مسلمانوں کے راسخ ایمان کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس وقت کی حکومت کو بھی اس پر لینے کے دینے پڑ گئے تھے اور وہ حلف نامہ کی عبارت سے متعلق اپنی آئینی ترمیم واپس لینے اور متعلقہ عبارت من و عن بحال کرنے پر مجبور ہو گئی۔ اب بجائے اس کے کہ حکومت کرونا وائرس کے چیلنج سے نمٹنے میں ہی کوشاں نظر آئے ، اس نے قادیانیوں کو قومی اقلیتی کمشن میں شامل کرنے کی منظوری دے کر خواہ مخواہ ہی اپنے خلاف محاذ کھڑا کر لیا ہے اور حکومتی اتحادی مسلم لیگ (ق) کے قائدین چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی تو خم ٹھونک کر اس ایشو پر حکومتی فیصلہ کی مزاحمت کیلئے میدان میں آ گئے ہیں جن کے بقول وہ حکومت کی طرف سے قادیانیوں کی پذیرائی اور آئین سے کھلواڑ کبھی قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے ساتھ ہی ساتھ حکومت کو یہ بھی باور کرا دیا کہ موجودہ حالات میں قادیانیت کا پنڈورا بکس کھولنا ناقابل فہم ہے۔ اس ایشو پر یکایک تمام مذہبی حلقے بھی مزاحمت پر آمادہ نظر آ رہے ہیں اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور متحدہ تحریک ختم نبوت کے علاوہ حکومتی ہمدرد جیدعلماء کرام کی جانب سے بھی حکومت کوباور کرایا جا رہا ہے کہ قادیانی جب تک خودکو غیر مسلم تسلیم نہیںکرتے انہیں قومی اقلیتی کمشن میں نمائندگی نہیںدی جا سکتی۔ اس حوالے سے یقینا حکمران پی ٹی آئی کو بھی سابق حکمران مسلم لیگ (ن) کی طرح اپنا فیصلہ واپس لینا پڑے گا یا قادیانیوںکی تنظیم کی جانب سے قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کا باضابطہ اعلان کرانا پڑے گا مگر یہ سوال قادیانیوں کی مذموم سرگرمیوںکے تناظر میں اٹھتا ہی رہے گا کہ قادیانیوں کی خواہش کے بغیر حکومت کو انہیں قومی اقلیتی کمشن میں نمائندگی دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ حکومتی دانشمند حلقے یقینا اس پر سوچ بچار کر رہے ہوںگے۔ اگر وہ حکومتی تحریک کے پس منظر سے بھی قوم کو آگاہ کر دیں تو حکمرانوںکا جھنڈہ بلند اور سربلندہو جائے گا۔ مگر بھائی صاحب! یہ ایسا کیا معمہ ہے جو سمجھنے کا اور سمجھانے کا نہیں ہے۔
Saeed-Aasi-nawaiwaqt